• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

‏إظهار الرسائل ذات التسميات نماز کے مسائل. إظهار كافة الرسائل
‏إظهار الرسائل ذات التسميات نماز کے مسائل. إظهار كافة الرسائل

الخميس، فبراير 19

مسجد کے علاوہ کھلے میدان میں جمعہ ادا کیا جاسکتا ہے ؟

مسجد کے علاوہ کھلے میدان یا پارک وغیرہ میں جمعہ ادا کرنے کا کیا حکم ہے ؟

الجواب بعون الوہاب

مسجد کی عدم موجودگی یا تنگی کی وجہ سے کسی بھی اور جگہ جمعہ کی نماز ادا کی جاسکتی ہے ۔ 
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارکہ میں بحرین کی بستی جواثا میں جمعہ ادا کیا گیا تھا
صحیح بخاری: ۸۹۲
مزید پڑھیں

مسجد میں کب آئیں تو جمعہ کا ثواب ملے گا؟

مسجد میں کب تک داخل ہوں تو جمعہ کا ثواب ملے گا ؟ کیا خطبہ ختم ہونے کے بعد بھی جمعہ ہی ہوگا یا ظہر ؟

الجواب بعون الوہاب

جمعہ کی آخری رکعت بھی پالے تو اسے نماز جمعہ کا ثواب مل جائے گا. لیکن جمعہ کا وہ خاص ثواب صرف اسے ہی ملے گا جو خطبہ جمعہ شروع ہونے سے پہلے آیا. اور آداب کو ملحوظ رکھا
مزید پڑھیں

مسافر کی مقیم کے پیچھے نماز کتنی رکعت ہوگی.؟ جبکہ وہ امام کو تیسری رکعت میں پائے یا تشہد کی حالت میں؟

مسافر کی مقیم کے پیچھے نماز کتنی رکعت ہوگی.؟ جبکہ وہ امام کو تیسری رکعت میں پائے یا تشہد کی حالت میں؟
ڈاکٹر رضوان 

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب

اگر مسافر مقیم امام کے ساتھ ایک رکعت بھی پا لیتا ہے تو اسے چار رکعتیں ہی ادا کرنا ہونگی.
اور اگر ایک رکعت بھی نہیں پاتا مثلا آخری رکعت کے رکوع میں یا اسکے بعد شامل ہوتا ہے تو پھر وہ دو رکعتیں ہی پڑھے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ: إِنَّا إِذَا كُنَّا مَعَكُمْ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا، وَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى رِحَالِنَا صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ. قَالَ: «تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
مسند أحمد: 1862 ط الرسالة

موسی بن سلمہ کہتے ہیں ہم ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ میں تھے تو میں نے پوچھا جب ہم آپکے ساتھ ہوتے ہیں تو چار رکعتیں پڑھتے ہیں اور جب ہم اپنے خیموں کی طرف لوٹتے ہیں تو دو رکعتیں پڑھتے ہیں.
تو انہوں نے کہا یہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے
لہذا
آخری ایک رکعت بھی پالے تب بھی چار ہی پڑھے گا کیونکہ ساتھ تو مل ہی گیا۔
اور اگر اگر آخری رکعت نہ ملے تو دو پڑھے گا کیونکہ امام کے ساتھ یا باجماعت ایک رکعت بھی اسے نہیں ملی



مزید پڑھیں

ایک علاقے میں اہلحدیث مسجد ہو ہی نہ... اور مماتی دیوبندیوں کی مسجد ہو تب کیا کرنا چاہیے

ایک علاقے میں اہلحدیث مسجد ہو ہی نہ... اور مماتی دیوبندیوں کی مسجد ہو تب کیا کرنا چاہیے

الجواب بعون الوہاب

ہر وہ مسجد جسکی بنیاد تقوی پر ہو اس میں نماز ادا کرنا درست اور جسکی بنیاد تقوی پر نہ ہو وہاں نماز ادا کرنا ممنوع ہے:
(لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا ۚ لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ فِيهِ ۚ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا ۚ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ) [سورة التوبة : 108]
مزید پڑھیں

کیا دیوبندیوں کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے ؟

كيا ديوبنديوں كے پیچھے نماز ہو جاتی ہے بعض أهل حديث علماء كہتے ہي هو جاتي ہے بعض كہے ہی نہی ہوتی درست بات كون سي ہے جزاك الله خيرا
نوید 
الجواب بعون الوہاب

درست بات یہ ہے کہ کسی بھی کافر ومشرک کی اقتداء میں نماز نہیں ہوتی. اور ہر مومن وموحد کی اقتداء میں نماز ہو جاتی ہے 
اہلحدیث کہلوانے والے بھی کچھ لوگ کفر وشرک کا ارتکاب کرتے ہیں. اور بہت سے غیر اہلحدیث بھی مؤمن وموحد ہوتے ہیں.
آپ نے جس امام کی اقتداء میں نماز پڑھنی ہے اسکا عقیدہ وعمل دیکھیں اور اہل علم سے فیصلہ کروا لیں
مزید پڑھیں

الأربعاء، فبراير 18

دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے اور جلسہ استراحت کی حالت میں، دونوں ہاتهوں کو رانوں پر رکهنے کی کیا کوئی خالص دلیل موجود ہے؟


دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے اور جلسہ استراحت کی حالت میں، دونوں ہاتهوں کو رانوں پر رکهنے کی کیا کوئی خالص دلیل موجود ہے؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

عموم سے ہی استدلال کرتے ہیں۔
صحیح مسلم میں ہے :
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظ لَهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ يَدْعُو وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ وَوَضَعَ إِبْهَامَهُ عَلَى إِصْبَعِهِ الْوُسْطَى وَيُلْقِمُ كَفَّهُ الْيُسْرَى رُكْبَتَهُ
صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ باب صفۃ الجلوس فی الصلاۃ وکیفیۃ وضع الیدین ح ۵۷۹
اور مسند احمد میں ہے :
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رَاشِدٍ أَبِي سَعْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ فَدَعَا وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ كَانَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ مسند أحمد ح ۱۴۹۴۵
اس حدیث میں " إذا قعد یدعو " اور " إذا جلس فدعا " کے الفاظ عام ہیں اور اس عموم میں وہ تمام تر قعدے شامل ہیں جن میں دعاء کی جاتی ہے اور اسکے تحت قعدہء تشہد بھی آتا ہے اور قعدہ بین السجدتین بھی !
یاد رہے کہ حدیث :
عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَعَدَ فِي التَّشَهُّدِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى وَعَقَدَ ثَلَاثَةً وَخَمْسِينَ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ
صحیح مسلم ح ۵۸۰

اور اس طرح کی دیگر احادیث مقدم الذکراحادیث کے عموم کو تشہد کے ساتھ خاص نہیں کرتیں , جسطرح کہ حدیث :
عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَعَدَ فِي آخِرِ الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى وَنَصَبَ إِصْبَعَهُ
سنن دارمی کتاب الصلاۃ باب الإشارۃ فی التشہد ح ۱۳۳۹

اور اسطرح کی دیگر احادیث ثانی الذکر احادیث میں تشہد کے عموم کو آخری تشہد کے ساتھ خاص نہیں کرتی ۔
کیونکہ ان میں اسی عام کے ایک فرد کا بیان ہیں , اور عام کے افراد میں سے کسی ایک فرد کا ذکر اس عام کے عموم کو ختم نہیں کرتا
مزید پڑھیں

مسافر مقتدی امام کے ساتھ ایک رکعت پا لے تو وہ قصر کرے یا مکمل نماز ادا کرے ؟

مسافر جب مقیم امام کی اقتداء کرے، اگر وہ نماز ظہر ہے، مسافر نے آخری رکعت پائی،امام کے سلام پهیرنے کے بعد وہ کتنی رکعتین مزید پڑهے گا؟ کیونکہ اس پر حالت سفر میں صرف دو رکعتیں فرض تهیں اور اب وہ امام کی اقتداء سے نکل گیا ہے.
وہ دو رکعتیں پوری کریگا یا کہ مقیم امام کے ماموم ہونے کی بنا پراس پر چار رکعتیں لاگو ہیں؟
برائے مہربانی جواب قرآن و سنت کی روشنی میں مرحمت فرما کر اجر عظیم حاصل کریں. 
جزاكم الله خيرًا
سائل : أبو عثمان شوکت اقبال

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

چار رکعتیں ہی پڑھے گا
عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ: إِنَّا إِذَا كُنَّا مَعَكُمْ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا، وَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى رِحَالِنَا صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ. قَالَ: " تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مسند أحمد ط الرسالۃ جـ 3 صـ 375 حـ 1862 
موسى بن عقبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ میں تھے تو میں ںے ان سے پوچھا کہ جب ہم امام کے ساتھ ہوتے ہیں تو ہمیں چار رکعتیں پڑھنا پڑتی ہیں اور جب ہم اپنے خیموں میں ہوتے ہیں تو پھر صرف دو رکعتیں ۔ تو انہوں نے فرمایا " یہ ابو القاسم صلى اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔
یہ حسن لذاتہ روایت ہے
مزید پڑھیں

اگر مغرب کی نماز امام تیسری رکعت میں تشهد کے بعد چوتھی رکعت کے لئے اٹھ گیا تو پھر کیا صورت اختیار کی جائے گی صرف سجدہ سہو کافی ہے؟

اگر مغرب کی نماز امام تیسری رکعت میں تشهد کے بعد چوتھی رکعت کے لئے اٹھ گیا تو پھر کیا صورت اختیار کی جائے گی صرف سجدہ سہو کافی ہے؟


اگر امام مغرب کی نماز کی تین رکعتیں پڑھا کر چوتھی رکعت کے لیے اٹھ جاتا ہے تو مقتدی سبحان اللہ کہہ کر اسے یاد دلائیں ۔ اگر امام صاحب کو یاد آ جائے اور وہ بیٹھ کر سلام پھیر دیں تو ایسی صورت میں سجدہ سہو کی بھی حاجت نہیں کیوں کہ نہ تو نماز میں کوئی کمی ہوئی ہے اور نہ اضافہ ۔ اور اگر انہیں یاد نہیں آتا بلکہ چار رکعتیں ہی پڑھا دیتے ہیں تو بعد میں صرف دو سجدہائے سہو کر لینا ہی کافی ہوگا ۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا فَلْيَطْرَحْ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعْنَ لَهُ صَلَاتَهُ وَإِنْ كَانَ صَلَّى إِتْمَامًا لِأَرْبَعٍ كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَان
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں شک کرے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تین یا چار ؟ تو وہ اپنا شک دور کرے اور یقین پر بنیاد رکھے پھر سلام پھیرنے سے قبل دو سجدے کر لے تو اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لی ہیں تو یہ دو سجدے اسکی نماز کو جفت کر دیں گے اور اگر اس نے اپنی نماز چار رکعتیں پوری کی ہے تو یہ دو سجدے شیطان کے لیے ذلت کا سبب بن جائیں گے
صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ باب السہو فی الصلاۃ والسجود لہ حـ ۵۷۱ ِ
مزید پڑھیں

اکیلا نمازی اور مقتدی ہمیشہ تکبیر تحریمہ آہستہ آواز سے کہتے ہیں ۔ صریح حدیث سے دکھائیں ؟

اکیلا نمازی اور مقتدی ہمیشہ تکبیر تحریمہ آہستہ آواز سے کہتے ہیں ۔ صریح حدیث سے دکھائیں ؟



اللہ تعالى کا فرمان ہے : واذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ (الأعراف :205) اور ڈرتے ہوئے , اپنے دل میں , تضرع کے ساتھ , اونچی آواز نکالے بغیر صبح وشام اپنے رب کا ذکر کر, اور غافلوں میں سے نہ ہو جا ۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالى نے ذکر کا اصول بتایا ہے کہ اللہ کا ذکر دل میں , اونچی آواز نکال بغیر کیا جائے ۔ لہذا تمام تر اذکار دل میں ہی کیے جائیں اور اونچی آواز نکالے بغیر کیے جائیں , ہاں جو اذکار جن مواقع پر بآواز بلند کرنا ثابت ہیں وہ ان موقعوں پر اونچی آواز سے کیے جائیں گے ۔ کیونکہ وہ شرعی دلیل کے ذریعہ اس قاعدہ کلیہ سے مستثنى ہو گئے ہیں ۔ اور تکبیر , یعنی اللہ اکبر بھی اللہ کا ذکر ہی ہے ۔ اس پر بھی یہی قانون لاگو ہوگا کہ یہ بھی دل میں , اونچی آواز نکالے بغیر کہی جائے , ہاں مکبر اور امام کا بآواز بلند تکبیرات انتقال کہنا شرعی دلیل سے ثابت ہے لہذا وہ اس اصول سے مستثنى ہیں ۔ خوب سمجھ لیں
مزید پڑھیں