• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

السبت، مايو 25

رخصتی سے قبل ہی موبائل میسج کے ذریعہ تین طلاقیں بیک وقت لکھ بھیجیں , کیا اب انکے لیے رجوع کا کوئی امکان ہے ؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارہ میں کہ : وقاص اظہر کا نکاح سدرہ مظہر سے ہوا , اور اس نے  رخصتی سے قبل ہی موبائل میسج کے ذریعہ تین طلاقیں بیک وقت لکھ بھیجیں , کیا اب انکے لیے رجوع کا کوئی امکان ہے ؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب

اللہ رب العالمین کا فرمان ذی شان ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا (الأحزاب:49)
اے اہل ایمان جب تم مؤمنہ عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انہیں چھونے سے قبل ہی طلاق دے دو تو تمہاری خاطر انکے ذمہ کوئی عدت نہیں ہے , لہذا انہیں فائدہ پہنچاؤ اور اچھے طریقے سے چھوڑ دو ۔
اس آیت کریمہ کی رو سے ثابت ہوتا ہے کہ رخصتی سے قبل دی گئی طلاق فورا واقع ہو جاتی ہے اور اسکے بعد رجوع کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا ۔ ہاں اگر دونوں دوبارہ صلح کرنا چاہیں تو انہیں نیا نکاح کروانا پڑے گا ۔
یاد رہے کہ رخصتی سے قبل اگر طلاق دے دی جائے تو اس مرد پر لازم ہے کہ مقرر کردہ حق مہر میں سے آدھا مہر عورت کو ادا کرے ۔ ارشاد باری تعالى  ہے :
وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (البقرة :237)
اور اگر تم انہیں رخصتی سے قبل ہی طلاق دے دو اور انکے لیے تم نے حق مہر مقرر کر رکھا ہو تو آدھا حق مہر ادا کرنا ہوگا , الا کہ وہ عورتیں (حق مہر ) معاف کر دیں یا وہ شخص معاف کر دے جسکے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے (یعنی عورتوں کے اولیاء ) لیکن اگر تم معاف کر دو (یعنی آدھے کے بجائے پورا ہی ادا کر دو ) تو یہ تقوى کے زیادہ قریب ہے ۔ اور آپس کی فضیلت کو نہ بھولو (یعنی مردوں کو اللہ نے عورتوں پر فضیلت دی ہے لہذا مرد آدھا حق مہر معاف کروانے کی بجائے پورا ہی دینے کی کوشش کرے ) یقینا اللہ تعالى تمہارے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے ۔
رہی ایک  ہی میسج میں تین بار طلاق لکھ دینے کی بات , تو ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی ہیں ۔ ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک شمار کرنا رسول اللہﷺ  ، ابوبکرt، اورعمر فاروق  کی خلافت کے ابتدائی دوسالوں تک چلتا رہا پھر جناب عمر نے ایک مجلس کی تین طلاقوں پر تین کا حکم لگا دیا تھا جیساکہ عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ:(کان الطلاق علی عہد رسول اللہﷺ  وأبی بکر t وسنتین من خلافت عمرt طلاق الثلاث واحدۃ فقال عمر بن الخطاب t إن الناس قد استعجلوا فی أمر کانت لہم فیہ أناۃ فلو أمضیناہ علیہم فأمضاہ علیہم
[مسلم کتاب الطلاق باب طلاق الثلاث (1472)]
    رسول اللہﷺ  ،ابوبکر tاور عمرفاروقtکی خلافت کے ابتدئی دوسالوں میں اکٹھی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا پھر سیدنا عمر بن خطاب t نے فرمایا جس کام میں لوگوں کے لیے سوچ بیچار کا موقع تھا اس میں انہوں نے جلدی شروع کردی ہے تو ہم ان پر تینوں ہی لازم کردیتے ہیں لہذا انہوں نے تینوں ہی لازم کردیں۔
    یادرہے کہ سیدنا عمر فاروق t کا یہ فیصلہ سیاسی اور تہدیدی تھا جیساکہ فقہ حنفی کی مشہور کتاب حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار 6/511،جامع الرموز1/506،مجمع الأنہر شرح ملتقی الأبحر میں بھی لکھا ہے کہ:واعلم أنَّ فی الصدر الأول إذا أرسل الثلاث جملۃ لم یحکم إلا بوقوع واحدۃ إلی زمن عمر ثم حکم بوقوع الثلاث لکثرتہ بین الناس تہدیدًا
    ترجمہ:اسلام کے ابتدائی دور سے لیکر عمرtدور خلافت تک جب اکٹھی تین طلاقیں بھیجی جاتیں تو ان پر ایک طلاق کا حکم لگایا جاتا پھر جب یہ عادت لوگوں میں زیادہ ہوگئی تو پھر تہدیدی طور پر تین طلاقوں کا حکم لگا دیا گیا ۔
    فقہ حنفی کی محولہ کتب کی اس صراحت سے یہ بات ظاہر ہو گئی ہے کہ سیدنا عمر t کا فیصلہ سیاسی اور تہدیدی تھا ۔جبکہ رسول اللہﷺ  کا فیصلہ شرعی اور حتمی ہے ۔لہذا ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی طلاق کا حکم رکھتی ہیں ۔
    مگر بعض لوگوں نے آجکل حلالہ کا طریقہ رائج کر رکھا ہے کہ ایک مرد کے ساتھ عورت کانکاح مدت مقررہ تک کے لیے کر دیا جاتا ہے پھر وہ اس مدت کے پورا ہونے کے بعد عورت کو طلاق دے دیتا ہے اور پھر پہلا خاوند اس سے دوبارہ نکاح کر لیتا ہے ۔ یہ قطعاً جائز نہیں ہے بلکہ رسول اللہﷺ  نے لعنت فرمائی ہے :[لعن اللہ المُحَلِّل والمُحَلَّل لہ ] حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے ان دونوں اللہ کی لعنت ہو۔
[أبوداود کتاب النکاح باب فی التحلیل (2076)،ترمذی أبواب النکاح باب ماجاء فی المحل والمحلل لہ (1119) ]
    لغت حدیث کی معروف کتاب النہایة فی غریب الأثر والحدیث لابن أثیر1/431میں حلالہ کی تعریف یوں کی گئی ہے (ہو أن یطلق رجل امرأتہ ثلاثا فیتزوجہا رجل آخر علی شریطۃ أن یطلقہا بعد وطئہا لتحل لزوجہا الأول) وہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس عورت کے ساتھ دوسرا آدمی اس شرط پر نکاح کرے کہ وہ اس عورت سے جماع کرنے کے بعد اس کو طلاق دے دے گا تاکہ وہ عورت پہلے خاوند کے لے حلال ہوجائے۔
    احناف کی فقہی اصطلاح پر لکھی گئی کتاب القاموس الفقہی کے صفحہ 100 پر مُحَلِّل (حلالہ کرنےوالا)کی یہ تعریف درج ہے:المُحَلِّلُ:ہو المتزوج ثلاثا لتحل للزوج الأوّل وفی الحدیث الشریف لعن اللہ المحلِّل والمحلَّل لہ
(ترجمہ)محلِّل سے مراد وہ آدمی ہے جو تین دفعہ طلاق شدہ عورت سے شادی کرتا ہے تاکہ اس عورت کو پہلے خاوند کے لیے حلال کر دے اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جاتا ہے دونوں پر لعنت کرے ۔لہذا حلالہ کا مروجہ طریقہ کار بالکل حرام ہے ۔



ہذا ما عندی واللہ تعالی أعلم وعلمہ أکمل وأتم ورد العلم إلیہ أسلم والشکر والدعا لمن نبہ وأرشد وقوم
مزید پڑھیں

پرانی بوسیدہ مسجد جو کہ تقریبا گر چکی ہے کیا ہم پرانی مسجد کو نئی جگہ منتقل کر سکتے ہیں؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارہ میں کہ : پرانی بوسیدہ مسجد جو کہ تقریبا گر چکی ہے کیا ہم پرانی مسجد کو نئی جگہ منتقل کر سکتے ہیں؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب

اللہ رب العالمین کا فرمان ذی شان ہے :
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَى أُولَئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ (التوبة :18)
یقینا اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائیں , نماز قائم کریں , زکاۃ ادا کریں , اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں , تو یقینا یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ۔
نیز فرمایا :
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا أُولَئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ( البقرة: 114)
بھلا اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جس نے اللہ کی مساجد میں اللہ کا نام ذکر کرنے سے روکا اور انہیں ویران کرنے کی کوشش کی , یہ ایسے لوگ ہیں کہ جن کے لیے ان میں داخل ہونا جائز ہی نہیں ہے الا کہ وہ (اللہ سے ) ڈرتے ہوئے (داخل ہوں) انکے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے ۔
 ان آیات بینات سے معلوم ہوتا ہے کہ مساجد کی آباد کاری اللہ تعالى کو مطلوب ومقصود ہے اور انکی ویرانی اللہ کو ناپسند ہے ۔ لہذا مساجد ایسی جگہ بنائی جائیں جہاں انہیں آباد رکھا جاسکے اور اللہ کا ذکر ان میں کیا جاسکے ۔ اور اگر کبھی آبادی  یا مکینوں کے منتقل ہونے کی بناء پر کوئی مسجد ویران و بے آباد ہو رہی ہو تو اسے دوسری جگہ بھی منتقل کیا جاسکتا ہے ۔ کیونکہ اصل مقصود مساجد کی آباد کاری ہے ۔
اسی بناء پر سیدنا عمر بن خطاب t نے اپنے دور خلافت میں ایک مسجد جو کہ آبادی سے دور تھی اسے مارکیٹ کے قریب منتقل فرما دیا تھا ۔ (فتاوى ابن تیمیہ)



ہذا ما عندی واللہ تعالی أعلم وعلمہ أکمل وأتم ورد العلم إلیہ أسلم والشکر والدعا لمن نبہ وأرشد وقوم
مزید پڑھیں

ایک مجلس میں تینوں طلاقیں لکھ دیں مگر طلاق نامہ بیوی تک نہیں پہنچا ۔

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارہ میں کہ : میرے اور میری بیوی کے مابین جھگڑا ہوا جس پر میری بیوی نے اپنے بھائیوں کو بلالیا اور خوب لڑائی جھگڑا ہوا ۔ جسکے بعد انہوں نے مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیا تو میں نے ایک کاغذ پر تین دفعہ طلاق لکھ دی  لیکن ابھی میں نے اپنے دستخط نہیں کیے تھے کہ میرے بھائی نے آ کر اس طلاق نامہ کو پھاڑ دیا ۔ اب اس صورت میں کیا یہ طلاق واقع ہو گئی ہے ؟ اور کیا رجوع کا حق مجھے حاصل ہے یا نہیں ۔ ؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
اللہ رب العالمین نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے :الطلاق مرتان (البقرۃ:229)طلاق دو مرتبہ ہے ۔ لغت عربی میں لفظ مرۃکا معنی دفعۃ بعد دفعۃ ہے ۔یعنی ایک کام کو کرنے کے بعد وقفہ کرکے پھر اس کام کو دوبارہ سر انجام دینا ۔ یہی مفہوم قرآن حکیم کی اس آیت سے بھی واضح ہوتا ہے :یاأیہا الذین اٰمنوا لیستئذنکم الذین ملکت أیمانکم والذین لم یبلغوا الحلم منکم ثلث مرات من قبل صلاۃ الفجر وحین تضعون ثیابکم من الظہیرۃ ومن بعد صلاۃ العشاء ثلث عورات لکم ۔(النور :85)
ترجمہ:اے اہل ایمان ! تمہارے غلام اور نابالغ بچے بھی تم سے تین دفعہ اجازت طلب کریں ۔ نمازفجر سے قبل ،جب تم ظہر کے وقت اپنا لباس اتارتے ہو، اور نمازعشاء کے بعد ۔ یہ تین اوقات تمہارے پردے کے ہیں۔
    اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے لفظ مرات استعمال کیا ہے جوکہ مرۃ کی جمع ہے ۔ اور پھر اللہ تعالی نے خود ہی اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے تین مختلف اوقات بیان کیے ہیں جوکہ ایک دوسرے سے کافی دور ہیں ۔ اور الطلاق مرتان میں لفظ مرتان استعمال ہوا ہے جوکہ مرۃ کی تثنیہ ہے جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ طلاق دومرتبہ وقفہ وقفہ کے ساتھ ہے جس کے بعد مرد کو رجوع کا حق حاصل ہے۔ پھر اگر تیسری دفعہ طلاق دےدے تو عورت اس مرد پر حرام ہو جائے گی ۔ ہاں ایک صورت ہے کہ اس عورت کا نکاح کسی دوسرے شخص کے ساتھ معروف طریقے سے ہوجائے پھر آپس کی ناچاکی کیوجہ سے وہ دوسرا مرد بھی اس کو طلاق دے دیتا ہے یا وہ فوت ہو جاتا ہے تو یہ عورت عدت گزارنے کے بعد پہلے خاوند سے نکاح کروا سکتی ہے ۔(البقرۃ:230)
    مگر بعض لوگوں نے آجکل حلالہ کا طریقہ رائج کر رکھا ہے کہ ایک مرد کے ساتھ عورت کانکاح مدت مقررہ تک کے لیے کر دیا جاتا ہے پھر وہ اس مدت کے پورا ہونے کے بعد عورت کو طلاق دے دیتا ہے اور پھر پہلا خاوند اس سے دوبارہ نکاح کر لیتا ہے ۔ یہ قطعاً جائز نہیں ہے بلکہ رسول اللہﷺ  نے لعنت فرمائی ہے :[لعن اللہ المُحَلِّل والمُحَلَّل لہ ] حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے ان دونوں اللہ کی لعنت ہو۔
[أبوداود کتاب النکاح باب فی التحلیل (2076)،ترمذی أبواب النکاح باب ماجاء فی المحل والمحلل لہ (1119) ]
    لغت حدیث کی معروف کتاب النہایة فی غریب الأثر والحدیث لابن أثیر1/431میں حلالہ کی تعریف یوں کی گئی ہے (ہو أن یطلق رجل امرأتہ ثلاثا فیتزوجہا رجل آخر علی شریطۃ أن یطلقہا بعد وطئہا لتحل لزوجہا الأول) وہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس عورت کے ساتھ دوسرا آدمی اس شرط پر نکاح کرے کہ وہ اس عورت سے جماع کرنے کے بعد اس کو طلاق دے دے گا تاکہ وہ عورت پہلے خاوند کے لے حلال ہوجائے۔
    احناف کی فقہی اصطلاح پر لکھی گئی کتاب القاموس الفقہی کے صفحہ 100 پر مُحَلِّل (حلالہ کرنےوالا)کی یہ تعریف درج ہے:المُحَلِّلُ:ہو المتزوج ثلاثا لتحل للزوج الأوّل وفی الحدیث الشریف لعن اللہ المحلِّل والمحلَّل لہ
(ترجمہ)محلِّل سے مراد وہ آدمی ہے جو تین دفعہ طلاق شدہ عورت سے شادی کرتا ہے تاکہ اس عورت کو پہلے خاوند کے لیے حلال کر دے اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جاتا ہے دونوں پر لعنت کرے ۔لہذا حلالہ کا مروجہ طریقہ کار بالکل حرام ہے ۔
اگر بیک وقت دی گئی تین طلاقوںکو نافذ کردیا جائے تو دو طلاقوں کے درمیانی وقفہ میں مرد کے لیے سوچ بیچار کی جو مہلت تھی وہ ختم ہو جائے گی ۔
    امام الأنبیاء جناب محمد مصطفیﷺ  ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کرتے تھے جیساکہ اس حدیث سے واضح ہے :(طلق رکانۃ بن عبد یزید أخو المطلب امرأتہ ثلاثا فی مجلس واحد فحزن علیہا حزنا شدیدًا فسألہ رسول اللہ ~ کیف طلقتہا قال طلقتہا ثلاثا فقال فی مجلس واحد قال نعم قال فإنما تلک واحدۃ فارجعہا إن شئت قال فرجعہا)رکانہ بن عبدیزید جوکہ مطلب کے بھائی ہیں انہوں نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں پھر اس پر شدید غمگین ہوئے تو رسول اللہﷺنے پوچھا تونے کیسے طلاق دی تھی اس نے کہا  میں نے تین طلاقیں دی ہیں آپﷺ نے پوچھا ایک ہی مجلس میں ؟ اس نے کہا جی ہاں آپﷺ  نے فرمایا بےشک یہ تو صرف ایک ہی ہے اگر تو چاہتا ہے تو رجوع کر لے (راوی حدیث حضرت عبد اللہ بن عباس)فرماتے ہیں انہوں نے رجوع کر لیا[مسند أحمد ومن مسند بنی ہاشم مسند عبد اللہ بن عباس(2383)أبوداود کتاب الطلاق باب فی البتۃ (2208،2206)]
    اس حدیث کے بارے میں حافظ ابن حجرؒفتح الباری شرح صحیح بخاری میں کتاب الطلاق باب من أجاز طلاق الثلاث کے تحت رقمطراز ہیں کہ :وہذا الحدیث نص فی المسئلۃ لایقبل التأویل الذی فی غیرہ من الروایات
    ترجمہ:اس حدیث نے مسئلہ کی ایسی وضاحت کی ہے کہ جس میں اس تاویل کی گنجائش باقی نہیں ہے جوکہ دوسری روایات میں کی جاتی ہے۔
    ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک شمار کرنا رسول اللہﷺ  ، ابوبکرt، اورعمر فاروق  کی خلافت کے ابتدائی دوسالوں تک چلتا رہا پھر جناب عمر نے ایک مجلس کی تین طلاقوں پر تین کا حکم لگا دیا تھا جیساکہ عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ:(کان الطلاق علی عہد رسول اللہﷺ  وأبی بکر t وسنتین من خلافت عمرt طلاق الثلاث واحدۃ فقال عمر بن الخطاب t إن الناس قد استعجلوا فی أمر کانت لہم فیہ أناۃ فلو أمضیناہ علیہم فأمضاہ علیہم [مسلم (1472)]
    رسول اللہﷺ  ،ابوبکر tاور عمرفاروقtکی خلافت کے ابتدئی دوسالوں میں اکٹھی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا پھر سیدنا عمر بن خطاب t نے فرمایا جس کام میں لوگوں کے لیے سوچ بیچار کا موقع تھا اس میں انہوں نے جلدی شروع کردی ہے تو ہم ان پر تینوں ہی لازم کردیتے ہیں لہذا انہوں نے تینوں ہی لازم کردیں۔
    یادرہے کہ سیدنا عمر فاروق t کا یہ فیصلہ سیاسی اور تہدیدی تھا جیساکہ فقہ حنفی کی مشہور کتاب حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار 6/511،جامع الرموز1/506،مجمع الأنہر شرح ملتقی الأبحر میں بھی لکھا ہے کہ:واعلم أنَّ فی الصدر الأول إذا أرسل الثلاث جملۃ لم یحکم إلا بوقوع واحدۃ إلی زمن عمر ثم حکم بوقوع الثلاث لکثرتہ بین الناس تہدیدًا
    ترجمہ:اسلام کے ابتدائی دور سے لیکر عمرtدور خلافت تک جب اکٹھی تین طلاقیں بھیجی جاتیں تو ان پر ایک طلاق کا حکم لگایا جاتا پھر جب یہ عادت لوگوں میں زیادہ ہوگئی تو پھر تہدیدی طور پر تین طلاقوں کا حکم لگا دیا گیا ۔
    فقہ حنفی کی محولہ کتب کی اس صراحت سے یہ بات ظاہر ہو گئی ہے کہ سیدنا عمر t کا فیصلہ سیاسی اور تہدیدی تھا ۔جبکہ رسول اللہﷺ  کا فیصلہ شرعی اور حتمی ہے ۔لہذا ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی طلاق کا حکم رکھتی ہیں جسکے بعد خاوند کو رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ۔
اور طلاق یافتہ خواتین کے لیے اللہ رب العالمین نے عدت تین حیض متعین فرمائی ہے :والمطلقات یتربصن بأنفسہن ثلاثۃ قروء  ۔  اور طلاق یافتہ عورتیں تین حیض تک انتظار کریں (عدت گزاریں) (البقرۃ )
اور جن عورتوں کو حیض آنا بند ہو چکا ہو یا شروع ہی نہ ہوا ہو تو انکے لیے اللہ تعالی نے تین ماہ عدت متعین فرمائی ہے اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل متعین کی گئی ہے اللہ تعالی فرماتے ہیں :واللآئی یئسن من المحیض من نسائکم إن ارتبتم فعدتہن ثلاثۃ اشہر واللآئی لم یحضن و اولات الاحمال اجلہن أن یضعن حملہن ( الطلاق : 4 )
اور وہ عورتیں جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں اور جنہیں حیض شروع ہی نہیں ہوا انکی عدت تین ماہ ہے اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔
صورت مسؤلہ میں ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی  ہے جس کے بعد خاوند کو دوران عدت رجوع اور بعد از عدت تجدید نکاح کا حق حاصل ہے۔

ہذا ما عندی واللہ تعالی أعلم وعلمہ أکمل وأتم ورد العلم إلیہ أسلم والشکر والدعا لمن نبہ وأرشد وقوم
مزید پڑھیں

مرحوم کی وہ بیٹی جو انکی زندگی میں وفات پا گئی تھی اسکی اولاد اس ترکہ میں حقدار ہے یا نہیں ۔

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارہ میں کہ : قاضی آفتاب احمد بقضائے الہی وفات پاگئے انکے ترکہ میں ایک مکان برقبہ پانچ مرلہ ہے ۔ ورثان میں ایک بیوہ ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے ,انکی زندگی میں انکی ایک بیٹی فوت ہوگئی تھی اسکی اولاد موجود ہے ۔ مرحوم کے ورثاء میں سے بیوہ اور بیٹی نے اپنا اپنا حصہ مرحوم کے بیٹے کو ہبہ کر دیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ مرحوم کی وہ بیٹی جو انکی زندگی میں وفات پا گئی تھی اسکی اولاد اس ترکہ میں حقدار ہے یا نہیں ۔

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

۱۔ میت کے حقیقی بیٹے کی موجودگی میں میت کے پوتوں یا  نواسوں  کو وراثت میں سے کچھ بھی حصہ نہیں ملتا ۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ (صحیح بخاری : ۶۷۳۲)
جن لوگوں کے حصص کتاب وسنت میں مذکور ہیں انہیں انکا حصہ دو اور جو باقی بچ جائے وہ قریبی ترین مرد رشتہ دار کے لیے ہے ۔
صورت مذکورہ میں میت کے تین ورثاء ہیں جنکے حصص کتاب اللہ میں ذکر ہیں میت کی بیوی اسکا آٹھواں حصہ ہے اور میت کا بیٹا اور بیٹی انکے لیے "للذکر مثل حظ الانثیین" یعنی باقی ماندہ تمام تر مال  بیٹے کو بیٹی سے دوگنا دینے کا قانون مقرر ہے ۔
لہذا اس حدیث مبارکہ اور قرآنی اصول کے مطابق میت کے نواسوں کا میت کے ترکہ میں کوئی حق نہیں ہے ۔
۲۔ میت کی بیوہ اور بیٹی نے اپنے حصہ میں آنے والا سارا مال میت کے ایک بیٹے کو ہبہ کر دیا ہے ۔ اگر یہ موہوبہ مال واہب کی کل جائیداد کا ایک تہائی یا اس سے کم ہے تو یہ ہبہ درست ہے وگرنہ غلط ۔
کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کرنے , صدقہ کرنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ (صحیح بخاری:۱۲۹۵ , ۲۷۴۴ , صحیح مسلم: ۱۶۶۸)

ہذا , واللہ تعالى أعلم و علمہ أکمل واتم , ورد العلم الیہ أسلم, والشکر والدعاء لمن نبہ وأرشد وقوم



مزید پڑھیں

نکاح پر نکاح

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارہ میں کہ : ایک لڑکی کا نکاح اور رخصتی ہو چکی تھی , کچھ ماہ بعد بغیر طلاق کے اس لڑکی کا نکاح عمدا دوسرے لڑکے سے کرا دیا گیا ۔ کیا یہ دوسرا نکاح صحیح ہے؟ اس دوسرے نکاح کو منعقد کرنیوالوں کا شرعی حکم کیا ہے؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

اللہ رب العالمین نے ایسی  عورتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے جن سے نکاح کرنا حرام ہے ان عورتوں کا بھی ذکر فرمایا ہے جو شادی شدہ ہیں :
وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ (النساء : ۲۴)
اورعورتوں میں سے شادی شدہ عورتیں بھی (تم پر حرام کردی گئی ہیں )
لہذا ایسی عورت جو شادی شدہ ہو اور اسکا خاوند موجود ہے اس نے اسے طلاق بھی نہیں دی , تما م تر مردو ں پر حرام ہے , کوئی بھی اس سے اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتا جب تک انکے خاوند انہیں طلاق نہیں دے دیتے یا فوت نہیں ہو جاتے اور وہ عورتیں اپنی عدت مکمل نہ کر لیں ۔
صورت مسؤلہ میں دوسرا نکاح باطل ہے ۔ اور لڑکی اپنے پہلے خاوند ہی کی بیوی ہے ۔


ہذا , واللہ أعلم و علمہ أکمل واتم , ورد العلم الیہ أسلم, والشکر والدعاء لمن نبہ وأرشد وقوم
مزید پڑھیں

بجہ کے اذان دینے کی وجہ سے مسجد میں فساد ...!

سوال: ہماری مسجد جامع قمر المساجد اہل الحدیث اندرون بوہڑ گیٹ محلہ کھجی ملتان میں ایک بچہ جو کہ آذان اور تکبیر کہتا تھا, چونکہ ہماری مسجد میں مختلف مکاتب فکرکے لوگ نماز پڑھنے کے لیے آتے ہیں تو انہوں نے بچہ کے تکبیر کہنے پر اعتراض کیا , کہ تکبیر کے وقت مسجد میں معمر , حفاظ قرآن , اور باریش لوگ موجود ہوتے ہیں ,تو انکی موجودگی میں بچہ کہ جسے مسائل طہارت کا بھی علم نہیں ہے وہ اقامت نہ کہے ۔ اس تنازعہ کی بناء پر بہت سے لوگ مسجد میں آنا چھوڑ گئے ہیں , کیونکہ اس بناء پر روزانہ کوئی نہ کوئی فساد ہوتا ہے ۔ مسجد میں بپا اس فساد کو ختم کرنیکا کوئی شرعی طریقہ کار متعین فرما کر مسجد کو پر امن بنانے  میں ہمارا تعاون فرمائیں ۔

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

بچہ کے آذان یا اقامت کہنے پر اعتراض درست نہیں , کیونکہ نبی ﷺ نے سیدنا ابو محذورہ t کو اذان واقامت سکھائی اور انہیں مکہ کا مؤذن مقرر فرمایا  حالانکہ وہ ابھی بچے تھے ۔(سنن ابی داود :۵۰۲,۵۰۴)
بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمرو بن سلمہ t کو اپنی قوم کا امام متعین فرما دیا تھا جبکہ انکی عمر ابھی صرف چھ یا سات برس تھی ۔ ( صحیح بخاری :۴۳۰۲)
            لہذا اگر کبھی کوئی بچہ آذان یا اقامت کہہ دے تو اس پر اعتراض کرنا جائز نہیں ۔ لیکن اگر یہ بات فساد اور انتشار کا باعث بن رہی ہو تو اس صورت میں بچہ کے لیے اذان واقامت کہنا درست نہیں رہتا ۔ کیونکہ نبی کریم نے بہت سے جائز کاموں کو صرف فساد اور فتنہ کے خوف سے ترک فرما دیا تھا ۔ مثلا :
             کعبۃ اللہ کی موجودہ عمارت ابراہیمی بنیادوں پر نہیں ہے ۔ اور یہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی ایسے ہی تھی ,لیکن آپ ﷺ نے اسے ابراہیمی بنیادوں پر تعمیر نہ کیا بلکہ اسی طرح رہنے دیا جسطرح دور جاہلیت میں اسکی تعمیر کی گئی تھی اور آپ   نے اسکی وجہ یہ بیان کی کہ لوگ ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں ہو سکتا ہے کہ ان پر یہ بات گراں گزرے ۔ (صحیح بخاری : ۳۳۶۸)
            اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ کچھ جائز کام بھی فتنہء وفساد کے ڈرسے ترک کردینا شریعت اسلامیہ کے مقاصد میں سے ہے ۔ لہذا اگر مسجد میں فتنہ وفساد کا خوف ہو یا فتنہ بپا ہو تو اسے ختم کرنے کے لیے بچہ کو آذان یا اقامت سے منع کیا جاسکتا ہے ۔ کیونکہ یہ فرض نہیں ہے کہ بچہ ہی آذان یا اقامت کہے , کوئی اور بھی یہ کام سر انجام دے سکتا ہے ۔
            اسی طرح مسجد میں کسی تنازعہ کی بناء پر نمازیوں کا مسجد سے تعلق ختم کر دینا بھی شریعت اسلامیہ میں درست نہیں ہے ۔ کتنی حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر کہ اگر انکا تنازعہ اپنی دکان پر کسی شخص کے ساتھ ہو جائے اور وہ اس سے بھی زیادہ بڑا ہو تو وہ دکان سے تعلق ختم نہیں کرتے بلکہ اور زیادہ مضبوط کرتے ہیں , یہ اللہ کے گھر مساجد ہی ہیں کہ جن سے سوتیلوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے اور چھوٹی چھوٹی بات پر نمازی حضرات مسجد میں آنا بند کر دیتے ہیں ۔ انہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے اور اپنی اس روش پر غور کرنا چاہیے            

ھذا , واللہ تعالى أعلم و علمہ أکمل واتم , ورد العلم الیہ أسلم, والشکر والدعاء لمن نبہ وأرشد وقوم




مزید پڑھیں

الأربعاء، مايو 22

کیا ادویات میں شامل الکحل مسکر ہے یا صرف منوم ! یعنی اس سے صرف نیند آتی ہے یا عقل بھی خراب ہوتی ہے ؟

کیا صرف نیند آور ہونا مسکر ہونے کی علامت ہے؟ اس طرح تو بہت سی حلال چیزیں بھی استعمال کے بعد نیند کا سبب بنتی ہیں۔
ڈاکٹر صاحب نے بھی یہی بات بتائی تھی کہ ادویہ میں‌ جو الکوحل استعمال ہوتی ہے، وہ دراصل مختلف چیزوں سے نیند آور اجزاء حاصل کر کے بنائی جاتی ہے، اسی لیے ان کے استعمال سے صرف نیند اور اونگھ وغیرہ آتی ہے، شراب والا غل غپاڑا اور اشتعال نہیں ہوتا۔
 واللہ اعلم بالصواب !


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

میں ڈاکٹر موصوف کی اسی خام خیالی کو درست کرنا چاہتا ہوں کہ 
ادویات میں ملائی جانے والی الکوحل منوم نہیں بلکہ مسکر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جن ادویات میں یہ الکوحل بار فیصد تک ڈالی جاتی ہے انہیں دس ملی لیٹر پینے سے نشہ طاری ہو جاتا ہے اور بیس ملی لیٹر پینے سے بندہ "ٹن" ہو جاتا ہے اور غل غپاڑہ کرتا ہے ۔ 
اور بہت سے نشہ کے عادی لوگ میڈیکل سٹوروں سے ایسے سیرپ خرید کر پوری پوری بوتل پی جاتے ہیں اور اپنا نشہ پورا کرتے ہیں ۔

اور پھر ایک ڈاکٹر جو صرف مریضوں کو چیک کرکے انہیں ادویات کے نام لکھ دیتا ہے اسے فارما کوپیا کی ابجد کا بھی عموما علم نہیں ہوتا ۔ 
جبکہ جس شخص کی گفتگو میں نے آپکے سامنے پیش کی ہے وہ فارماکوپیا چلا رہا ہے اور اس میدان میں گہرا تجربہ رکھتا ہے ۔ 
اور یہ بات تو مسلمہ ہے کہ ہمیشہ اہل فن کی بات ہی زیادہ وزنی ہوتی ہے اور اس میدان میں مستقل دلیل کی حیثیت رکھا کرتی ہے ۔
فتدبر !

میرے اور ڈاکٹر نوید سلفی صاحب کے مابین گفتگو سننے کے لیے
یہاں کلک کریں
یا

یہاں کلک کریں
مزید پڑھیں

ادویات اور عطور میں شامل الکحل مسکر ہے یا نہیں ؟



خوشبو میں‌ جو الکوحل استعمال ہوتی ہے، کیا یہ وہی ہوتی ہے جو پینے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اس سے نشہ ہوتا ہے؟

مجھے ایک دوست ڈاکٹر نے بتایا کہ دوائیوں‌ میں‌ جو الکوحل استعمال ہوتی ہے، یہ وہ شراب نہیں ہوتی جسے پینے سے انسان مشتعل ہو جاتا ہے اور پھر اسے ماں بہن کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔ انہوں نے بطور دلیل ایسی دوائیاں استعمال کرنے والے مریضوں‌ کے مشاہدات کا بھی حوالہ دیا کہ کبھی کسی مریض نے الکوحل والی دوائی کھا کر غل غپاڑا نہیں کیا جو کہ شراب کا پہلا اور لازمی اثر ہوتا ہے۔

میرے خیال میں‌ خوشبووں میں‌ استعمال ہونے والی الکوحل بھی ایسی شراب نہیں ہے، لیکن بہر حال اس بارے میں مفصل تحقیق ہونی چاہیے۔



الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب



ادویات میں استعمال ہونے والی الکوحل بھی مسکر ہی ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کا قول صرف انکی ذاتی رائے ہے ۔ میں نے اس بارہ میں مکمل تحقیقات کے لیے اپنے دوست نوید سلفی صاحب سے معلومات حاصل کی تھیں جوکہ پاکستان کے ایک بہت بڑے فارماکوپیا میں ہوتے ہیں اور ادویات کی تیاری میں ملوث ہوتے ہیں ۔ انکے بقول ادویات میں شامل الکوحل مسکر ہے البتہ اسکی اتنی کم مقدار ادویات میں شامل کی جاتی ہے کہ وہ دوائی نشہ نہیں دیتی , اور کچھ ادویات میں بارہ فیصد الکوحل استعمال ہوتی ہے اور وہ دوائیاں دس ملی لیٹر پینے سے نشہ طاری ہو جاتا ہے اور اور اگر بیس ملی لیٹر پی لی جائیں تو بندہ "ٹن" ہو جاتا ہے۔




میرے اور ڈاکٹر نوید سلفی صاحب کے مابین ہونے والی گفتگو سننے کے لیے


یا 

مزید پڑھیں

الکحل سے متعلق شیخ ابن عثیمین کے فتوى کی کیا حیثیت ہے ؟



الکحل سے متعلق شیخ ابن عثیمین کے فتوى کی کیا حیثیت ہے ؟


كولونيا يا الكحل پر مشتمل خوشبو اور عطر استعمال كرنے كا حكم كيا ہے ؟


الحمد للہ:


جن خوشبو جات اور پرفيومز ميں كولونيا يا الكحل پائى جاتى ہے، ان كے متعلق تفصيلا كلام كرنا ضرورى ہے، اس ليے ہم يہ كہينگے كہ:




اگر تو الكحل كى مقدار بہت ہى قليل ہو، تو يہ نقصان دہ نہيں اور انسان كو يہ خوشبو بغير كسى قلق اور پريشانى كے استعمال كر لينى چاہيے، مثلا اس ميں الكحل پانچ فيصد ہو، يا اس سے بھى كم مقدار ميں، تو يہ مؤثر نہيں.




ليكن اگر اس كى مقدار زيادہ ہو كہ يہ اثرانداز ہو تو انسان كو بہتر يہى ہے كہ انسان بغير ضرورت اسے استعمال مت كرے، مثلا زخم وغيرہ كے ليے.




ليكن اگر ضرورت نہ ہو تو بہتر اور اولى يہى ہے كہ استعمال نہ كى جائے، اور ہم يہ نہيں كہتے كہ يہ حرام ہے، كيونكہ اس زيادہ تناسب ميں ہم زيادہ سے زيادہ يہى كہہ سكتے ہيں كہ يہ نشہ آور ہے، اور نشہ آور چيز كو پينا بلاشك و شبہ نص اور اجماع كے اعتبار سے حرام ہے.




ليكن كيا يہ پينے كے علاوہ بھى حرام ہے ؟




يہ محل نظر ہے، اور احتياط اسى ميں ہے كہ اسے استعمال نہ كيا جائے، ميں نے محل نظر اس ليے كہا ہے كہ: كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:




﴿ اے ايمان والو! بات يہى ہے كہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نكالنے كے پانسے كے تير يہ سب گندى باتيں، اور شيطانى عمل ہيں ان سے بالكل الگ تھلگ رہو تا كہ تم كامياب ہو جاؤ ﴾




شيطان تو يہى چاہتا ہے كہ وہ شراب اور جوئے كے ذريعہ سے تمہارے آپس ميں عداوت و دشمنى اور بغض پيدا كر دے، اور تمہيں اللہ تعالى ى يا داور نماز سے باز ركھے، سو اب بھى تم باز آ جاؤ ﴾المآئدۃ ( 90 - 91 ).




ہم نے يہ كہا ہے كہ اسے پينا ممنوع ہے، كيونكہ صرف اسے لگانے سے نشہ نہيں ہوتا، تو خلاصہ يہ ہوا كہ:




اگر الكحل كا تناسب اس خوشبو ميں بہت ہى كم ہو، ت واس ميں كوئى حرج نہيں، اور نہ ہى اس ميں كوئى اشكال اور پريشانى و قلق ہے.




ليكن اگر اس تناسب زيادہ ہو تو پھر اس سے اجتناب كرنا اولى اور بہتر ہے، صرف ضرورت كے وقت استعمال ہو سكتى ہے، اور ضرورت يہ ہے كہ انسان كو زخم وغيرہ كى جگہ سن كرنے كى ضرورت پيش آئے.







ديكھيں: لقاء الباب المفتوح شيخ ابن عثيمين ( 240 ).

Islam Question and Answer - الكحل والى خوشبو اور عطر
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب




شیخ کا یہ فتوى محل نظر ہے ۔

کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے "ما أسکر کثیرہ فقلیلہ حرام" سنن ابی داود ح ۳۶۸۱

یعنی جس چیز کی بہت زیادہ مقدار بھی نشہ پیدا کردے اسکی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے ۔

لہذا الکوحل تھوڑی ہو یا زیادہ حتى کہ ایک فیصد بھی ہو تو بھی حرام ہی ہے ۔

اسی طرح جب کسی چیز کو حرام قرار دے دیا جائے تو اس سے کسی بھی قسم کا فائدہ اٹھانا حرام ہوتا ہے , الا کہ کسی خاص فائدہ کی کوئی دلیل ہو ۔

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اللہ تعالی یہودیوں پر لعنت کرے کہ جب اللہ نے ان پر چربی کو حرام کیا تو انہوں نے اسے پگھلا کر گھی بنایا اور اسے بیچ کر اسکی قیمت کھانے لگے ۔ صحیح بخاری ۲۲۲۳

اس حدیث کی رو سے الکوحل یا الکوحل ملی اشیاء کی خرید وفروخت اور ہمہ قسم انتفاع حرام قرار پاتا ہے ۔

اور پھر غور طلب بات یہ ہے کہ کسی بھی چیز میں الکوحل شامل کرنے کے لیے جب تیار کرنے والا الکوحل خریدے گا یا تیار کرے گا تو اس وقت وہ سو فیصد الکوحل ہی ہوگی ۔ اور اسکا اس وقت تیار کرنا یا خریدنا تو شیخ ابن عثیمین کے موقف کے مطابق بھی حرام ہی ہو گا !!!

جب بنیاد ہی حرام ہے تو پھر اس پر یہ عمارت کیسے کھڑی ہو سکتی ہے ۔ فتدبر !
مزید پڑھیں

کیا شراب پینے کے سوا کسی اور مقصد مثلا میک اپ وغیرہ کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے ؟

سوال ہے کہ الکوحل کی آمیزش والی کریم،میک اپ کا استعمال کیسا ہے۔۔کہ شراب تو محض پینے کے لیے حرام ہے۔۔نجس نہیں!



الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب


الکوحل ہو یا کوئی اور شراب ہو , اللہ نے اسے حرام قرار دیا ہے اور اسکی خرید وفروخت بھی حرام ہے , اور کسی بھی قسم کا فائدہ اٹھانا حرام ہے ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اسی بناء پر یہودیوں پر لعنت فرمائی تھی کہ اللہ نے ان پر چربی حرام کی تو وہ اسے بیچ کر پیسے کھانے لگے تھے ۔
لہذا ایسی تمام تر اشیاء جن میں الکوحل کا استعمال ہوتا ہے انہیں خریدنا , بیچنا , تیار کرنا , اور ان سے کسی بھی قسم کا فائدہ اٹھانا حرام ہے ۔
مزید پڑھیں

کیا ادویات میں شامل الکوحل ہوا میں تحلیل ہو جاتی ہے ؟

1۔ایک ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ ہومیو پیتھک ادویات کا الکوحل شیشی کھولنے پر اڑ جاتا ہے،یا کھلی جگہ میں رکھیں تو اڑ جائے گا۔۔ اگر یہ الکوحل اڑ جائے تو کیا پھر بھی حرام ہی رہے گا۔؟
2۔ آب زم زم یا عرق گلاب میں بنی ہوئی ہومیو پیتھک ادویات کہاں سے مل سکتی ہیں؟اس کے متعلق بتا دیں۔



الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

۱۔ یہ بات محض جھوٹ کے سوا کچھ بھی نہیں ! کیونکہ ڈاکٹر صاحب کو ضرور علم ہو گا کہ ہو میوپیتھک ادویات میں الکوحل کب استعمال کی جاتی ہے ۔ جیسا کہ میں نے پہلے واضح کیا کہ کوئی بھی مدرٹنکچر تیار کرنے کے لیے مالیکول کو ہزار فیصدی الکوحل میں توڑا جاتا ہے ۔ تو الکوحل مدرٹنکچر میں خوب رچ بس چکی ہوتی ہے ۔ اور اڑنے والا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
اسکی آپ آسان مثال یوں سمجھیں کہ پٹرول اگر کھلی جگہ پر رکھا جائے تو وہ اڑ جاتا ہے ۔ لیکن اگر پڑول میں کوئی کپڑا تر کرکے رکھا جائے تو پھر بھی پٹرول اڑ جاتا ہے لیکن بہت زیادہ دیر کے بعد اور مکمل طور پر بھی نہیں اڑتا ۔
الکوحل کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔
ثانیا : الکوحل کا ہوا میں تحلیل ہو جانا یا باقی رہ جانا تو ایک الگ مسئلہ ہے ۔ لیکن اس کے ہوا میں تحلیل ہونے سے قبل الکوحل ملی ادویات خریدنا ہی شریعت اسلامیہ میں ناجائز ہے ! 

۲۔ شکرگڑھ کے علاقہ میں ڈاکٹر شوکت علی شوکانی اس طریقہ کو اختیار کرتے ہیں ۔ اسی طرح گوجرانوالہ میں کلاسکے اڈا پر موجود ڈاکٹر احمد شیر بھی کچھ مدر ٹنکچر اس طریقہ سے تیار کرتے ہیں ۔
یاد رہے کہ میرے پاس یہ اطلاعات کافی پرانی ہیں , اب وہ اس طریقہ پر عمل پیرا ہیں یا نہیں اس کا مجھے علم نہیں ۔
مزید پڑھیں

الکوحل پر مشتمل خوشبو پرفیوم اور ہومیو پیتھک ادویات کا حکم

1۔ الکوحل پر مشتمل خوشبو/پرفیوم کے استعمال کا کیا حکم ہے؟
2۔ہومیو پیتھک ادویات قریبا نوے فیصد الکوحل پر مشتمل ہوتی ہیں۔انکے استعمال کا کیا حکم ہو گا؟ 
جزاک اللہ خیرا




الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

۱۔ الکوحل مسکر ہونے کی وجہ سے حرام ہے ۔ اور اسکا ہمہ قسم استعمال اور بیع وشراء حرام ہے ۔ یہ جس چیز میں بھی استعمال کی جائے گی اسکی بھی خرید وفروخت حرام ہوگی ۔
۲۔ نوے فیصد نہیں بلکہ سو فیصد کیونکہ ہومیوپیتھک ادویات کا مدر ٹنکچر بنتا ہی الکوحل میں ہے ۔ مدر ٹنکچر بنانے کے لیے مالیکیول کو ہزار فیصدی الکوحل میں توڑا جاتا ہے۔
ہاں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ہومیو پیتھک ادویات خود تیار کرتے ہیں اور الکوحل کے بجائے آب زمزم یا عرق گلاب میں مدر ٹنکچر تیار کرتے ہیں ۔
لہذا جن ادویات میں کوئی حرام چیز شامل نہیں انکا استعمال حلال اور جن میں حرام اشیاء کی آمیزش ہے انکا استعمال حرام ہوگا
مزید پڑھیں

امام ترمذی کی کتاب العلل الکبیر سند صحیح سے ثابت ہے

آپکو کے درسوں میں کئی بار سنا بھی ہے اور آج پھر آپکی تحریر میں ایک جگہ پڑھا کہ آپ امام ترمذی کی کتاب العلل سے کچھ باتیں نقل کرکے فن حدیث میں بطور دلیل پیش کرتے ہیں ۔ جبکہ شیخ زبیر علیزئی صاحب یہ فرماتے ہیں کہ یہ کتاب امام ترمذی کی ہے ہی نہیں کیونکہ اسکی سند صحیح نہیں اور اس میں ابو حامد تاجر نامی راوی مجہول ہے ۔
برائے مہربانی اس بارہ میں کوئی فیصلہ کن بات بیان فرمائیں کہ یہ کتاب امام ترمذی سے ثابت ہے یا نہیں ؟ اور اگر ثابت ہے تو اسکی کیا دلیل ہے ؟


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب

اولا : ایسی کتب جو مصنفین کی زندگی میں ہی معروف ہوگئی ہوں , یا انکے متصل بعد کے دور میں مشہور ہو جائیں , یا کبار ائمہ فن ان سے بطور احتجاج عبارات نقل کریں ہمارے نزدیک انکے ثبوت کے لیے سند کی بحث عبث ہے ۔ اور امام ترمذی کی کتاب العلل الکبیر بھی اسی قبیل سے ہے ۔

ثانيا :ہمارے نزدیک ابو حامد التاجر مجہول راوی نہیں ہے بلکہ معروف ہے ۔ ہم اسے پہچانتے ہیں کہ وہ امام ترمذی کا شاگرد ہے اور امام ترمذی سے اسکا سماع صحیح ہے ۔ اور یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ سخت مجروح راوی ہے ۔ لیکن جیسا کہ عرض کیا کہ امام ترمذی سے اسکی روایت صحیح ہے ۔ اور اہل فن یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ بعض رواۃ ایسے ہوتے ہیں جنکی کسی خاص شیخ سے مرویات ضعیف ہوتی ہیں اور کچھ رواۃ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی صرف خاص مشایخ سے ہی مرویات صحیح ہوتی ہیں ۔ یہ ابو حامد التاجر اسی دوسری قبیل کے رواۃ میں سے ہی ہیں کہ ان کی امام ترمذی وغیرہ سے مرویات صحیح ہیں ۔ 
ابن عساکر نے تاریخ دمشق ج ۵ ص ۴۵ میں انکا ترجمہ بایں طور بیان کیا ہے 
أحمد بن علي بن الحسن بن شاذان أبو حامد المقرئ التاجر المعروف بالحسنوي (2) النيسابوري ذكر أنه سمع بدمشق محمد بن هشام بن ملاس والحسن بن جرير بصور وأحمد بن شيبان بالرملة وأبا فروة يزيد بن سنان الرهاوي وفهد بن سليمان بمصر ومحمد بن يحيى بن كثير الحراني وقطن بن إبراهيم وأبا الأزهر وأحمد بن يوسف السلمي وأبا ياسين بن عبد الأحد بن زرارة القتباني (3) وعيسى بن أحمد العسقلاني ببلخ ومسلم بن بشر بن عروة الغوجري (4) وإسحاق بن إبراهيم الدبري (5) باليمن روى عنه أبو أحمد بن عدي الجرجاني والحاكم أبو عبد الله وأبو الحسن علي بن محمد بن محمد الطرازي (6) وأبو القاسم عبد الرحمن بن محمد بن عبد الله السراج وأبو عبد الرحمن السلمي وأبو علي (7) منصور بن عبد الله بن خالد الخالدي وأبو الفضل أحمد بن أبي عمران الهرويان أخبرنا أبو سعد عطاء بن أبي الفضل بن ابي سعد (8) المعلم بهراة نا أبو إسماعيل عبد الله بن محمد بن علي الأنصاري نا علي بن محمد بن محمد الطرازي بنيسابور نا أحمد بن علي (9) بن حسنوية المقرئ نا أبو جعفر أحمد بن الفضل العسقلاني ومحمد بن هشام بن ملاس بدمشق وأخبرنا أبو المعالي فضل الله بن محمد بن الجنيد الحنفي وأبو مسلم روح بن شجاع بن محمد الزغرتاني وأبو صالح أشرف بن صالح بن حمزة بن عبد الله الجيلي وأبو القاسم محمود وأبو الفتح عبد العزيز ابنا أبي ثابت عبد الله بن يحيى الفارسي وأبو طالب المطهر بن يعلى بن عوض العلوي بهراة وأبو علي الحسن بن عبد الله بن عبد الرحمن الشعيبي وأبو الفتح سيار بن محمد بن الحسن الشعيبي ببوشنج قالوا
أنا القاضي أبو العلاء صاعد بن سيار بن يحيى قراءة عليه أنا أبو الحسين علي بن محمد بن محمد بن أحمد (1) بن عثمان الطرازي الأديب بنيسابور حدثني أبو حامد أحمد بن علي بن حسنوية المقرئ نا أبو جعفر أحمد بن الفضل الصائغ بعسقلان وأصله من مرو وأبو جعفر محمد (2) بن هشام بن ملاس بدمشق قالا نا مروان بن معاوية الفزاري نا يحيى بن سعيد عن محمد بن إبراهيم عن علقمة قال سمعت عمر بن الخطاب على المنبر يقول قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم) (3) إنما الأعمال بالنية وإنما لامرئ ما نوى ۔
[1170] قرأت على أبي القاسم الشحامي عن أبي بكر البيهقي أنا أبو عبد الله الحافظ قال قصدت أبا حامد الحسنوي يعني أحمد بن علي بن الحسن المقرئ للنصف من المحرم من سنة ثمان وثلاثين وثلاثمائة فسألته عن سنه فقال أنا اليوم ابن ست وثمانين سنة قلت في أي سنة دخلت الشام قال دخلت الشام سنة ست وستين ومائتين قلت ابن كم كنت قال ابن اثنتي عشرة سنة وقد كنت سمعت أبا حامد يذكر مولده سنة ثمان (4) وأربعين ومائتين ودخلت على أبي حامد يوما فوجدته ضيق الصدر فقال ألا تراقبون الله في توقير المشايخ أما لكم حياء يحجزكم عن تحقير المشايخ فسألته ما أصابه فقال جاءني أبو علي المعروف بالحافظ وأنكر علي روايتي عن أحمد بن أبي رجاء المصيصي وهذا كتابي وسماعي منه ثم قال رأيت والله أكبر من أحمد بن أبي رجاء فقد كتبت عن ثلاثة عن عبد الرحمن بن مهدي وعن ثلاثة عن مروان بن معاوية الفزاري وهذا حفيدي وأشار إلى كهل واقف ابن نيف وستين سنة قال وسمعت أبا حامد يقول يوما قد اخرجت من شيوخي من اسمه أحمد فخرج مائة وعشرين (1) شيخا
أخبرنا أبو القاسم بن السمرقندي أنا إسماعيل بن مسعدة أنا حمزة بن يوسف بن إبراهيم قال بحضرتي سئل ابن منده عن أحمد بن علي بن الحسن المقرئ فقال كان شيخا أتى عليه مائة وعشر سنين ولم يزد عليه قال وسألت أبا زرعة محمد بن يوسف الجرجاني المعروف بالكشي عن أحمد بن علي بن الحسن المقرئ الحسنوي حدث بجرجان فقال هو كذاب قرأت على أبي القاسم الشحامي عن ابي بكر البيهقي أنا أبو عبد الله الحافظ قال سمعت أبا حامد الحسنوي يقول ما رأيت أعجب من أمر هذا الأصم (2) كان يختلف معنا إلى الربيع [بن] (3) سليمان وكان منزل ياسين بن عبد الأحد القتباني (4) لزيق منزل الربيع ولم يسمع منه الأصم فكتبت قوله هذا وناولته أبا العباس الأصم فصاح وقال يا معشر المسلمين بلغني أن ابن حسنوية يروي عن الربيع بن سليمان وابن عبد الحكم وغيرهما من شيوخي من أهل مصر ويذكر أنه كان معي بمصر ووالله ما التقينا بمصر قط ولا عرفته إلا بعد رجوعي من مصر قال الحاكم فسمعت أبا جعفر محمد بن صالح بن هانئ الثقة المأمون يقول (5) كان أحمد بن علي بن حسنوية يديم الاختلاف معنا إلى السري بن خزيمة وأقرانه ثم شيعناه يوم خروجه إلى الري إلى أبي حاتم الرازي قال الحاكم فإنما المنكر من حاله روايته عن قوم تقدم موتهم حدث من المصريين عن محمد بن أصبغ بن الفرج وأزهر بن زفر وأقرانهم ومن الشاميين عن علي بن بكار المصيصي ويوسف بن سعيد وعمران البزاز وأقرانهم ومن النيسابوريين عن أبي الأزهر وأحمد بن يوسف السلمي ومحمد بن يزيد وأقرانهم وهو في الجملة غير محتج (1) بحديثه على أن النفس تأبى عن ترك مثله والله المستعان قال الحاكم أحمد بن علي بن الحسن بن شاذان المقرئ أبو حامد التاجر ويعرف بالحسنوي وكان أحد المجتهدين في العبادة بالليل والنهار ومن البكائين من الخشية الملازمين مسجد محمد بن عقيل الخزاعي سمع بنيسابور أبا أحمد محمد بن عبد الوهاب العبدي والسري بن خزيمة وأقرانهما وبالري أبا حاتم وأقرانه وببغداذ الحارث بن أبي أسامة وأقرانه ورحل إلى أبي عيسى محمد بن عيسى الترمذي فكتب عنه جملة من مصنفاته ولو اقتصر على هذه السماعات الصحيحة التي ذكرتها كان أولى به غير أنه لم يقتصر عليها وحدث عن جماعة من أئمة المسلمين اشهد بالله أنه لم يسمع منهم وكنت أغار عليه بعد أن عقلت وكنت أسأله عن لقاء أولئك الشيوخ أخبرنا أبو القاسم النسيب نا أبو بكر الخطيب قال قرأت على محمد بن أحمد بن يعقوب عن محمد بن عبد الله بن نعيم النيسابوري قال قصدت أبا حامد أحمد بن علي بن الحسن بن شاذان المقرئ ويعرف بالحسنوي للنصف من المحرم سنة ثمان وثلاثين وثلاثمائة فسألته عن سنه فقال أنا اليوم ابن ست وثمانين سنة (2) قال الخطيب ويغلب على ظني أنه عاش إلى (3) بعد سنة أربعين وثلاثمائة والله أعلم

اسی طرح امام ذہبی رحمہ اللہ تاریخ اسلام ت بشار ج ۷ ص ۸۸۳ میں فرماتے ہیں 

- أَحْمَد بْن عَلِيّ بْن الْحَسَن بْن شاذان، أَبُو حامد بْن حسنويه الَّنيْسابوريّ التّاجر. [المتوفى: 350 هـ]
سَمِعَ: أَبَا عيسى التِّرْمِذيّ، وأبا حاتم الرّازيّ، والسري بْن خُزَيْمَة، والحارث بْن أَبِي أسامة، ومحمد بْن عَبْد الوهاب الفَرّاء، وطبقتهم. [ص:884]
قَالَ الحاكم: كَانَ من المجتهدين فِي العبادة اللَّيْلَ والنّهار، ولو اقتصر عَلَى سماعه الصّحيح يعني من المُسمّين، لكان أَوْلَى بِهِ. لكنّه حدَّث عَنْ جماعةٍ أشهدُ بالله أنّه لم يسمع منهم. وقد سَأَلْتُهُ سنة ثمانٍ وثلاثين عَنْ سنه فقال لي: ستٌّ وثمانون سنة. وأُدْخِلت الشّام وأنا ابن اثنتي عشرة سنة. وسمعته يَقُولُ: أخَرجتُ فِي مشايخي من اسمه أَحْمَد، فخرج مائة وعشرون شيخًا. دخلتُ عَلَيْهِ سنة تسعٍ وثلاثين فقال: قد حلفتُ أن لا أحدِّث أحدًا. ثمّ بعد ساعة قَالَ: حدثنا أَبُو سعَيِد، قَالَ: حدثنا محمد، فذكر حكايةً. ولا أعلم أن أَبَا حامد وضَعَ حديثًا أو أدخل إسنادًا فِي إسنادٍ. إنّما المُنْكَر روايته عَنْ قوم تقدم موتهم، والنفسُ تأبي ترك مثله، والله المستعان.
وقال ابن عساكر فِي تاريخه: روى عَنْ: أَحْمَد بْن شَيْبان الرَّمليّ، وأحمد بن الأزهر، وأحمد بن يوسف السلمي، وعيسى بْن أَحْمَد العسقلانيّ البلْخيّ، ومسلم بْن الحَجّاج، وإسحاق الدَّبَريّ؛ وسمّي طائفةً.
وَعَنْهُ: الحاكم، وأبو أَحْمَد بْن عديّ، ومنصور بْن عَبْد اللَّه الخالديّ، وأبو عَبْد الرَّحْمَن السُّلَميّ، وأحمد بْن أَبِي عمران الهَرَويّ، وأبو عبد الله بْن مَنْدَه، وعلي بْن محمد الطرازيّ، وعبد الرَّحْمَن بْن محمد السّرّاج.
قَالَ الْحَاكِمُ: قَدْ حَدَّثَ قَدِيمًا، فَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ محمد السكوني - ثقة -، قال: حدثنا سعيد بن عبد الله الأنباري ابن عجب، قال: حدثنا محمد بن معاذ، قال: حدثنا أحمد بن علي النيسابوري، قال: حدثنا أبو حاتم الرازي، قال: حدثنا محمد بن عثمان التنوخي، قال: حدثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا: " مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ ".
قَالَ: ودخلتُ يومًا عَلَيْهِ فقال: ألا تراقبون الله فِي توقير المشايخ؟ أما لكم حَياء يحجزكم؟ فسألته ما أصابه، فقال: جاءني أَبُو علي المعروف [ص:885] بالحافظ وأنكَر عَلِيّ روايتي عَنْ أحمد بْن أَبِي رجاء المَصِّيصيّ. وهذا كتابي وسماعي منه. ثمّ قَالَ: رأيتُ والله أكبَر من أَحْمَد بْن أَبِي رجاء، فقد كتبتُ عَنْ ثلاثة، عَنْ عَبْد الرَّحْمَن بْن مهديّ. وعن ثلاثة عَنْ مروان بْن معاويه، وهذا حفيدي، وأشار إلى كهلٍ واقفٍ.
وقال حمزة السَّهْميّ: سُئل ابن مَنْدَه بحضرتي عَنْ أحمد بْن عَلِيّ بْن الْحَسَن الْمُقْرِئ فقال: كَانَ شيخًا أتي عَلَيْهِ مائةٌ وعشر سِنين.
وقال حمزة: وسألت أَبَا زُرْعَة محمد بْن يوسف الْجُرْجانيّ عَنْهُ فقال: هُوَ كذاب.
وقال الحاكم: سَمِعْتُ أَبَا حامد الحسنويي يَقُولُ: ما رأيت أعجب من أمر هذا الأصمّ، كَانَ يختلف معنا إلى الربيع بْن سُلَيْمَان، وكان منزل ياسين القتبانيّ لَزِيق منزل الرّبيع ولم يسمع منه الأصمّ. فكتبتُ قوله هذا وناولته أَبَا الْعَبَّاس الأصمّ، فصاح: يا معشر المسلمين، بلغني أنّ ابن حَسْنَوَيْه يروي عَنِ الرّبيع وابن عَبْد الحَكَم، ويذكر أنّه كَانَ معي بمصر، والله ما التقينا ولا عرفته إلا بعد رجوعي من مصر. وسمعتُ محمد بْن صالح بْن هانئ يَقُولُ: كَانَ ابن حَسْنَوَيْه يديم الاختلاف معنا إلى السّرِيّ بْن خُزَيْمَة وأقرانه، ثمّ شيعّناه يوم خروجه إلى أَبِي حاتم.
وقال أَبُو القاسم بْن مَنْدَه: تُوُفّي فِي شهر رمضان سنة خمسين.

اسی طرح امام سمعانی کتاب الأنساب ج ۴ ص ۱۶۳ میں رمقطراز ہیں
وأبو حامد أحمد بن على بن الحسن بن شاذان المقري التاجر، ويعرف بالحسنويى، من أهل نيسابور، وكان شيخا صالحا مكثرا من الحديث رحالا في طلبه إلى العراق والشام ومصر ولكن ادعى أنه سمع الحديث من المتقدمين، قيل إنه لم يلحقهم، سمع، بنيسابور أبا أحمد محمد بن عبد الوهاب العبديّ وأبا محمد السري بن خزيمة الأبيوردي، وبالري أبا حاتم محمد بن إدريس الحنظليّ، وببغداد أبا محمد الحارث بن أبى أسامة التميمي، وجماعة سواهم، روى عنه الحاكم أبو عبد الله الحافظ وجماعة سواه، وذكره الحاكم في التاريخ وقال: أبو حامد [1] الحسنويى، كان أحد المجتهدين في العبادة بالليل والنهار، ومن البكاءين من الخشية [2] والملازمين مسجد محمد بن عقيل الخزاعي، رحل إلى أبى عيسى محمد بن عيسى الترمذي وكتب عنه جملة مصنفاته، ولو اقتصر على هذه السماعات الصحيحة كان أولى غير أنه لم يقتصر عليها وحدث عن جماعة من أئمة المسلمين أشهد باللَّه أنه لم يسمع منهم، وكنت أغار عليه بعد أن عقلت فكنت أسأله عن لقي أولئك الشيوخ. ثم قال: قصدت أبا حامد الحسنويى للنصف من المحرم [من-[3]] سنة ثمان وثلاثين وثلاثمائة فسألته عن سنّه فقال: أنا اليوم ابن ست وثمانين سنة، قلت: في أي سنة أدخلت [4] الشام؟
قال: أدخلت الشام سنة ست وستين ومائتين، قلت: ابن كم كنت؟ قال:
ابن اثنتي عشرة سنة [5] . وقد كنت سمعت أبا حامد يذكر مولده سنة ثمان وأربعين ومائتين. قال وسمعت أبا حامد يقول: ما كنت رأيت أبا بكر محمد بن إسحاق بن خزيمة بنيسابور، إنما [1] رأيته أول ما رأيته بمصر ومعه محبرة كبيرة وله شعر وافر [وكان-[2]] يعرف بالشعراني. قال: ودخلت على أبى حامد يوما فوجدته ضيق الصدر فقال: ألا تراقبون الله في توقير المشايخ؟ أما لكم حياء يحجزكم عن تحقير المشايخ؟ فسألته ما أصاب الشيخ، فقال جاءني أبو على المعروف بالحافظ وأنكر عليّ روايتي عن أحمد بن أبى رجاء المصيصي وهذا كتابي وسماعي منه، ثم قال: قد رأيت والله أكبر من أحمد بن أبى رجاء فقد كتبت عن ثلاثة عن عبد الرحمن بن مهدي، وعن ثلاثة عن مروان بن معاوية الفزاري، وهذا حفيدى- وأشار إلى كهل واقف- ابن نيف وستين سنة. وسمعت أبا حامد يقول يوما: قد أخرجت من شيوخي من اسمه أحمد فخرجت [3] مائة وعشرين. شيخا. قال الحاكم سمعت أبا حامد الحسنويى يقول ما رأيت أعجب من أمر هذا الأصم، كان يختلف معنا إلى الربيع بن سليمان وكان منزل ياسين بن عبد الأحد القتباني [4] لزيق منزل الربيع ولم يسمع منه الأصم. فكتبت قوله هذا وناولته أبا العباس الأصم فصاح وقال: يا معشر المسلمين! يبلغني أن ابن حسنويه يروى عن الربيع وابن عبد الحكم وغيرهما [من شيوخي من أهل مصر-[1]] ويذكر أنه كان معى بمصر، والله ما التقينا بمصر، ولا عرفته إلا بعد رجوعي من مصر. فسمعت أبا جعفر محمد بن صالح بن هانئ الثقة المأمون يقول: كان أحمد بن على بن حسنويه يديم الاختلاف معنا إلى السري بن خزيمة وأقرانه ثم شيعناه يوم خروجه إلى أبى حاتم الرازيّ، وكتب إلينا أبو أحمد عبد الله ابن عدي الحافظ يذكر أن أحمد بن على بن حسنويه البزاز حدثهم بنيسابور سنة أربع عشرة وثلاثمائة ثنا أبو حاتم عن قبيصة- بحديث الثوري عن عبيد الله بن عمر. قال وسمعت طاهر بن أحمد الوراق يذكر أنه حمل فوائد أبى أمية الطرسوسي وفوائد سليمان بن سيف الحراني إلى الشيخ أبى بكر ابن إسحاق وأنه قابلهما وأمرهم بالسماع منه. قال الحاكم قد ذكرت بعض ما انتهى إليّ من أحوال أبى حامد الحسنويى ليستدل بذلك على أنه رجل من أهل الصنعة طلب الحديث ورحل فيه وصنف الشيوخ فقد كتبنا عنه جملة من مجموعاته بخط يده، ثم لا أعلم له حديثا وضعه أو أدخل إسنادا في إسناد، وإنما المنكر [من حاله-[2]] روايته عن قوم تقدم موتهم، حدث عن المصريين عن محمد بن أصبغ بن الفرج وأزهر بن زفر، ومن الشاميين عن على بن بكار المصيصي ويوسف بن سعيد [3] بن عمران البراد [4] ومن النيسابوريين عن أبى الأزهر وأحمد بن يوسف السلمي ومحمد بن يزيد وأقرانهم، وقد كان يخرج أصولا عتيقة عن هؤلاء الشيوخ، ويقال إنها كانت أصول أبى بكر [1] أحمد بن محمد بن عبيدة الوبرى رحمه الله، وهو في الجملة غير محتج بحديثه غير أن النفس تأبى عن ترك مثله، والله المستعان.
هذا جميعه ذكره الحاكم أبو عبد الله الحافظ ولم يذكر وفاته
مزید پڑھیں