• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

‏إظهار الرسائل ذات التسميات فتنہ خروج. إظهار كافة الرسائل
‏إظهار الرسائل ذات التسميات فتنہ خروج. إظهار كافة الرسائل

الخميس، فبراير 19

تشریع عام کسے کہتے ہیں ؟

تشریع عام کسے کہتے ہیں , آجکل کچھ تکفیری لوگ یہ لفظ بول کر عجیب عجیب باتیں کرتے ہیں !

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

تشریع عام کے حوالہ سے یہ اقتباس پڑھ لیں:

آل تکفیر  کے  ہاں تکفیر کی ایک بنیاد تشر یع عام  بھی ہے۔عصر حاضر کے تکفیری و خارجی گروہکا یہنظریہ ہے کہ جو کوئی کسی کبیرہ  گناہ پردوام یعنی ہمیشگی اختیار کرلے یا وہ کبیرہ گناہ کو ہلکا جان کر کرے تو ایسا کرنے والا کافر ہو جاتا ہے۔اور وہ  یہ اصول الشیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ رحمہ اللہ کے ایک قول سے اخذ کرتے ہیں
"جس کا خلاصہ یہ ہے کہ گناہ کبیرہ پر استمرار و دوام بھی ارتداد بن جاتاہے"۔
اول:  الشیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ رحمہ اللہ کی بات دین میں حجت نہیں۔ کسی بھی عالم کی بات دین میں اسوقت تک حجت نہیں جب تک قران و سنت کے دلائل سے مزین نہ ہو۔۔۔!!!
دوم:  یہ بات شرعا  بھی درست نہیں جیسا  کہ اس ضمن میں  الشیخ عبدالعزیز بن بار رحمہ اللہ کی تصریح بھی موجود ہے۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"اگرچہ وہ اس کبیرہ گناہ کو ہلکا جانتا ہویا اسپر دوام و ہمیشگی اختیار کرے،کافر نہیں ہوگا حتی کہ وہ اسے حلال  سمجھے۔ برخلاف ان کے جو آجکل یہ کہتے ہیں کہ کبیرہگناہ کا مرتکب اگر اسے ہلکا جانتے ہوئے ( یا ہمیشگی و دوام  اختیار)کرے تو وہ کفر اکبر کا مرتکب ہوکرملت اسلامیہ سے خارج ہوگیا۔ یہ بھی عین خوارج کا ہی قول ہے"
(الشیخ عبدالعزیز بن باز ؒ نے طائف /1415ھ میں سوال  و جواب کی نششت)
ہم پہلے آل تکفیر کا استدلال پیش کرتے ہیں بعد میں اس کی حقیقت حدیث رسول کی روشنی میں واضح کریں گے ۔
تکفیری حضرات کہتے ہیں :
"دور حاضر کے حکمران یا جج حضرات جس آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں اسے ایک مصدر اور منبع کی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور جج حضرات اپنے فیصلوں میں باربار اس آئین یا قانون کی طرف رجوع کرتے ہیں لہذا قرون أولی میں کسی قاضی کا کسی خاص واقعے میں شریعت کے خلاف فیصلہ کرنا اور موجودہ دور میں کسی جج کا کسی واقعے میں بار بار کسی غیر شرعی قانون کے مطابق فیصلہ کرنا اور اس قانون کے مطابق فیصلے میں استمرار کا پایا جانا ایک بالکل مختلف معاملہ ہے"۔
ہم بھی یہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں صورتیں گناہ کے اعتبار سے برابر نہیں ہیں ۔ پہلی صورت گناہ میں ہلکے درجے کی ہے جبکہ دوسری صورت کا گناہ بہت بڑھ کر ہے لیکن یہ کفر اکبر نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص کسی گناہ پر اصرار کرتا ہے تو وہ گناہ کفر نہیں بن جاتا جیسا کہ ایک شرابی زندگی بھر شراب پیتا رہے اور ایک سود خور عمر بھرسود کھاتا رہے تو اس کے اس فعل کی برائی، قباحت اور شناعت تو بڑھ جائے گی لیکن اس کا یہ فعل گناہ کبیرہ ہی رہے گا نہ کہ کفر اکبر بن جائے گا۔
صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق اللہ کے رسول کی صحبت میں رہنے والے ایک صحابی عبداللہ الحمار ؓ،شراب نوشی پر دوام اختیار کرنے والوں میں سے تھے اور اللہ کے رسول نے ان پر کئی دفعہ حد جاری فرمائی یہاں تک ایک دفعہ تنگ آکر بعض صحابہ نے اس پر لعن طعن کی کہ اتنی بار حد نافذ کرنے کے بعد بھی اس عادت کو نہیں چھوڑتے ہو تو اللہ کے رسول نے اس پر لعن طعن کرنے سے منع فرمایا اور کہا کہ میں جانتا ہوں کہ اس کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت ہے۔
(صحیح بخاری ' کتاب الحدود ' باب ما یکرہ من لعن شارب الخمر)
پس نص سے ثابت ہوا کہ کسی برائی یا کبیرہ گناہ پر دوام اسے کفر اکبر نہیں بناتالہذا اگر کسی مسئلے میں  میں ایک چیز کبیرہ گناہ ہے جیسا کہ شیخ محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ کا بھی یہی کہنا ہے تو تشریع عام میں اس گناہ کبیرہ پرہمیشگی کی صورت میں وہ کفر اکبر کیسے بن جائے گی؟۔
اگر کوئی شخص مذکورہ بالا توجیہات پر مطمئن نہ ہو تو پھرایسے شخص کو یہ کہا جا سکتا ہے کہ عقلی ومنطقی اعتبار سے شیخ محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ کا قول، ان کی جلالت علمی کے باوصف، اس لیے قابل قبول نہیں ہے کہ اس قول میں یہ بات شرعی نص کے مخالف ہے۔
انسان کا عمل ہر صورت میں اس کے عقیدے پر دلالت نہیں کرتا اور نہ ہی ہر صورت میں عمل کی عقیدے پر دلالت قطعی ہوتی ہے مثلا ً ایک شخص ساری عمر حرام سودکھاتا رہا ہے۔ اب کیا اس کا یہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ وہ سود کھانے کو جائز یا اچھا سمجھتا ہے جیسا کہ شیخ محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ کے قول میں یہ بات موجود ہے کہ حکمران یا جج ساری عمر غیر اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے کرتا رہاہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ غیر اللہ کے قانون کو کتاب وسنت سے بہتر سمجھتا ہے۔ کسی عمل پر دوام اور استمرارکسی کے عقیدے کے لیے دلیل کیسے بنتا ہے ، یہ بات قابل فہم نہیں ہے۔ زنا کا ارتکاب ایک دفعہ ہو یا کوئی شخص زنا کا عادی مجرم ہو، دونوں صورتوں میں زنا کی حد ایک ہی ہو گی یعنی زنا کے عادی مجرم کے لیے کوئی علیحدہ سے سخت حد نازل نہیں ہوئی ہے، اگرچہ عادی مجرم کا گناہ ایک دفعہ کے مرتکب کے گناہ سے بہت بڑھ کرہے
مزید پڑھیں

ولاء اور تولی میں فرق ؟ کفار کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑنے والے حکمران وافواج کافر ہیں یا مسلمان ؟

ولاء اور تولی میں کیا فرق  ہے ؟ کفار کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑنے والے حکمران وافواج کافر ہیں یا مسلمان ؟
کافروں کے ساتھ مل کر لڑنے والے مسلم حکمرانوں کو کافر قرار دینے کے لیے آیت " ومن یتولہم منکم فإنہ منہم" پیش کی جاتی ہے ۔ کیا یہ درست استدلال ہے ؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

کفار کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے قتال کرنے سے کوئی بھی شخص کافر نہیں ہوتا وہ حاکم ہو یا فوجی تفصیل کے لیے میرا یہ فتوى دیکھیں
اور یہ عمل ولاء میں تو شامل ہے لیکن تولی میں نہیں۔
ابوعمروعبدالحکی​م کی مشہور تصنیف "التبیان" جس کا اردو ترجمہ"دوستی دشمنی کا معیار"کے نام سے تکفیری حضرات بہت زوروشور سے پھیلانے پرتلے ہوئےہیں،اوراسی کتاب کو اپنے موقف کی وضاحت کے لیے حرف آخر کہتے  ہیں۔ آج ہم قارئین کے سامنے اسی کتاب کے صفحہ 58 سے 61 تک اقتباس سے بیان کریں گے کہ کفار سے دوستی کب انسان کو کافر بناتی ہے اور کب  صرف گنہگار بناتی ہے۔
 لفظ المُوالَاۃِ اور التَّوَلِّی میں ایک دقیق فرق: یہاں ایک بڑا لطیف علمی نکتہ بھی سمجھنے کے قابل ہے ۔وہ یہ کہ عربی زبان میں دوستی کے لیے ایک لفظ ’’المُوَالَاۃ‘‘ استعمال ہوتا ہے اور ایک لفظ ’’التَّوَلِّی‘‘مستمعل ہے۔لفظ الموالاۃ تو قربت ،نزدیکی ،پیروی ،مدد ،تعاون ،محبت،دوستی اور غلامی وغیرہ کے معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔لیکن لفظ ’’التَّوَلِّی‘‘ بطورخاص صرف اور صرف دومعانی پیروی اور نصرت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہی وہ معنی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں وارد ہوا ہے ،جو اللہ تعالیٰ نے شیطان کے بارے میں فرمایا :
 ﴿كُتِبَ عَلَيْهِ أَنَّهُ مَنْ تَوَلاهُ فَأَنَّهُ يُضِلُّهُ وَيَهْدِيهِ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ﴾(الحج:4) ’’
اس )شیطان(پر )اللہ کا فیصلہ (لکھ دیا گیا ہے کہ جو کوئی اس کی پیروی کرے گا وہ اسے گمراہ کردے گا اوراسے آگ ک عذاب کی طرف لے جائے گا‘‘
مذکورہ آیت کریمہ میں )مَنْ تَوَلَّاہُ(کامعنی یہ ہے کہ ’’جو اس کی پیروی کرے گا ‘‘لفظ ’’التَّوَلِّی‘‘کا دوسرا مخصوص معنی ’’مدد ونصرت ‘‘اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے فرمان میں وارد ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
﴿إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾(الممتحنۃ9:)
 ’’اللہ تعالیٰ تمہیں صرف ان لوگوں کی )مدد وتعاون (سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے لڑائیاں لڑیں اور تمہیں دیس نکالے دیے اور دیس نکالا دینے والوں کی مدد کی جو لوگ اس قسم کے کافروں کی مدد ونصرت کریں گے وہ )پکے ٹھکے(ظالم لوگ ہوں گے‘‘  مذکورہ آیت کریمہ میں بھی
 ﴿أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾
کامعنی یہ ہے کہ ’’تم ان کی مدد ونصرت کرواور جو شخص بھی ان کی مدد ونصرت کرے گا تویہی لوگ ظالم ہوں گے ‘‘  اسی طرح قرآن مجید میں ایک مقام پر ’’التَّوَلِّی‘‘مددونصرت کے معنی میں ہی استعمال ہوا ہے ۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
﴿لاَ تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اﷲُ عَلَیْہِمْ . . . . ﴾)الممتحنۃ=13:(60 ’’)
اے مسلمانو!(ایسی قوم کی مددونصرت نہ کرو جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا ہے....‘‘
 مذکورہ آیت کریمہ میں )لاَ تَتَوَلَّوْا(کامعنی ہے کہ تم دوستی نہ کرو۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور فرقان حمید میں اپنا ایک خصوصی وصف بیان کیا ہے کہ میں مومنوں کا حامی ومددگار ہوں ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
 ﴿اللہُ  وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾(البقرہ257:) 
’’ایمان لانے والوں کا اللہ تعالیٰ خود مددگار ہے ،وہ انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف خود لے جاتا ہے اور کافروں کے مددگار شیاطین ہیں وہ انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں یہ لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے ‘‘ مذکورہ آیت میں بھی ﴿ﷲُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا﴾کے الفاظ وارد ہوئے ہیں ۔ان الفاظ کا معنی ہے کہ’’اللہ تعالیٰ خود مددگار ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے ہیں ۔‘‘لہٰذا اس آیت میں’’وَلِیُّ‘‘ کامعنی مددگار ہے ۔اس طرح مذکورہ آیت میں ﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ﴾کے الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں۔ان الفاظ کا معنی ہے ’’وہ لوگ جو کافر ہیں ان کے مددگار طاغوت ہیں ۔‘‘اس آیت میں اولیاء کا معنی )زیادہ تعداد میں (مددگار‘‘ہے۔علیٰ ہٰذا القیاس۔ اللہ تعالیٰ کے کلام پاک قرآن مجید میں ایک اور مقام پر بھی یہ لفظ مددگار کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
 ﴿فَإِنَّ اللہَ هُوَ مَوْلاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ﴾(التحریم:4) 
’’یقینا اس )رسول اللہﷺ( کا مددگار اور کارساز تو اللہ تعالیٰ ہے ،جبریل  ہے اور نیک اہل ایمان ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مدد کرنے والے ہیں‘‘ مذکورہ آیت میں لفظ ’’مَولَاہُ‘‘ کامعنی ’’اس کامددگار ‘‘ہے۔
مذکورہ آیت میں لفظ ’’مَولَاہُ‘‘ کامعنی ’’اس کامددگار ‘‘ہے۔ نیز قرآن مجید کے ایک اور مقام پربھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور وہاں بھی یہ مددگار کے معنی میں ہی ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ذٰلِکَ بِاَنَّ اﷲَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لاَ مَوْلٰی لَہُمْ﴾)سورۂ محمد(4: ’’)
اللہ تعالیٰ نے کافروں کو سزائیں دیں (اس لیے کہ ایمان والوں کا مددگار اور کارساز خود اللہ تعالیٰ ہے اورکافروں کا کوئی بھی مددگارنہیں ہے‘‘ مذکورہ آیت کریمہ میں بھی لفظ ’’مَولیٰ‘‘دودفعہ استعمال ہوا ہے ۔دونوں جگہ اس کامعنی ومددگار اور کارساز ہے ۔  یہ چند آیات بطور مثال ذکر کی گئی ہیں ان کے علاوہ جہاں جہاں بھی یہ لفظ وارد ہوا ہے اکثر وبیشتر اِسی معنی میں ہے ۔ مذکورہ بالا ساری گفتگو کالب ولباب یہ ہے کہ لفظ ’’التَّوَلِّی‘‘لفظ’’المُوَالَاۃ‘‘سے زیادہ خصوصیت کا حامل ہے۔ ’’التَّوَلِّی‘‘ کامطلب یہ ہے کہ ’’عَلَی الاِطلَاق‘‘)غیر مشروط طور پر(پیروی اور فرمانبرداری کرتے جانا اورپوری پوری مدد ونصرت کرنا۔‘‘مذکورہ بالا گفتگو سے یہ بھی معلوم ہوا کہ التَّوَلِّی اورالمُوَالَاۃکےدرمیان عموم اور خصوص کی نسبت ہے ۔ 
 شیخ عبداللہ بن عبداللطیف حفظہ اللہ فرماتے ہیں : ’’التَّوَلِّی‘‘ اور’’المُوَالَاۃ‘‘کے مابین بیان کیے گئے اِسی فرق کو ہی ملحوظ رکھتے ہوئے الشیخ عبداللہ بن عبداللطیف رقمطراز ہیں :
 ’’التَّوَلِّی کُفْرٌ یُخرِجُ مِنَ المِلَّۃِ وَ ھُوَ کَالذَّبِّ عَنْھُمْ وَ اِعَانَتِھِمْ بِالْمَالِ وَالْبَدْنِ وَالرَّأْیِ ۔ وَالمُوَالَاۃُ کَبِیْرَۃٌ مِنَ الْکَبَائِرِ ۔ کَبَلَّ الدَّوَاۃِ وَ بَرِیِ الْقَلَمِ وَالتَّبَشُّشِ أَوْ رَفْعِ السَّوْطِ لَھُم۔‘‘ 
 ’’کافروں کے ساتھ التولی والا تعلق واضح کفر ہے جو ملت اسلامیہ سے خارج کردیتا ہے ۔مثلاً کافروں کا بھرپور دفاع کرنا ۔نیز دامے ،درہمے ،سخنے اور قدمے ان کا پورا تعاون کرنا ۔جبکہ کافروں سے المُوَالَاۃجیسادوستانہ تعلق اگرچہ ملتِ اسلامیہ سے نکالنے والا کفر نہیں مگر وہ کبیرہ گناہوں میں سے ایک بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے۔‘‘مثلاً  کافروں کی خاطر اپنے قلم وقرطاس کو حرکت میں لانا اور ان کی پالیسیوں کی حمایت میں مضامین (Articles) تحریرکرنا۔  کافروں کو خوش کرنے کے لیے ان کی خاطر بچھ بچھ جانا اور صدقے واری جانا۔  مسلمانوں کے خلاف پولیس وفوج کو حرکت میں لے آنا اور گولی وبندوق کا رخ مسلمانوں کی طرف کردینا ۔یہ سب اعمال کبیرہ گناہوں میں سے ہیں ۔‘‘
 (التبیان،ترجمہ دوستی دشمنی کا معیار از ابوعمروعبدالحکی​م حسان صفحہ 58تا61)

اس اقتباس میں آپ نے تکفیریوں کی ہی کتب میں بڑی وضاحت کے ساتھ پڑھ لیا ہے کہ کافروں سے التولی والا تعلق واضح کفر ہے،یعنی ان کا بھرپور دفاع کرنا جبکہ کافروں سے المولاۃ جیسا دوستانہ تعلق انہیں اسلام سے خارج نہیں کرتا بلکہ گناہ کبیرہ کامرتکب کردیتا ہے،اور اس کی مثالیں بھی دی ہیں جیسے 
کافروں کی خاطر اپنی قلم اور قرطاس چلانا،کفار کو خوش کرنےکےلیے بچھ بچھ جانا اور کفار کی خاطر مسلمانوں کے خلاف تلوار،بندوق یا گولی چلانا یہ سب اعمال المولاۃ میں شامل ہیں،اور یہ  کام انسان کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتے،بلکہ گنہگار کرتے ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ افغانستان کی جنگ میں پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا ہی نہیں،(جس کی وضاحت آگے آرہی ہے)اور اگر دیا بھی ہے تو وہ جس نویت کا تعاون بھی تکفیری ثابت کرتے ہیں تو اس کے مطابق ان کی اپنی کتابوں سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ فعل کفر نہیں ہے۔پھر کس بنیاد پر پاکستان کے حکمرانوں یا فوج کو کافر قرار دے کر ہزاروں مسلمانوں کا خون بہاکربھی آگ اور خون کی ہولی کھیل رہے ہیں؟
مزید پڑھیں

کیا تمام تر مسلم ممالک کے حکمران کافر ہیں ؟

بعض لوگ کہتے ہی کہ جتنے بھی اسلامی ممالک کے حكمران ہی وہ کافر ہی کیونکہ وہ کفار کے ساتھ مل کر مسلمانو کو مارتے ہی تفصيل سے دلائل کے ساتھ جواب دین جزا کم اللہ خير
سائل : نوید

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب 

مسلمان کسی کافر کے ساتھ مل کر یا اکیلا ہی کسی بھی مسلمان کو قتل کرے تو اسکا یہ عمل یعنی "قتل مسلم" اسے دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتا کیونکہ اللہ تعالى کا فرمان ہے :
وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِن فَاءتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ [الحجرات : 9]
اور اگر مؤمنوں کے دو گروہ آپس میں قتال کریں تو ان میں صلح کروا دو .... الخ
اللہ نے دونوں گروہوں کو مؤمن کہا ہے جبکہ دونوں ایک دوسرے کو قتل کرنے والے ہیں ۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ ان میں سے کوئی ایک حق پر ہوگا اور دوسرا نہیں , یا کوئی ایک حق کے زیادہ قریب ہوگا اور دوسرا کم ۔
پھر کافروں اور مسلمانوں کا مل کر کسی مسلمان کے خلاف لڑنا مختلف طرح سے ہوتا ہے ۔

  1. اصلا لڑنے والا مسلمان ہے کافر اپنے کسی مفاد کی خاطر شامل ہوا۔
  2. اصلا لڑنے والا کافر اور مسلمان دونوں ہیں , دونوں کے ہی متفقہ یا مختلف مفادات اور مقاصد ہیں 
  3. اصلا لڑنے والا کافر ہے اور مسلمان کافر کے ساتھ کافر کو دھوکہ دینے کی غرض سے شامل ہوا ہے ۔
  4. اصلا لڑنے والا کافر ہے اور مقصود ملت اسلامیہ کا خاتمہ ہے , اور کلمہ گو لوگ اسلام کو مٹانے میں کافر کا ساتھ دیں 
پہلی تین صورتوں میں مسلمان کافر نہیں ہوگا۔ جبکہ تیسری صورت میں خواہ وہ لڑے یا نہ لڑے کافر ہو جائے گا ۔ 
اور یہ چوتھی صورت آج تک کہیں بھی پیدا نہیں ہوئی کہ کوئی مسلم حکمران ہو اور وہ اسلام کو مٹانے میں کفار کا ساتھ دے !
مزید پڑھیں