• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

‏إظهار الرسائل ذات التسميات اتباع سنت. إظهار كافة الرسائل
‏إظهار الرسائل ذات التسميات اتباع سنت. إظهار كافة الرسائل

الخميس، فبراير 19

منہج اور موقف میں کیا فرق ہے ؟


منہج اور موقف میں کیا فرق ہے ؟

الجواب بعون الوہاب


منہج طریقہ کار کو کہتے ہیں اور موقف اس طریقہ کو بروئے کار لاتے ہوئے جو نتیجہ نکالا جائے
مزید پڑھیں

سلفی یا اہل الحدیث کہلوانا کیونکر جائز ہے ؟

ﮐﯿﺎ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺩﯾﻦ ﻭ ﻣﻔﺘﯿﺎﻥ ﺷﺮﻉ ﻣﺘﯿﻦ اس بارے میں کہ کیا اپنے آپ کو اہل سنت،اہلحدیث، سلفی یا اثری وغیرہ کہلوانا ضروری ہے، اور کیا اس قسم کے صفاتی القابات کتاب و سنت سے ثابت ہیں؟
کیا نبی کریم صلی الله علیه وسلم اپنے مکتوبات شریفہ میں اپنے آپ کو جماعت المسلمین،اہل قرآن یا اہلحدیث لکھواتے تھے؟
کیا نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے اپنے خلفاء اور صحابه رضی الله عنهم اجمعین کو تاکید فرمائی تھی کہ تم اہلحدیث کہلوانا؟ یا اس دور میں کسی مسجد کے باہر لکھا ہوتا تها "مسجد اہلحدیث یا مسجد اہل سنت والجماعت؟
اگر حدیث یا تاریخی حوالہ ہے تو وہ سند صحیح سے پیش کریں؟
جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں باطل گروہ نکلے تو ان کے مقابلے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کون سا اپنا نام تجویز کیا تها؟

برائے مہربانی جواب قرآن و سنت کی روشنی میں مرحمت فرما کر اجر عظیم حاصل کریں.   

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

کسی بھی انسان میں پائے جانے والے وصف کی بناء پر اسکا صفاتی نام اور کسی بھی گروہ میں پائے جانے والے وصف کی بناء پر اسکا مناسب صفاتی نام رکھنا جائز و درست ہے ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو " أھل قرآن" کے لقب سے ملقب فرمایا ہے :
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا عِيسَى عَنْ زَكَرِيَّا عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ أَوْتِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ زَادَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ مَا تَقُولُ فَقَالَ لَيْسَ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِك
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اہل قرآن! وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالى وتر ہے اور وہ وتر کو پسند کرتا ہے , ایک دیہاتی نے پوچھا آپ کیا فرما رہے ہیں تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرے یا تیرے ساتھیوں کے لیے کچھ بھی نہیں کہا 
سنن أبی داود کتاب الصلاۃ باب استحباب الوتر حـ 1416 
یعنی وہ اصحاب رسول جو قرآن کا بخوبی علم رکھنے والے تھے آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے انہیں " اہل قرآن " کہہ کر مخاطب کیا اور نماز وتر پڑھنے کی ترغیب دی ۔ 
لہذا حدیث یعنی کتاب وسنت پر غیر مشروط عمل کرنے والوں کو اہل الحدیث کہنا یا انکا لقب اہل الحدیث رکھنا بالکل درست ہے ۔
ایسے ہی سلف صالحین کی طرف نسبت کرتے ہوئے سلفی نام رکھنا اور اسی طرح دیگر صفاتی نام درست و جائز اور سنت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں 

مزید پڑھیں

کسی شخصیت کی پیروی کرنے کی دعوت دی جاسکتی ہے ؟

کسی شخصیت کی پیروی کرنے کی دعوت دی جاسکتی ہے ؟

الجواب بعون الوہاب

کتاب وسنت کی غیر مشروط اتباع کے سوا، کسی بھی چیز یا شخصیت کی غیر مشروط اتباع کی دعوت دینا جائز نہیں!
مزید پڑھیں

کتاب وسنت کو سمجھنے کے لیے مجتہد مطلق ہونا ضروری ہے ؟

کتاب وسنت کو سمجھنے کے لیے مجتہد مطلق ہونا ضروری ہے ؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

کتاب وسنت کو سمجھنے کے لیے اللہ اور اسکے رسول نے مجتہد مطلق ہونے کی شرط نہیں لگائی!

مزید پڑھیں

الأربعاء، فبراير 18

بخاری شریف کی حدیث پر عمل کرنا فرض ہے , واجب , سنت , یا مستحب ؟


بخاری شریف کی حدیث پر عمل کرنا فرض ہے , واجب , سنت , یا مستحب ؟


امام بخاری رحمہ اللہ الباری نے تو نبی مکرم ﷺ کے فرامین و افعال ہی جمع فرمائے ہیں ۔ 
اور اللہ تعالى نے نبی کریم ﷺ کی اطاعت واتباع کا حکم دیا ہے ۔ لہذا یہ بات کسی بھی ذی عقل مسلمان سے مخفی نہیں ہے کہ صحیح بخاری ہو یا کوئی اور حدیث کی کتاب ہر صحیح حدیث پر عمل کرنا , در حقیقت فرامین وسنن رسول کریم ﷺ پر عمل کرنا ہوتا ہے ۔ اور نبی ﷺ کے بعض فرمودات وافعال  وجوب کے لیے ہوتے ہیں بعض استحباب کے لیے اور بعض سنت ہوتے ہیں۔
لہذا صحیح بخاری کی تمام تر احادیث کے مطابق عقیدہ وعمل بنانا فرض ہے ! ۔ اگر ان احادیث کا تقاضا وجوب کا ہے تو ان میں مذکور عمل واجب ہوگا , اگر انکا تقاضا استحباب کا ہے تو ان پر عمل مستحب ہوگا , اور اگر انکا تقاضا صرف مسنونیت کا ہے تو ان پر عمل مسنون یعنی سنت ہوگا ۔
اور بخاری میں ہر تین طرح کی احادیث وارد ہیں ۔
اللہ تعالى نے وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ فرما کر اتباع رسول ﷺ کو واجب قرار دیا ہے ۔١٥:١٣

مزید پڑھیں