• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأحد، يونيو 24

کیا اچھے یا برے اعمال کی وجہ سے رزق میں کمی یا بیشی ہوتی ہے؟؟؟

کیا اچھے یا برے اعمال کی وجہ سے رزق میں کمی یا بیشی ہوتی ہے؟؟؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب

 
جی ہاں !
اللہ تعالى کا فرمان ہے :
وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى (طه:124)
اور جو میرے ذکر سے اعراض کرے گا تو اسکے لیے تنگ معیشت ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا کرکے اٹھائیں گے ۔
نیز فرمایا :
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (الأعراف : 96)
اور اگر بستیوں والے مؤمن اور متقى بن جاتے تو ہم ان پر آسمان وزمیں سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے مگر انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے انہیں انکے کرتوتوں کی وجہ سے سزا دی ۔
نیز فرمایا :
وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ مِنْ رَبِّهِمْ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ مِنْهُمْ أُمَّةٌ مُقْتَصِدَةٌ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ سَاءَ مَا يَعْمَلُونَ (المائدہ : 66)
اور اگر وہ لوگ تورات وانجیل اور اپنے رب کی طرف سے نازل شدہ وحی پر عمل پیرا ہوتے تو اپنے اوپر اور پاؤں کے نیچے سے کھاتے ان میں سے ایک گروہ میانہ رو ہے اور ان میں سے اکثر کے اعمال برے ہیں ۔
اور نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى وَأَسُدَّ فَقْرَكَ وَإِلَّا تَفْعَلْ مَلَأْتُ يَدَيْكَ شُغْلًا وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ
یقینا اللہ تعالى فرماتے ہیں اے ابن آدم میری عبادت کے لیے وقت نکال میں تیرے سینہ کو غناء سے بھر دوں گا اور تیری ضروریات پوری کر دوں گا اور اگر تو نے یہ کام نہ کیا تو میں تیرے ہاتھوں کو کام کاج میں مشغول کر دوں گا اور تیری ضروریات پوری نہیں کروں گا
جامع الترمذی أبواب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع باب منہ 2466

اور یہ حقیقت ہے کہ جو اللہ کے ذکر سے غافل رہتے ہیں وہ مال اگر بہت زیادہ بھی کما لیں پھر بھی انکی فقیری نہیں جاتی اور انکی ضروریات پوری ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں اور مؤمن ومتقی اگرچہ مال کم بھی کمائے لیکن اس میں ہی اسکی پوری پڑ جاتی ہے ۔

ہم نے بہت سے ایسے لوگ دیکھتے ہیں جنکی روزانہ کی آمدن لاکھوں میں ہے لیکن بے سکونی بے چینی بیماریاں اور پریشانیاں انکا پیچھا نہیں چھوڑتیں ۔
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق