• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

‏إظهار الرسائل ذات التسميات حنفی اشکالات کے جوابات. إظهار كافة الرسائل
‏إظهار الرسائل ذات التسميات حنفی اشکالات کے جوابات. إظهار كافة الرسائل

الأربعاء، فبراير 18

بخاری شریف کی حدیث پر عمل کرنا فرض ہے , واجب , سنت , یا مستحب ؟


بخاری شریف کی حدیث پر عمل کرنا فرض ہے , واجب , سنت , یا مستحب ؟


امام بخاری رحمہ اللہ الباری نے تو نبی مکرم ﷺ کے فرامین و افعال ہی جمع فرمائے ہیں ۔ 
اور اللہ تعالى نے نبی کریم ﷺ کی اطاعت واتباع کا حکم دیا ہے ۔ لہذا یہ بات کسی بھی ذی عقل مسلمان سے مخفی نہیں ہے کہ صحیح بخاری ہو یا کوئی اور حدیث کی کتاب ہر صحیح حدیث پر عمل کرنا , در حقیقت فرامین وسنن رسول کریم ﷺ پر عمل کرنا ہوتا ہے ۔ اور نبی ﷺ کے بعض فرمودات وافعال  وجوب کے لیے ہوتے ہیں بعض استحباب کے لیے اور بعض سنت ہوتے ہیں۔
لہذا صحیح بخاری کی تمام تر احادیث کے مطابق عقیدہ وعمل بنانا فرض ہے ! ۔ اگر ان احادیث کا تقاضا وجوب کا ہے تو ان میں مذکور عمل واجب ہوگا , اگر انکا تقاضا استحباب کا ہے تو ان پر عمل مستحب ہوگا , اور اگر انکا تقاضا صرف مسنونیت کا ہے تو ان پر عمل مسنون یعنی سنت ہوگا ۔
اور بخاری میں ہر تین طرح کی احادیث وارد ہیں ۔
اللہ تعالى نے وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ فرما کر اتباع رسول ﷺ کو واجب قرار دیا ہے ۔١٥:١٣

مزید پڑھیں

اکیلا نمازی اور مقتدی ہمیشہ تکبیر تحریمہ آہستہ آواز سے کہتے ہیں ۔ صریح حدیث سے دکھائیں ؟

اکیلا نمازی اور مقتدی ہمیشہ تکبیر تحریمہ آہستہ آواز سے کہتے ہیں ۔ صریح حدیث سے دکھائیں ؟



اللہ تعالى کا فرمان ہے : واذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ (الأعراف :205) اور ڈرتے ہوئے , اپنے دل میں , تضرع کے ساتھ , اونچی آواز نکالے بغیر صبح وشام اپنے رب کا ذکر کر, اور غافلوں میں سے نہ ہو جا ۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالى نے ذکر کا اصول بتایا ہے کہ اللہ کا ذکر دل میں , اونچی آواز نکال بغیر کیا جائے ۔ لہذا تمام تر اذکار دل میں ہی کیے جائیں اور اونچی آواز نکالے بغیر کیے جائیں , ہاں جو اذکار جن مواقع پر بآواز بلند کرنا ثابت ہیں وہ ان موقعوں پر اونچی آواز سے کیے جائیں گے ۔ کیونکہ وہ شرعی دلیل کے ذریعہ اس قاعدہ کلیہ سے مستثنى ہو گئے ہیں ۔ اور تکبیر , یعنی اللہ اکبر بھی اللہ کا ذکر ہی ہے ۔ اس پر بھی یہی قانون لاگو ہوگا کہ یہ بھی دل میں , اونچی آواز نکالے بغیر کہی جائے , ہاں مکبر اور امام کا بآواز بلند تکبیرات انتقال کہنا شرعی دلیل سے ثابت ہے لہذا وہ اس اصول سے مستثنى ہیں ۔ خوب سمجھ لیں
مزید پڑھیں