• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الثلاثاء، أبريل 16

دھمکی کے ارداہ سے ایسے کلمات کا استعمال کرنا جو عموما طلاق کے لیے بطور کنایہ استعمال ہوتے ہیں


سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارہ میں کہ : میں نے غصہ میں دھمکی کے ارادہ سے اپنی بیوی کو مخاطب ہو کر کہا " پہلی بات یہ ہے کہ جب آپ کے والدین  سلاروین تھے تو آپ نے مجھے بلانا ہی نہیں تھا اب آپکا سامان پڑا ہے دو دن میں اٹھا لینا , نہیں تو میں کمرے سے باہر نکال  دوں گا , میری طرف سے فیصلہ ختم ہو گیا , میری طرف سے اب آپ میری بیوی نہیں رہی اور طلاق لینے کے لیے پہلے حق مہر پر سائن کروا کے لے آنا طلاق پیپر پر میں سائن کر دوں گا ۔ نہیں تو پھر میری طرف سے وہاں میرے نکاح میں بیٹھی رہو " ۔ کیا اس طرح کہنے سے طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں ؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
صورت مسئولہ میں طلاق کے لیے صریح الفاظ تو استعمال نہیں کیے گئے لیکن کلمات "فیصلہ" اور " میری بیوی نہیں رہی " عرف عام میں طلاق ہی کے معنوں میں مستعمل ہیں ۔لیکن اسکے متصل بعد کلمات  "طلاق لینے کے لیے حق مہر پر .... الخ " اور " میرے نکاح میں بیٹھی رہو " سے دو باتیں سمجھ آ سکتی ہیں ایک تو یہ کہ تحریری طلاق کے لیے یہ شرط ہے , اور دوسرا یہ کہ سابقہ کلمات میں طلاق مقصود نہیں محض تہدید اور ڈرانا ہی مقصود ہے ۔
ایسی ذو معنیین کلام میں جب الفاظ بھی صریح نہ ہوں متکلم کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے ۔ اور متکلم کا کہنا ہے کہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی بلکہ صرف ڈرانا مقصود تھا ۔ اگر واقعتا ایسا ہی ہے تو صورت مسئولہ میں طلاق واقع نہیں ہوئی , بلکہ نکاح قائم ہے ۔ اور اگر حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ اس وقت متکلم کی نیت طلاق ہی کی تھی اور صرف تحریری طلاق کے لیے اس نے یہ شرائط عائد کی تھیں تو پھر ایک رجعی طلاق واقع ہو چکی ہے اور دوران عدت خاوند کو رجوع کا اختیار ہے ۔  وہ چاہے تو رجوع کر کے گھر بسا سکتا ہے ۔ اور لڑکی یا اسکے اولیاء رجوع میں حائل یا رکاوٹ نہیں بن سکتے کیونکہ اللہ تعالى کا فرمان ہے :
وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا (البقرة : 228)
اور انکے خاوند اس (عدت کے ) دوران رجوع کا زیادہ حق رکھتے ہیں , اگر انکی اصلاح کی نیت ہو ۔
اور طلاق یافتہ عورتوں کی عدت اللہ تعالى نے تین حیض مقرر فرمائی ہے :
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ (البقرة : 228)
اور طلاق یافتہ عورتیں تین حیض تک انتظار کریں  ۔

ہذا ما عندی واللہ تعالی أعلم وعلمہ أکمل وأتم ورد العلم إلیہ أسلم والشکر والدعا لمن نبہ وأرشد وقوم
مزید پڑھیں

الأحد، أبريل 14

بذریعہ عدالت یکمشت بھیجی گئی تین طلاقوں کا حکم ؟


سوال : میرے بیٹے محمد نعیم بن محمد احسن قوم شیخ سکنہ ملتان  نے اپنی زوجہ سمیرا رانی بنت محمد شریف قوم شیخ سکنہ ساہیوال کو مورخہ ۹/۱/۲۰۰۸کو بذریعہ عدالت ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں ۔ عدالت نے شیڈول کے مطابق تین نوٹس بھی جاری نہیں کیے ۔ دی ہوئی طلاق کو عرصہ پانچ سال گزرگیا ہے ۔ اس دوران میاں بیوی کا آپس میں کوئی رابطہ یا تعلق قائم نہیں ہوا ۔
صورت مسئولہ میں میرا بیٹا محمد نعیم اپنی زوجہ سمیرا رانی سے رجوع یا نکاح جدید کا حق رکھتا ہے یا نہیں ؟
سائل : محمد احسن شیخ بن حاجی غلام مصطفى 
سکنہ : بھٹہ کالونی گلی نمبر۶ نزد چونگی نمر ۲۲قدیم
وہاڑی روڈ ملتان
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
اللہ رب العالمین نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے :الطلاق مرتان (البقرۃ:229)طلاق دو مرتبہ ہے ۔ لغت عربی میں لفظ مرۃکا معنی دفعۃ بعد دفعۃ ہے ۔یعنی ایک کام کو کرنے کے بعد وقفہ کرکے پھر اس کام کو دوبارہ سر انجام دینا ۔ یہی مفہوم قرآن حکیم کی اس آیت سے بھی واضح ہوتا ہے :یاأیہا الذین اٰمنوا لیستئذنکم الذین ملکت أیمانکم والذین لم یبلغوا الحلم منکم ثلث مرات من قبل صلاۃ الفجر وحین تضعون ثیابکم من الظہیرۃ ومن بعد صلاۃ العشاء ثلث عورات لکم ۔(النور :85)
ترجمہ:اے اہل ایمان ! تمہارے غلام اور نابالغ بچے بھی تم سے تین دفعہ اجازت طلب کریں ۔ نمازفجر سے قبل ،جب تم ظہر کے وقت اپنا لباس اتارتے ہو، اور نمازعشاء کے بعد ۔ یہ تین اوقات تمہارے پردے کے ہیں۔
    اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے لفظ مرات استعمال کیا ہے جوکہ مرۃ کی جمع ہے ۔ اور پھر اللہ تعالی نے خود ہی اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے تین مختلف اوقات بیان کیے ہیں جوکہ ایک دوسرے سے کافی دور ہیں ۔ اور الطلاق مرتان میں لفظ مرتان استعمال ہوا ہے جوکہ مرۃ کی تثنیہ ہے جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ طلاق دومرتبہ وقفہ وقفہ کے ساتھ ہے جس کے بعد مرد کو رجوع کا حق حاصل ہے۔ پھر اگر تیسری دفعہ طلاق دےدے تو عورت اس مرد پر حرام ہو جائے گی ۔ ہاں ایک صورت ہے کہ اس عورت کا نکاح کسی دوسرے شخص کے ساتھ معروف طریقے سے ہوجائے پھر آپس کی ناچاکی کیوجہ سے وہ دوسرا مرد بھی اس کو طلاق دے دیتا ہے یا وہ فوت ہو جاتا ہے تو یہ عورت عدت گزارنے کے بعد پہلے خاوند سے نکاح کروا سکتی ہے ۔(البقرۃ:230)
    مگر بعض لوگوں نے آجکل حلالہ کا طریقہ رائج کر رکھا ہے کہ ایک مرد کے ساتھ عورت کانکاح مدت مقررہ تک کے لیے کر دیا جاتا ہے پھر وہ اس مدت کے پورا ہونے کے بعد عورت کو طلاق دے دیتا ہے اور پھر پہلا خاوند اس سے دوبارہ نکاح کر لیتا ہے ۔ یہ قطعاً جائز نہیں ہے بلکہ رسول اللہﷺ  نے لعنت فرمائی ہے :[لعن اللہ المُحَلِّل والمُحَلَّل لہ] حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے ان دونوں اللہ کی لعنت ہو۔
[أبوداود کتاب النکاح باب فی التحلیل (2076)،ترمذی أبواب النکاح باب ماجاء فی المحل والمحلل لہ (1119) ]
    لغت حدیث کی معروف کتاب النہایة فی غریب الأثر والحدیث لابن أثیر1/431میں حلالہ کی تعریف یوں کی گئی ہے(ہو أن یطلق رجل امرأتہ ثلاثا فیتزوجہا رجل آخر علی شریطۃ أن یطلقہا بعد وطئہا لتحل لزوجہا الأول) وہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس عورت کے ساتھ دوسرا آدمی اس شرط پر نکاح کرے کہ وہ اس عورت سے جماع کرنے کے بعد اس کو طلاق دے دے گا تاکہ وہ عورت پہلے خاوند کے لے حلال ہوجائے۔
    احناف کی فقہی اصطلاح پر لکھی گئی کتاب القاموس الفقہی کے صفحہ 100 پر مُحَلِّل (حلالہ کرنےوالا)کی یہ تعریف درج ہے:المُحَلِّلُ:ہو المتزوج ثلاثا لتحل للزوج الأوّل وفی الحدیث الشریف لعن اللہ المحلِّل والمحلَّل لہ
(ترجمہ)محلِّل سے مراد وہ آدمی ہے جو تین دفعہ طلاق شدہ عورت سے شادی کرتا ہے تاکہ اس عورت کو پہلے خاوند کے لیے حلال کر دے اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جاتا ہے دونوں پر لعنت کرے ۔لہذا حلالہ کا مروجہ طریقہ کار بالکل حرام ہے ۔
اگر بیک وقت دی گئی تین طلاقوںکو نافذ کردیا جائے تو دو طلاقوں کے درمیانی وقفہ میں مرد کے لیے سوچ بیچار کی جو مہلت تھی وہ ختم ہو جائے گی ۔
    امام الأنبیاء جناب محمد مصطفیﷺ  ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کرتے تھے جیساکہ اس حدیث سے واضح ہے :(طلق رکانۃ بن عبد یزید أخو المطلب امرأتہ ثلاثا فی مجلس واحد فحزن علیہا حزنا شدیدًا فسألہ رسول اللہ~ کیف طلقتہا قال طلقتہا ثلاثا فقال فی مجلس واحد قال نعم قال فإنما تلک واحدۃ فارجعہا إن شئت قال فرجعہا)رکانہ بن عبدیزید جوکہ مطلب کے بھائی ہیں انہوں نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں پھر اس پر شدید غمگین ہوئے تو رسول اللہﷺنے پوچھا تونے کیسے طلاق دی تھی اس نے کہا  میں نے تین طلاقیں دی ہیں آپﷺ نے پوچھا ایک ہی مجلس میں ؟ اس نے کہا جی ہاں آپﷺ  نے فرمایا بےشک یہ تو صرف ایک ہی ہے اگر تو چاہتا ہے تو رجوع کر لے (راوی حدیث حضرت عبد اللہ بن عباس)فرماتے ہیں انہوں نے رجوع کر لیا[مسند أحمد ومن مسند بنی ہاشم مسند عبد اللہ بن عباس(2383)أبوداود کتاب الطلاق باب فی البتۃ (2208،2206)]
    اس حدیث کے بارے میں حافظ ابن حجرؒفتح الباری شرح صحیح بخاری میں کتاب الطلاق باب من أجاز طلاق الثلاث کے تحت رقمطراز ہیں کہ :وہذا الحدیث نص فی المسئلۃ لایقبل التأویل الذی فی غیرہ من الروایات
    ترجمہ:اس حدیث نے مسئلہ کی ایسی وضاحت کی ہے کہ جس میں اس تاویل کی گنجائش باقی نہیں ہے جوکہ دوسری روایات میں کی جاتی ہے۔
    ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک شمار کرنا رسول اللہﷺ  ، ابوبکرt، اورعمر فاروق t کی خلافت کے ابتدائی دوسالوں تک چلتا رہا پھر جناب عمرt  نے ایک مجلس کی تین طلاقوں پر تین کا حکم لگا دیا تھا جیساکہ عبد اللہ بن عباسt سے مروی ہے کہ:(کان الطلاق علی عہد رسول اللہﷺ  وأبی بکر t وسنتین من خلافت عمرt طلاق الثلاث واحدۃ فقال عمر بن الخطاب t إن الناس قد استعجلوا فی أمر کانت لہم فیہ أناۃ فلو أمضیناہ علیہم فأمضاہ علیہم
[مسلم کتاب الطلاق باب طلاق الثلاث (1472)]
    رسول اللہﷺ  ،ابوبکر tاور عمرفاروقtکی خلافت کے ابتدئی دوسالوں میں اکٹھی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا پھر سیدنا عمر بن خطاب t نے فرمایا جس کام میں لوگوں کے لیے سوچ بیچار کا موقع تھا اس میں انہوں نے جلدی شروع کردی ہے تو ہم ان پر تینوں ہی لازم کردیتے ہیں لہذا انہوں نے تینوں ہی لازم کردیں۔
    یادرہے کہ سیدنا عمر فاروق t کا یہ فیصلہ سیاسی اور تہدیدی تھا جیساکہ فقہ حنفی کی مشہور کتاب حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار 6/511،جامع الرموز1/506،مجمع الأنہر شرح ملتقی الأبحر میں بھی لکھا ہے کہ:واعلم أنَّ فی الصدر الأول إذا أرسل الثلاث جملۃ لم یحکم إلا بوقوع واحدۃ إلی زمن عمر t ثم حکم بوقوع الثلاث لکثرتہ بین الناس تہدیدًا
    ترجمہ:اسلام کے ابتدائی دور سے لیکر عمرtدور خلافت تک جب اکٹھی تین طلاقیں بھیجی جاتیں تو ان پر ایک طلاق کا حکم لگایا جاتا پھر جب یہ عادت لوگوں میں زیادہ ہوگئی تو پھر تہدیدی طور پر تین طلاقوں کا حکم لگا دیا گیا ۔
    فقہ حنفی کی محولہ کتب کی اس صراحت سے یہ بات ظاہر ہو گئی ہے کہ سیدنا عمر t کا فیصلہ سیاسی اور تہدیدی تھا ۔جبکہ رسول اللہﷺ  کا فیصلہ شرعی اور حتمی ہے ۔لہذا ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی طلاق کا حکم رکھتی ہیں جسکے بعد خاوند کو دوران عدت رجوع اور بعد از عدت تجدید نکاح کا حق حاصل ہے ۔
صورت مسؤلہ میں ایک طلاق واقع ہو چکی ہے , جس کے بعدمحمد نعیم کو تجدید نکاح کا حق حاصل ہے۔ اور وہ سمیرا رانی کے ساتھ نکاح جدید کرکے اپنا گھر بسا سکتا ہے ۔

ہذا ما عندی واللہ تعالی أعلم وعلمہ أکمل وأتم ورد العلم إلیہ أسلم والشکر والدعا لمن نبہ وأرشد وقوم
مزید پڑھیں

کیا وقفہ وقفہ سے دو طلاقوں کے بعد رجوع کا اختیار ہے ؟


سوال : شیراز حسین نے شادی کے ایک ماہ بعد اپنی بیوی صباء کو تحریری طور پر تین طلاق دی تھی , مگر بعد میں معلومات پر اندازہ ہوا کہ یہ ایک ہی طلاق ہے تو اس نے رجوع کر لیا ۔ پھر ۹ سال بعد آج سے چار روز قبل زبانی طور پر تین مرتبہ لفظ طلاق دہرایا  اور گھر سے نکال دیا  ۔ شریعت اسلامیہ میں اب اسکے لیے رجوع کرنے کی کوئی صورت باقی ہے ؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
اللہ رب العالمین نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے :الطلاق مرتان (البقرۃ:229)طلاق دو مرتبہ ہے ۔ لغت عربی میں لفظ مرۃکا معنی دفعۃ بعد دفعۃ ہے ۔یعنی ایک کام کو کرنے کے بعد وقفہ کرکے پھر اس کام کو دوبارہ سر انجام دینا ۔ یہی مفہوم قرآن حکیم کی اس آیت سے بھی واضح ہوتا ہے :یاأیہا الذین اٰمنوا لیستئذنکم الذین ملکت أیمانکم والذین لم یبلغوا الحلم منکم ثلث مرات من قبل صلاۃ الفجر وحین تضعون ثیابکم من الظہیرۃ ومن بعد صلاۃ العشاء ثلث عورات لکم ۔(النور :85)
ترجمہ:اے اہل ایمان ! تمہارے غلام اور نابالغ بچے بھی تم سے تین دفعہ اجازت طلب کریں ۔ نمازفجر سے قبل ،جب تم ظہر کے وقت اپنا لباس اتارتے ہو، اور نمازعشاء کے بعد ۔ یہ تین اوقات تمہارے پردے کے ہیں۔
    اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے لفظ مرات استعمال کیا ہے جوکہ مرۃ کی جمع ہے ۔ اور پھر اللہ تعالی نے خود ہی اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے تین مختلف اوقات بیان کیے ہیں جوکہ ایک دوسرے سے کافی دور ہیں ۔ اور الطلاق مرتان میں لفظ مرتان استعمال ہوا ہے جوکہ مرۃ کی تثنیہ ہے جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ طلاق دومرتبہ وقفہ وقفہ کے ساتھ ہے جس کے بعد مرد کو رجوع کا حق حاصل ہے۔ پھر اگر تیسری دفعہ طلاق دےدے تو عورت اس مرد پر حرام ہو جائے گی ۔ ہاں ایک صورت ہے کہ اس عورت کا نکاح کسی دوسرے شخص کے ساتھ معروف طریقے سے ہوجائے پھر آپس کی ناچاکی کیوجہ سے وہ دوسرا مرد بھی اس کو طلاق دے دیتا ہے یا وہ فوت ہو جاتا ہے تو یہ عورت عدت گزارنے کے بعد پہلے خاوند سے نکاح کروا سکتی ہے ۔(البقرۃ:230)
    مگر بعض لوگوں نے آجکل حلالہ کا طریقہ رائج کر رکھا ہے کہ ایک مرد کے ساتھ عورت کانکاح مدت مقررہ تک کے لیے کر دیا جاتا ہے پھر وہ اس مدت کے پورا ہونے کے بعد عورت کو طلاق دے دیتا ہے اور پھر پہلا خاوند اس سے دوبارہ نکاح کر لیتا ہے ۔ یہ قطعاً جائز نہیں ہے بلکہ رسول اللہﷺ  نے لعنت فرمائی ہے :[لعن اللہ المُحَلِّل والمُحَلَّل لہ ] حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے ان دونوں اللہ کی لعنت ہو۔
[أبوداود کتاب النکاح باب فی التحلیل (2076)،ترمذی أبواب النکاح باب ماجاء فی المحل والمحلل لہ (1119) ]
    لغت حدیث کی معروف کتاب النہایة فی غریب الأثر والحدیث لابن أثیر1/431میں حلالہ کی تعریف یوں کی گئی ہے (ہو أن یطلق رجل امرأتہ ثلاثا فیتزوجہا رجل آخر علی شریطۃ أن یطلقہا بعد وطئہا لتحل لزوجہا الأول) وہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس عورت کے ساتھ دوسرا آدمی اس شرط پر نکاح کرے کہ وہ اس عورت سے جماع کرنے کے بعد اس کو طلاق دے دے گا تاکہ وہ عورت پہلے خاوند کے لے حلال ہوجائے۔
    احناف کی فقہی اصطلاح پر لکھی گئی کتاب القاموس الفقہی کے صفحہ 100 پر مُحَلِّل (حلالہ کرنےوالا)کی یہ تعریف درج ہے:المُحَلِّلُ:ہو المتزوج ثلاثا لتحل للزوج الأوّل وفی الحدیث الشریف لعن اللہ المحلِّل والمحلَّل لہ
(ترجمہ)محلِّل سے مراد وہ آدمی ہے جو تین دفعہ طلاق شدہ عورت سے شادی کرتا ہے تاکہ اس عورت کو پہلے خاوند کے لیے حلال کر دے اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جاتا ہے دونوں پر لعنت کرے ۔لہذا حلالہ کا مروجہ طریقہ کار بالکل حرام ہے ۔
اگر بیک وقت دی گئی تین طلاقوںکو نافذ کردیا جائے تو دو طلاقوں کے درمیانی وقفہ میں مرد کے لیے سوچ بیچار کی جو مہلت تھی وہ ختم ہو جائے گی ۔
    امام الأنبیاء جناب محمد مصطفیﷺ  ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کرتے تھے جیساکہ اس حدیث سے واضح ہے :(طلق رکانۃ بن عبد یزید أخو المطلب امرأتہ ثلاثا فی مجلس واحد فحزن علیہا حزنا شدیدًا فسألہ رسول اللہ ~ کیف طلقتہا قال طلقتہا ثلاثا فقال فی مجلس واحد قال نعم قال فإنما تلک واحدۃ فارجعہا إن شئت قال فرجعہا)رکانہ بن عبدیزید جوکہ مطلب کے بھائی ہیں انہوں نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں پھر اس پر شدید غمگین ہوئے تو رسول اللہﷺنے پوچھا تونے کیسے طلاق دی تھی اس نے کہا  میں نے تین طلاقیں دی ہیں آپﷺ نے پوچھا ایک ہی مجلس میں ؟ اس نے کہا جی ہاں آپﷺ  نے فرمایا بےشک یہ تو صرف ایک ہی ہے اگر تو چاہتا ہے تو رجوع کر لے (راوی حدیث حضرت عبد اللہ بن عباس)فرماتے ہیں انہوں نے رجوع کر لیا[مسند أحمد ومن مسند بنی ہاشم مسند عبد اللہ بن عباس(2383)أبوداود کتاب الطلاق باب فی البتۃ (2208،2206)]
    اس حدیث کے بارے میں حافظ ابن حجرؒفتح الباری شرح صحیح بخاری میں کتاب الطلاق باب من أجاز طلاق الثلاث کے تحت رقمطراز ہیں کہ :وہذا الحدیث نص فی المسئلۃ لایقبل التأویل الذی فی غیرہ من الروایات
    ترجمہ:اس حدیث نے مسئلہ کی ایسی وضاحت کی ہے کہ جس میں اس تاویل کی گنجائش باقی نہیں ہے جوکہ دوسری روایات میں کی جاتی ہے۔
    ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک شمار کرنا رسول اللہﷺ  ، ابوبکرt، اورعمر فاروق t کی خلافت کے ابتدائی دوسالوں تک چلتا رہا پھر جناب عمرt  نے ایک مجلس کی تین طلاقوں پر تین کا حکم لگا دیا تھا جیساکہ عبد اللہ بن عباس t سے مروی ہے کہ:(کان الطلاق علی عہد رسول اللہﷺ  وأبی بکر t وسنتین من خلافت عمرt طلاق الثلاث واحدۃ فقال عمر بن الخطاب t إن الناس قد استعجلوا فی أمر کانت لہم فیہ أناۃ فلو أمضیناہ علیہم فأمضاہ علیہم
[مسلم کتاب الطلاق باب طلاق الثلاث (1472)]
    رسول اللہﷺ  ،ابوبکر tاور عمرفاروقtکی خلافت کے ابتدئی دوسالوں میں اکٹھی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا پھر سیدنا عمر بن خطاب t نے فرمایا جس کام میں لوگوں کے لیے سوچ بیچار کا موقع تھا اس میں انہوں نے جلدی شروع کردی ہے تو ہم ان پر تینوں ہی لازم کردیتے ہیں لہذا انہوں نے تینوں ہی لازم کردیں۔
    یادرہے کہ سیدنا عمر فاروق t کا یہ فیصلہ سیاسی اور تہدیدی تھا جیساکہ فقہ حنفی کی مشہور کتاب حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار 6/511،جامع الرموز1/506،مجمع الأنہر شرح ملتقی الأبحر میں بھی لکھا ہے کہ:واعلم أنَّ فی الصدر الأول إذا أرسل الثلاث جملۃ لم یحکم إلا بوقوع واحدۃ إلی زمن عمر t ثم حکم بوقوع الثلاث لکثرتہ بین الناس تہدیدًا
    ترجمہ:اسلام کے ابتدائی دور سے لیکر عمرtدور خلافت تک جب اکٹھی تین طلاقیں بھیجی جاتیں تو ان پر ایک طلاق کا حکم لگایا جاتا پھر جب یہ عادت لوگوں میں زیادہ ہوگئی تو پھر تہدیدی طور پر تین طلاقوں کا حکم لگا دیا گیا ۔
    فقہ حنفی کی محولہ کتب کی اس صراحت سے یہ بات ظاہر ہو گئی ہے کہ سیدنا عمر t کا فیصلہ سیاسی اور تہدیدی تھا ۔جبکہ رسول اللہﷺ  کا فیصلہ شرعی اور حتمی ہے ۔لہذا ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی طلاق کا حکم رکھتی ہیں جسکے بعد خاوند کو رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ۔
اور طلاق یافتہ خواتین کے لیے اللہ رب العالمین نے عدت تین حیض متعین فرمائی ہے :والمطلقات یتربصن بأنفسہن ثلاثۃ قروء  ۔  اور طلاق یافتہ عورتیں تین حیض تک انتظار کریں (عدت گزاریں) (البقرۃ )
صورت مسؤلہ میں دوسری رجعی طلاق واقع ہو چکی ہے , جس کے بعد خاوند کو دوران عدت رجوع اور بعد از عدت تجدید نکاح کا حق حاصل ہے۔ لیکن اگر اسکے بعد اس نے طلاق دی تو پھر اسکے لیے رجوع کا کوئی اختیار باقی نہیں رہے گا ۔
ہذا ما عندی واللہ تعالی أعلم وعلمہ أکمل وأتم ورد العلم إلیہ أسلم والشکر والدعا لمن نبہ وأرشد وقوم
مزید پڑھیں

الأربعاء، أبريل 10

بیوہ عورت پر دوران عدت پابندیاں اور رخصتیں .




  1.        بیوہ خواتین پر عدت کے دوران کیا پابندیاں ہیں ؟
  2.       کس حد تک نرمی کی جاسکتی ہے جبکہ بیوہ کا بیٹا , بھائی , اور کوئی محرم رشتہ دار نہ ہو ؟ گھر سے باہر نکلنے کی حدود کیا ہونگی ؟
  3.      تعزیت کے آنے والے مرد حضرات سے کیسے معاملہ کرے جبکہ خاتون ملازمت پیشہ ہو ؟


الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب واليه المرجع والمآب



۱۔ خواتین پر عدت کے دوران پابندی ہے کہ وہ زیب وزینت نہ کرے , اچھا لباس نہ پہنے , سرمہ کنگھی وغیرہ نہ کرے , بلا امر مجبوری گھر سے باہر نہ نکلے ۔
 ۲۔اگر کوئی ایسی مجبوری ہے کہ گھر سے باہر نکلے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے تو عورت دوران عدت گھر سے باہر جا سکتی ہے (صحیح مسلم  کتاب الطلاق باب جواز خروج المعتدۃ البائن والمتوفى عنہا : ۱۴۸۳)
۳۔ مکمل طور پر حجاب ونقاب کرکے ان سے ضروری بات چیت کر سکتی ہے اور سن سکتی ہے ۔ شریعت نے اس بارہ میں کوئی پابندی نہیں لگائی ۔ ہاں غیر ضروری باتیں کرنا ممنوع ہے ۔


ہذا واللہ تعالى أعلم , وعلمہ أکمل وأتم , ورد العلم إلیہ أسلم , والشکر والدعاء لمن نبہ وأرشد وقوم
 

مزید پڑھیں