• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

‏إظهار الرسائل ذات التسميات حلال وحرام. إظهار كافة الرسائل
‏إظهار الرسائل ذات التسميات حلال وحرام. إظهار كافة الرسائل

الأربعاء، مايو 22

کیا ادویات میں شامل الکحل مسکر ہے یا صرف منوم ! یعنی اس سے صرف نیند آتی ہے یا عقل بھی خراب ہوتی ہے ؟

کیا صرف نیند آور ہونا مسکر ہونے کی علامت ہے؟ اس طرح تو بہت سی حلال چیزیں بھی استعمال کے بعد نیند کا سبب بنتی ہیں۔
ڈاکٹر صاحب نے بھی یہی بات بتائی تھی کہ ادویہ میں‌ جو الکوحل استعمال ہوتی ہے، وہ دراصل مختلف چیزوں سے نیند آور اجزاء حاصل کر کے بنائی جاتی ہے، اسی لیے ان کے استعمال سے صرف نیند اور اونگھ وغیرہ آتی ہے، شراب والا غل غپاڑا اور اشتعال نہیں ہوتا۔
 واللہ اعلم بالصواب !


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

میں ڈاکٹر موصوف کی اسی خام خیالی کو درست کرنا چاہتا ہوں کہ 
ادویات میں ملائی جانے والی الکوحل منوم نہیں بلکہ مسکر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جن ادویات میں یہ الکوحل بار فیصد تک ڈالی جاتی ہے انہیں دس ملی لیٹر پینے سے نشہ طاری ہو جاتا ہے اور بیس ملی لیٹر پینے سے بندہ "ٹن" ہو جاتا ہے اور غل غپاڑہ کرتا ہے ۔ 
اور بہت سے نشہ کے عادی لوگ میڈیکل سٹوروں سے ایسے سیرپ خرید کر پوری پوری بوتل پی جاتے ہیں اور اپنا نشہ پورا کرتے ہیں ۔

اور پھر ایک ڈاکٹر جو صرف مریضوں کو چیک کرکے انہیں ادویات کے نام لکھ دیتا ہے اسے فارما کوپیا کی ابجد کا بھی عموما علم نہیں ہوتا ۔ 
جبکہ جس شخص کی گفتگو میں نے آپکے سامنے پیش کی ہے وہ فارماکوپیا چلا رہا ہے اور اس میدان میں گہرا تجربہ رکھتا ہے ۔ 
اور یہ بات تو مسلمہ ہے کہ ہمیشہ اہل فن کی بات ہی زیادہ وزنی ہوتی ہے اور اس میدان میں مستقل دلیل کی حیثیت رکھا کرتی ہے ۔
فتدبر !

میرے اور ڈاکٹر نوید سلفی صاحب کے مابین گفتگو سننے کے لیے
یہاں کلک کریں
یا

یہاں کلک کریں
مزید پڑھیں

ادویات اور عطور میں شامل الکحل مسکر ہے یا نہیں ؟



خوشبو میں‌ جو الکوحل استعمال ہوتی ہے، کیا یہ وہی ہوتی ہے جو پینے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اس سے نشہ ہوتا ہے؟

مجھے ایک دوست ڈاکٹر نے بتایا کہ دوائیوں‌ میں‌ جو الکوحل استعمال ہوتی ہے، یہ وہ شراب نہیں ہوتی جسے پینے سے انسان مشتعل ہو جاتا ہے اور پھر اسے ماں بہن کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔ انہوں نے بطور دلیل ایسی دوائیاں استعمال کرنے والے مریضوں‌ کے مشاہدات کا بھی حوالہ دیا کہ کبھی کسی مریض نے الکوحل والی دوائی کھا کر غل غپاڑا نہیں کیا جو کہ شراب کا پہلا اور لازمی اثر ہوتا ہے۔

میرے خیال میں‌ خوشبووں میں‌ استعمال ہونے والی الکوحل بھی ایسی شراب نہیں ہے، لیکن بہر حال اس بارے میں مفصل تحقیق ہونی چاہیے۔



الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب



ادویات میں استعمال ہونے والی الکوحل بھی مسکر ہی ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کا قول صرف انکی ذاتی رائے ہے ۔ میں نے اس بارہ میں مکمل تحقیقات کے لیے اپنے دوست نوید سلفی صاحب سے معلومات حاصل کی تھیں جوکہ پاکستان کے ایک بہت بڑے فارماکوپیا میں ہوتے ہیں اور ادویات کی تیاری میں ملوث ہوتے ہیں ۔ انکے بقول ادویات میں شامل الکوحل مسکر ہے البتہ اسکی اتنی کم مقدار ادویات میں شامل کی جاتی ہے کہ وہ دوائی نشہ نہیں دیتی , اور کچھ ادویات میں بارہ فیصد الکوحل استعمال ہوتی ہے اور وہ دوائیاں دس ملی لیٹر پینے سے نشہ طاری ہو جاتا ہے اور اور اگر بیس ملی لیٹر پی لی جائیں تو بندہ "ٹن" ہو جاتا ہے۔




میرے اور ڈاکٹر نوید سلفی صاحب کے مابین ہونے والی گفتگو سننے کے لیے


یا 

مزید پڑھیں

الکحل سے متعلق شیخ ابن عثیمین کے فتوى کی کیا حیثیت ہے ؟



الکحل سے متعلق شیخ ابن عثیمین کے فتوى کی کیا حیثیت ہے ؟


كولونيا يا الكحل پر مشتمل خوشبو اور عطر استعمال كرنے كا حكم كيا ہے ؟


الحمد للہ:


جن خوشبو جات اور پرفيومز ميں كولونيا يا الكحل پائى جاتى ہے، ان كے متعلق تفصيلا كلام كرنا ضرورى ہے، اس ليے ہم يہ كہينگے كہ:




اگر تو الكحل كى مقدار بہت ہى قليل ہو، تو يہ نقصان دہ نہيں اور انسان كو يہ خوشبو بغير كسى قلق اور پريشانى كے استعمال كر لينى چاہيے، مثلا اس ميں الكحل پانچ فيصد ہو، يا اس سے بھى كم مقدار ميں، تو يہ مؤثر نہيں.




ليكن اگر اس كى مقدار زيادہ ہو كہ يہ اثرانداز ہو تو انسان كو بہتر يہى ہے كہ انسان بغير ضرورت اسے استعمال مت كرے، مثلا زخم وغيرہ كے ليے.




ليكن اگر ضرورت نہ ہو تو بہتر اور اولى يہى ہے كہ استعمال نہ كى جائے، اور ہم يہ نہيں كہتے كہ يہ حرام ہے، كيونكہ اس زيادہ تناسب ميں ہم زيادہ سے زيادہ يہى كہہ سكتے ہيں كہ يہ نشہ آور ہے، اور نشہ آور چيز كو پينا بلاشك و شبہ نص اور اجماع كے اعتبار سے حرام ہے.




ليكن كيا يہ پينے كے علاوہ بھى حرام ہے ؟




يہ محل نظر ہے، اور احتياط اسى ميں ہے كہ اسے استعمال نہ كيا جائے، ميں نے محل نظر اس ليے كہا ہے كہ: كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:




﴿ اے ايمان والو! بات يہى ہے كہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نكالنے كے پانسے كے تير يہ سب گندى باتيں، اور شيطانى عمل ہيں ان سے بالكل الگ تھلگ رہو تا كہ تم كامياب ہو جاؤ ﴾




شيطان تو يہى چاہتا ہے كہ وہ شراب اور جوئے كے ذريعہ سے تمہارے آپس ميں عداوت و دشمنى اور بغض پيدا كر دے، اور تمہيں اللہ تعالى ى يا داور نماز سے باز ركھے، سو اب بھى تم باز آ جاؤ ﴾المآئدۃ ( 90 - 91 ).




ہم نے يہ كہا ہے كہ اسے پينا ممنوع ہے، كيونكہ صرف اسے لگانے سے نشہ نہيں ہوتا، تو خلاصہ يہ ہوا كہ:




اگر الكحل كا تناسب اس خوشبو ميں بہت ہى كم ہو، ت واس ميں كوئى حرج نہيں، اور نہ ہى اس ميں كوئى اشكال اور پريشانى و قلق ہے.




ليكن اگر اس تناسب زيادہ ہو تو پھر اس سے اجتناب كرنا اولى اور بہتر ہے، صرف ضرورت كے وقت استعمال ہو سكتى ہے، اور ضرورت يہ ہے كہ انسان كو زخم وغيرہ كى جگہ سن كرنے كى ضرورت پيش آئے.







ديكھيں: لقاء الباب المفتوح شيخ ابن عثيمين ( 240 ).

Islam Question and Answer - الكحل والى خوشبو اور عطر
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب




شیخ کا یہ فتوى محل نظر ہے ۔

کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے "ما أسکر کثیرہ فقلیلہ حرام" سنن ابی داود ح ۳۶۸۱

یعنی جس چیز کی بہت زیادہ مقدار بھی نشہ پیدا کردے اسکی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے ۔

لہذا الکوحل تھوڑی ہو یا زیادہ حتى کہ ایک فیصد بھی ہو تو بھی حرام ہی ہے ۔

اسی طرح جب کسی چیز کو حرام قرار دے دیا جائے تو اس سے کسی بھی قسم کا فائدہ اٹھانا حرام ہوتا ہے , الا کہ کسی خاص فائدہ کی کوئی دلیل ہو ۔

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اللہ تعالی یہودیوں پر لعنت کرے کہ جب اللہ نے ان پر چربی کو حرام کیا تو انہوں نے اسے پگھلا کر گھی بنایا اور اسے بیچ کر اسکی قیمت کھانے لگے ۔ صحیح بخاری ۲۲۲۳

اس حدیث کی رو سے الکوحل یا الکوحل ملی اشیاء کی خرید وفروخت اور ہمہ قسم انتفاع حرام قرار پاتا ہے ۔

اور پھر غور طلب بات یہ ہے کہ کسی بھی چیز میں الکوحل شامل کرنے کے لیے جب تیار کرنے والا الکوحل خریدے گا یا تیار کرے گا تو اس وقت وہ سو فیصد الکوحل ہی ہوگی ۔ اور اسکا اس وقت تیار کرنا یا خریدنا تو شیخ ابن عثیمین کے موقف کے مطابق بھی حرام ہی ہو گا !!!

جب بنیاد ہی حرام ہے تو پھر اس پر یہ عمارت کیسے کھڑی ہو سکتی ہے ۔ فتدبر !
مزید پڑھیں

کیا شراب پینے کے سوا کسی اور مقصد مثلا میک اپ وغیرہ کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے ؟

سوال ہے کہ الکوحل کی آمیزش والی کریم،میک اپ کا استعمال کیسا ہے۔۔کہ شراب تو محض پینے کے لیے حرام ہے۔۔نجس نہیں!



الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب


الکوحل ہو یا کوئی اور شراب ہو , اللہ نے اسے حرام قرار دیا ہے اور اسکی خرید وفروخت بھی حرام ہے , اور کسی بھی قسم کا فائدہ اٹھانا حرام ہے ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اسی بناء پر یہودیوں پر لعنت فرمائی تھی کہ اللہ نے ان پر چربی حرام کی تو وہ اسے بیچ کر پیسے کھانے لگے تھے ۔
لہذا ایسی تمام تر اشیاء جن میں الکوحل کا استعمال ہوتا ہے انہیں خریدنا , بیچنا , تیار کرنا , اور ان سے کسی بھی قسم کا فائدہ اٹھانا حرام ہے ۔
مزید پڑھیں

کیا ادویات میں شامل الکوحل ہوا میں تحلیل ہو جاتی ہے ؟

1۔ایک ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ ہومیو پیتھک ادویات کا الکوحل شیشی کھولنے پر اڑ جاتا ہے،یا کھلی جگہ میں رکھیں تو اڑ جائے گا۔۔ اگر یہ الکوحل اڑ جائے تو کیا پھر بھی حرام ہی رہے گا۔؟
2۔ آب زم زم یا عرق گلاب میں بنی ہوئی ہومیو پیتھک ادویات کہاں سے مل سکتی ہیں؟اس کے متعلق بتا دیں۔



الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

۱۔ یہ بات محض جھوٹ کے سوا کچھ بھی نہیں ! کیونکہ ڈاکٹر صاحب کو ضرور علم ہو گا کہ ہو میوپیتھک ادویات میں الکوحل کب استعمال کی جاتی ہے ۔ جیسا کہ میں نے پہلے واضح کیا کہ کوئی بھی مدرٹنکچر تیار کرنے کے لیے مالیکول کو ہزار فیصدی الکوحل میں توڑا جاتا ہے ۔ تو الکوحل مدرٹنکچر میں خوب رچ بس چکی ہوتی ہے ۔ اور اڑنے والا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
اسکی آپ آسان مثال یوں سمجھیں کہ پٹرول اگر کھلی جگہ پر رکھا جائے تو وہ اڑ جاتا ہے ۔ لیکن اگر پڑول میں کوئی کپڑا تر کرکے رکھا جائے تو پھر بھی پٹرول اڑ جاتا ہے لیکن بہت زیادہ دیر کے بعد اور مکمل طور پر بھی نہیں اڑتا ۔
الکوحل کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔
ثانیا : الکوحل کا ہوا میں تحلیل ہو جانا یا باقی رہ جانا تو ایک الگ مسئلہ ہے ۔ لیکن اس کے ہوا میں تحلیل ہونے سے قبل الکوحل ملی ادویات خریدنا ہی شریعت اسلامیہ میں ناجائز ہے ! 

۲۔ شکرگڑھ کے علاقہ میں ڈاکٹر شوکت علی شوکانی اس طریقہ کو اختیار کرتے ہیں ۔ اسی طرح گوجرانوالہ میں کلاسکے اڈا پر موجود ڈاکٹر احمد شیر بھی کچھ مدر ٹنکچر اس طریقہ سے تیار کرتے ہیں ۔
یاد رہے کہ میرے پاس یہ اطلاعات کافی پرانی ہیں , اب وہ اس طریقہ پر عمل پیرا ہیں یا نہیں اس کا مجھے علم نہیں ۔
مزید پڑھیں

الکوحل پر مشتمل خوشبو پرفیوم اور ہومیو پیتھک ادویات کا حکم

1۔ الکوحل پر مشتمل خوشبو/پرفیوم کے استعمال کا کیا حکم ہے؟
2۔ہومیو پیتھک ادویات قریبا نوے فیصد الکوحل پر مشتمل ہوتی ہیں۔انکے استعمال کا کیا حکم ہو گا؟ 
جزاک اللہ خیرا




الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

۱۔ الکوحل مسکر ہونے کی وجہ سے حرام ہے ۔ اور اسکا ہمہ قسم استعمال اور بیع وشراء حرام ہے ۔ یہ جس چیز میں بھی استعمال کی جائے گی اسکی بھی خرید وفروخت حرام ہوگی ۔
۲۔ نوے فیصد نہیں بلکہ سو فیصد کیونکہ ہومیوپیتھک ادویات کا مدر ٹنکچر بنتا ہی الکوحل میں ہے ۔ مدر ٹنکچر بنانے کے لیے مالیکیول کو ہزار فیصدی الکوحل میں توڑا جاتا ہے۔
ہاں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ہومیو پیتھک ادویات خود تیار کرتے ہیں اور الکوحل کے بجائے آب زمزم یا عرق گلاب میں مدر ٹنکچر تیار کرتے ہیں ۔
لہذا جن ادویات میں کوئی حرام چیز شامل نہیں انکا استعمال حلال اور جن میں حرام اشیاء کی آمیزش ہے انکا استعمال حرام ہوگا
مزید پڑھیں