• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

السبت، مايو 5

کیا کسی ایسے شخص کو زکاتہ دے سکتے ہیں جس کے مالی حالات اچھے نہ ہوں

کیا کسی ایسے شخص کو زکاتہ دے سکتے ہیں جس کے مالی حالات اچھے نہ ہوں  لیکں اس کے پاس چند تولے سونا ہو
اور جس کو زکاتہ دی جائے اس کی مالی حثیت کیا ہو



 الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب 


صدقہ و زکاۃ کے مصارف کل آٹھ ہیں :
"اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۭفَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ ((التوبة : 60))

صدقات يقيناً صرف اور صرف فقراء ، مساکين (صدقہ کے) عاملين اور تاليف قلب اور گردنوں کو آزاد کروانے اور غارمين (جن کو چٹي پڑ جائے) اور في سبيل اللہ (جہاد) اور مسافروں کےليے ہيں ۔ يہ اللہ تعاليٰ کي طرف سے فريضہ ہے اور اللہ تعاليٰ خوب جاننے والا، حکمت والا ہے۔

ان میں سے ایک مصرف مساکین کا ہے ۔
مسکین وہ شخص ہوتا ہے جسکے ذرائع آمدن اسکی بنیادی ضروریات یعنی لباس , رہائش , اور خوراک کو پورا نہ کرتے ہوں اور وہ کسی سے سوال بھی نہ کرے ۔


author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق