• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الخميس، فبراير 19

کیا جب ہم برہنہ ہوتے ہیں تو کراما کاتبین ہم سے دور چلے جاتے ہیں ؟

الجواب بعون الوہاب

ان فرشتوں کے دور چلے جانے کے بارہ میں ایک روایت جامع ترمذی : ۲۸۰۰ میں بایں طور مذکور ہے :
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نِيْزَكَ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَيَّاةَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالتَّعَرِّيَ فَإِنَّ مَعَكُمْ مَنْ لَا يُفَارِقُكُمْ إِلَّا عِنْدَ الْغَائِطِ وَحِينَ يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى أَهْلِهِ فَاسْتَحْيُوهُمْ وَأَكْرِمُوهُمْ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَأَبُو مُحَيَّاةَ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى
تم برہنہ ہونے سے بچو کیونکہ تمہارے ساتھ وہ بھی ہوتے ہیں جو صرف قضائے حاجت کے وقت اور مباشرت کے وقت تم سے جدا ہوتے ہیں سو ان سے حیاء کرو اور انکی عزت کرو۔
لیکن اسکی سند لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے ضعیف ہے ۔
البتہ یہ بات صحیح مسلم کی اس روایت سے بھی ثابت ہو جاتی ہے:
و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ فَقَالَتْ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنِّي قُلْنَا بَلَى ح و حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ حَجَّاجًا الْأَعْوَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ بْنِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ أُمِّي قَالَ فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ أُمَّهُ الَّتِي وَلَدَتْهُ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا بَلَى قَالَ قَالَتْ لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا عِنْدِي انْقَلَبَ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ فَاضْطَجَعَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنْ قَدْ رَقَدْتُ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا وَانْتَعَلَ رُوَيْدًا وَفَتَحَ الْبَابَ فَخَرَجَ ثُمَّ أَجَافَهُ رُوَيْدًا فَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي وَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي ثُمَّ انْطَلَقْتُ عَلَى إِثْرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ فَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ فَلَيْسَ إِلَّا أَنْ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ فَقَالَ مَا لَكِ يَا عَائِشُ حَشْيَا رَابِيَةً قَالَتْ قُلْتُ لَا شَيْءَ قَالَ لَتُخْبِرِينِي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي قُلْتُ نَعَمْ فَلَهَدَنِي فِي صَدْرِي لَهْدَةً أَوْجَعَتْنِي ثُمَّ قَالَ أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ قَالَتْ مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ فَنَادَانِي فَأَخْفَاهُ مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ وَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ رَقَدْتِ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي فَقَالَ إِنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَتَسْتَغْفِرَ لَهُمْ قَالَتْ قُلْتُ كَيْفَ أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُولِي السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ
صحیح مسلم : 974
مزید پڑھیں

تکفیر معین اور تکفیر مطلق میں کیا فرق ہے ؟

تکفیر مطلق اور تکفیر معین میں کیا فرق ہے 

الجواب بعون الوہاب

تکفیر مطلق :
کسی بھی فعل کو کتاب وسنت میں کفر قرار ديا گیا ہو تو اس کے بارہ میں کہنا جس نے بھی یہ کام کیا وہ کافر ہے ۔ تکفیر مطلق کہلاتا ہے ۔ مثلا : اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے ۔اسی طرح اللہ تعالی یا نبی آخر الزماں ﷺ ، یا ارکان اسلام وایمان کا انکار کرنے سے بندہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ۔ لہذا ہم کہیں گے کہ جس نے بھی شرک کیا اسکا اسلام ختم ہوگیا اور جس نے بھی اللہ کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا ۔ اور اسے تکفیر مطلق کا نام دیا جاتا ہے ۔ اور ایسی تکفیر کی صورت میں جن افراد پر یہ تکفیر صادق آتی ہے ان سے کفار والا معاملہ نہیں کیا جاتا نہ ہی انہیں مرتد قرار دیا جاتا ہے ۔ بلکہ انہیں مرتد قراردینے کے لیے انکی مُعَیَّن تکفیر کی جاتی ہے ۔
تکفیر مُعَیَّن(nominate takfeer )
تکفیر معین یہ ہوتی ہے کہ کسی بھی ایسے کا م کے مرتکب شخص کو نام لے کر کافر قرار دینا جس کام کا کفر یا شرک ہونا کتاب وسنت سے ثابت ہے ۔مثلا : زید نے اللہ تعالی کی آیات کا مذاق اڑایا تو یہ کہنا کہ زید کافر ہے اسے تکفیر معین کہا جاتا ہے 

تفصیل کے لیے یہ مضمون پڑھ لیں:

آج کل ایک دوسرے کو کافر کہنے کا رواج عام ہوتا چلا جار ہا ہے ۔ اور کیوں نہ ہو ، اس میں تو لطف ہی بہت آتا ہے ۔کیونکہ ابلیس نے اس کام کو مسلمانوں کے لیے بڑا خوشنما بنا کر پیش کیا ہے ۔ ویسے تو ہر گناہ والا ہر کام ہی پر لطف ہوتا ہے ، گوکہ آخرت میں اسکا انجام بہت برا نکلتا ہے ، لیکن گناہ جیسے جیسے بڑا ہوتا جاتا ہے ویسے ہی اس کی لذت میں اضافہ ہو تا چلا جاتا ہے ۔ اور چونکہ کسی مسلمان کو کافر قرار دے دینا گناہوں میں سے بہت بڑا گناہ ہے اسی لیے اس گُناہ ِ پُرلذت کے مرتکب بہت ہی محظوظ ہوتے ہیں۔
ویسے اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو کسی کلمہ پڑھنے والے اور ارکان اسلام وایمان پر عمل کرنے والے شخص کو کافر قرار دینا بسا اوقات دینی وشرعی ضرورت بن جاتی ہے ۔ اور اسلام نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ اگر کوئی شخص کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جائے ، اسکے ظاہری اعمال مسلمانوں والے ہوں لیکن پھر اسکے بعد وہ کوئی ایسی حرکت کرے جو کسی مسلمان کو مرتد بنادیتی ہے تو اہل علم مکمل تحقیق وتفتیش کے بعد اسکے کافر ہونے کا اعلان کردیں اور مسلمان حاکم اس مرتد کو قتل کر دے تاکہ یہ گندی مچھلی سارے تالاب کو گندہ نہ کردے ۔
اور ماضی میں اس شرعی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت سے اسلام دشمنوں کو کافر قرار دیا گیا ہے جنہوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر کفر کی ترویج شروع کر دی تھی ۔ ماضی قریب میں مرزا غلام احمد قادیانی اس بات کی بہترین مثال ہے ۔ کہ مولانا بشیر احمد سہسوانی a نے مکمل تحقیق و تفتیش کے بعد اسکے کافر ہونے کا فتوى دیا ، پھر انکے بعد برصغیر کے دیگر علماء کرام نے مرزا غلام احمد قادیانی کے کردار کو پرکھ کر اس پر کفر کا فتوى لگایا ۔ اور یہ عین اسلام ضروریات میں ہے ، کہ ایسے ظالم شخص پر کفر کا فتوى لگا کر عوام الناس کے سامنے اسکا کفر واضح کیا جائے ۔
لیکن بہر حال جیسا کہ مثل مشہور ہے "جسکا کام اسی کو ساجے ... اور کرے تو ٹھینگا باجے" یہ کام ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کا نہیں ہے کہ ہر گاما، ما جا ، شِیدا جو چاہے اٹھے اور کفر کفر کی توپ چلانا شروع کر دے ۔ یہ نہایت حساس معاملہ ہے اور صرف یہ نہیں کہ عوام الناس یہ کام نہیں کر سکتے بلکہ یہ تو چھوٹے موٹے مولویوں کا کام بھی نہیں ہے ۔یہ ایسے کبار علماء کا فریضہ ہے جو راسخ فی العلم یعنی علم میں پختہ ہوں ، اور علماء بھی عوام الناس میں عالم دین مشہور ہونے کے باوجود ان کی طرف رجوع کرتے ہوں ، ان سے سیکھتے ہوں ، اور مسائل کا حل دریافت کرتے ہوں ، ایسے ہی لوگوں کو عرف عام میں استاذ العلماء (یعنی علماء کا استاد) یا استاذ الاساتذہ (یعنی استادوں کا استاد)کہا جاتا ہے ۔ الغرض یہ فریضہ جتنا بڑا ، اور معاملہ جتنا حساس ہے ، اسے سرانجام دینے کے لیے بھی اتنے بڑے علم وفضل کے حاملین اور حکمت ودانائی کے پیکر درکار ہیں ۔
اور یہ صرف اسی مسئلہ کی بات نہیں ہے بلکہ دنیا کا ہر کام اسی اصول پر ہی چلتا ہے ۔ کسی بھی ملک کی عوام زمامِ حکومت کسی مجنون اور دیوانے کے سپرد نہیں کرتی ، بلکہ کسی صاحب علم ودانش کو اپنا حاکم بناتی ہے ۔ کیونکہ نظام حکومت کو چلانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی ۔ایسے ہی تقریبا ہر معاملہ میں لیڈر اور رہنما صرف اسے ہی تسلیم کیا جاتا ہے جس میں قائدانہ صلاحیتیں بدرجہ اتم موجود ہوں ۔ وگرنہ وہ قوم تباہ ہو جاتی ہے جو اپنی سیادت وقیادت کسی نا اہل شخص کے سپرد کردے ۔ اور ایک عرب شاعر نے تو کیا خوب کہا ہے :

إذا کان الغراب دِلِّیل قوم​
سیہدیہم طریق الہالکین​
یعنی جب کسی قوم کا راہنما کوا بن جائے ، تو وہ انہیں ہلاکت کی راہوں پر ہی گامزن کرے گا ۔
الغرض "لِکلِّ فنٍ رِجالٌ" یعنی ہر فن کے لیے کوئی نہ کوئی ماہرین ہوتے ہیں ۔ ایسے ہی مسئلہ تکفیر کے لیے بھی ماہرین ِ فن کی ضرورت ہے ، وگرنہ جیسے قوم کو اگر عطائی حکیموں اور ڈاکٹروں کے پلے ڈال دیا جائے تو پھر قبرستان ہی آباد ہوتےہیں ، ویسے ہی اگر مسئلہ تکفیر کو بھی جاہل وکج فہم فتوى بازوں کے سپرد کر دیا جائے تو وہ ساری قوم کو ہی کافر بنا بیٹھتے ہیں ۔ لہذا یہ مسئلہ انہی لوگوں کے سپرد کرنا ضروری ہے جو اسے اسکے اہل ہیں ۔
شریعت اسلامیہ نے بہت سے کاموں کو کفریہ کام قرار دیا ہوا ہے ، لیکن اسکے باوجود دین اسلام کسی خاص آدمی کی طرف اشارہ کرکے یا اسکا نام لے کر اسے کافر قرار دینے سے منع کرتا ہے ، الا کہ اس میں کچھ شرائط پوری ہو جائیں اور اسکے معاملہ کی مکمل طور پر تحقیق کر لی جائے ۔ اس مختصر سے رسالہ میں ہم ان چند قوانین کا ذکر کریں گے کہ جن پر عمل درآمد کرنا اسلام نے کسی بھی شخص کو کافر کہنے کے لیے ضروری قرار دیا ہے ۔ جو شخص ان اصولوں کو مد نظر رکھے بغیر کافر کافر کی گردان کرتا ہے ، اسے تکفیری یا خارجی کہا جاتا ہے ۔
یاد رہے کہ اس رسالہ سے یہ ہر گز مقصود نہیں ہے کہ اسے پڑھ کر ہر شخص لوگوں کو کافر بنانے کی مشق شروع کر دے ، بلکہ مقصود صرف اور صرف اس معاملہ کے بارہ میں وضاحت کرنا ہے کہ یہ کام کن کن مراحل سے گزرنے کے بعد سر انجام دیا جاتا ہے ۔ تاکہ ذی شعور لوگ اسے پڑھتے ہی فورا سمجھ جائیں کہ یہ کام انکی دسترس سے بالا تر ہے ۔ اور اسے ان لوگوں کے ہی سپرد کریں جو یہ کام سر انجام دے سکتے ہیں ۔


تکفیر کی اقسام
کسی کو کافر قرار دینے کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک تو یہ کہ کسی گروہ یا شخص کا نام لے کر اسے کافر قرار دینا ، اسے تکفیر مُعَیَّن کہا جاتا ہے ۔ اور دوسرا یہ ہے کہ کسی کام کو کفریہ قرار دینا ، یعنی یوں کہنا کہ جس نے بھی فلاں کام کیا وہ کافر ہے ، اسے تکفیر مُطلَق کہا جاتا ہے ۔ یعنی تکفیر مطلق کسی خاص کفریہ فعل کی بناء پر ہوتی ہے ۔ لیکن اس خاص فعل کا مرتکب خاص شخص اس وقت تک کافر قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک اس میں تکفیر کی شرطیں پوری نہ ہو جائیں اور موانع ختم نہ ہو جائیں ۔ لہذا تکفیر مطلق اور تکفیر معین کا فرق سمجھنا ضروری ہے ۔
تکفیر مطلق :
کسی بھی فعل کو کتاب وسنت میں کفر قرار ديا گیا ہو تو اس کے بارہ میں کہنا جس نے بھی یہ کام کیا وہ کافر ہے ۔ تکفیر مطلق کہلاتا ہے ۔ مثلا : اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے ۔اسی طرح اللہ تعالی یا نبی آخر الزماں ﷺ ، یا ارکان اسلام وایمان کا انکار کرنے سے بندہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ۔ لہذا ہم کہیں گے کہ جس نے بھی شرک کیا اسکا اسلام ختم ہوگیا اور جس نے بھی اللہ کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا ۔ اور اسے تکفیر مطلق کا نام دیا جاتا ہے ۔ اور ایسی تکفیر کی صورت میں جن افراد پر یہ تکفیر صادق آتی ہے ان سے کفار والا معاملہ نہیں کیا جاتا نہ ہی انہیں مرتد قرار دیا جاتا ہے ۔ بلکہ انہیں مرتد قراردینے کے لیے انکی مُعَیَّن تکفیر کی جاتی ہے ۔
تکفیر مُعَیَّن(nominate takfeer )
تکفیر معین یہ ہوتی ہے کہ کسی بھی ایسے کا م کے مرتکب شخص کو نام لے کر کافر قرار دینا جس کام کا کفر یا شرک ہونا کتاب وسنت سے ثابت ہے ۔مثلا : زید نے اللہ تعالی کی آیات کا مذاق اڑایا تو یہ کہنا کہ زید کافر ہے اسے تکفیر معین کہا جاتا ہے ۔

تکفیر معین کے اصول
مطلق تکفیر تو قرآن وحدیث کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص کرتا ہے مگر تکفیر معین ایک حساس معاملہ ہے ۔ لیکن بہر حال اسلام میں کسی بھی شخص کی معین تکفیر کی جاسکتی ہے لیکن اس کے لیے اللہ تعالی نے کچھ اصول مقرر فرمائے ہیں جوکہ درج ذیل ہیں :

١۔ علم
اگر کسی آدمی کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ جو کام میں کر رہا ہوں وہ کام کرنے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے تو اس آدمی کو کفریہ کام کا ارتکاب کرلینے کے باوجود کافر نہیں کہا جائے گا ۔ مثلا زید نے اللہ تعالی کی آیات کا مذاق اڑایا ہے اور اسے معلوم ہی نہیں کہ ایسے کرنے سے انسان مرتد ہو جاتا ہے تو اسے مرتد یا کافر قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں "
إن اللہ تجاوز عن أمتي الخطأ والنسیان"میری امت سے خطا اور نسیان کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے درگزر کیا ہے، معاف کردیا ہے۔
(سنن ابن ماجہ کتاب الطلاق باب طلاق المکرہ والناسی ح2043)​
جہالت کی بنا پر، بھول کر، بندہ کام کرلیتا ہے۔ جاہل ہے، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردیں گے ۔ہم دنیا میں اس پر کفر کا فتویٰ نہیں لگا سکتے۔ جب تک اس کی جہالت رفع نہ ہو۔ بلکہ جہالت کی وجہ سے کفریہ کام سر انجام دینے والے کو تو اللہ تعالی نے معاف فرما دیا تھا ، ملاحظہ فرمائیں :
 عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " کَانَ رَجُلٌ یُسْرِفُ عَلَی نَفْسِہِ فَلَمَّا حَضَرَہُ المَوْتُ قَالَ لِبَنِیہِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِی، ثُمَّ اطْحَنُونِی، ثُمَّ ذَرُّونِی فِی الرِّیحِ، فَوَاللہِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَیَّ رَبِّی لَیُعَذِّبَنِّی عَذَابًا مَا عَذَّبَہُ أَحَدًا، فَلَمَّا مَاتَ فُعِلَ بِہِ ذَلِکَ، فَأَمَرَ اللہُ الأَرْضَ فَقَالَ: اجْمَعِی مَا فِیکِ مِنْہُ، فَفَعَلَتْ، فَإِذَا ہُوَ قَائِمٌ، فَقَالَ: مَا حَمَلَکَ عَلَی مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: یَا رَبِّ خَشْیَتُکَ، فَغَفَرَ لَہُ "سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک آدمی بہت گناہ گارتھا۔ تو جب اسکی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو کہا جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا کر رکھ بنا دینا اور پھر مجھے ہوا میں اڑا دینا ، اللہ کی قسم! اگر اللہ نے مجھے جمع کر لیا تو مجھے ایسا عذاب دے گا کہ جیسا اس نے کبھی کسی کو نہ دیا ہوگا۔ تو جب وہ فوت ہو گیا تو اسکے ساتھ ایسا ہی کیا گیا ۔ اللہ تعالی نے زمین کو حکم دیا کہ جوکچھ تیرے اندر ہے اسے جمع کر تو زمین نے اسکی خاک کو جمع کردیا اور وہ اللہ کے حضور پیش ہوا تو اللہ تعالی نے پوچھا: تجھے یہ کام کرنے پر کس نے ابھارا تھا ۔ تو وہ کہنے لگا: اے رب! تیرے ڈر نے ہی مجھے اس کام پر مجبور کیا تھا ۔تو اللہ تعالی نے اسے معاف فرما دیا ۔

(صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب حدیث الغار :3481)​
یعنی اس بیچارے نے اپنی جہالت کی وجہ سے یہ سمجھا کہ شاید اللہ کے پاس اتنی قدرت نہیں ہے کہ وہ ذروں کو جمع کر کے مجھے دوبارہ کھڑا کر سکے ۔البتہ وہ شخص مؤمن تھا اسے یقین تھا کہ مرنے کے بعد حساب دینا پڑے گا ۔ اللہ تعالی پر اسے یقین تھا ۔ لیکن اپنی نادانی اور جہالت کی وجہ سے اللہ تعالی کی صفات کا انکار کر بیٹھا کہ اگر میں راکھ ہو جاؤں گا اور میرے ذرات بکھر جائیں گے تو شاید اللہ تعالی کی گرفت سے بچ جاؤں گا ۔ اور اس نے یہ کام صرف اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرتے ہوئے کیا تھا ۔ تو اللہ رب العزت نے اسے معاف فرما دیا کہ اس شخص میں جہالت کا عذر تھا ۔

٢۔قصد وعمد
یعنی کوئی بھی شخص جو کفریہ کام کا مرتکب ہوا ہے ، وہ اگر جان بوجھ کر کفر کرے گا توہم اس کا نام لے کر اسے کافر کہیں گے اور اس پر مرتد ہونے کا فتوی لگے گا ۔ اور اگر وہ کفریہ کام اس سے کسی غلطی کی وجہ سے سرزد ہوا ہے تو اسے کافر یا دائرہ اسلام سے خارج نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں
"إن اللہ تجاوز عن أمتي الخطأ والنسیان"میری امت سے خطا اور نسیان کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے درگزر کیا ہے، معاف کردیا ہے۔
(سنن ابن ماجہ کتاب الطلاق باب طلاق المکرہ والناسی ح2043)​
اسی طرح وہ شخص کہ صحراء میں جس کا اونٹ گم ہو گیا اور وہ موت کا انتظار کرتے کرتے سوگیا ، لیکن جونہی آنکھ کھلی تو اس اونٹ سازو سامان سمیت اسکے سامنے کھڑا تھا ، تو انتہائی خوشی کے عالم میں بے ساختہ اسکی زبان سے یہ جملہ نکلا " یا اللہ تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں " (صحیح مسلم : ۲۷۴۷) ۔ ظاہراً تو یہ کلمہ کفریہ تھا ، لیکن چونکہ اس نے یہ جملہ جان بوجھ کر نہیں کہا بلکہ بلا اختیار اسکے منہ سے یہ الفاظ نکلے ، لہذا ایسے شخص کی تکفیر کرنا قطعا جائز نہ ہوگا ۔

٣۔ اختیار
تیسری شرط یہ ہے کہ وہ آدمی مختار ہو، یعنی اپنی مرضی اور اپنے اختیار سے کرے، اگر کوئی آدمی اس کو کہتا ہے کہ تو کفریہ کلمہ کہہ، نہیں تو تجھے ابھی قتل کرتا ہوں ۔ تو وہ اس کے جبر ، تشدد وظلم کے ڈر سے کوئی کفریہ کلمہ کہہ دیتا ہے یاکفریہ کام سر انجام دے بیٹھتا ہے تو ایسے آدمی کو کافر قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے :
مَنْ کَفَرَ بِاللہِ مِنْ بَعْدِ إِیمَانِہِ إِلَّا مَنْ أُکْرِہَ وَقَلْبُہُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِیمَانِ وَلَکِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْہِمْ غَضَبٌ مِنَ اللہِ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ (النحل : ١٠٦)جو آدمی اللہ پر ایمان لانے کے بعد کفر کرے( اللہ کو ہرگز یہ گوارا نہیں ہے)۔ہاں وہ بندہ جس کو مجبور کردیا گیا(تو اس آدمی پر کوئی وعید نہیں ہے) لیکن جس نے شرح صدر کے ساتھ ، دل کی خوشی کے ساتھ کفر کیااس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے،اوران کےلئے بہت بڑا عذاب ہے۔
یعنی اگر جان بوجھ کر ، اپنے اختیا ر کے ساتھ، جبرواکراہ کے بغیر، وہ ایسا کفریہ کلمہ کہتا ہے، یا کفریہ کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ قابل مؤاخذہ ہے۔ لیکن اگر کسی کے ڈرسے وہ کفریہ کام سرانجام دیتا ہے تو وہ قابل مؤاخذہ نہیں ہے۔
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا : "لا تشرک باللہ شیئا وإن قطعت وحرقت" تجھے جلا دیا جائے ، تیرے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں، اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرنا۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب الصبر علی البلاء ح4034)​
عزیمت پر محمول ہے ، یعنی موت کے خوف سے ، جان بچانے کی غرض سے کفریہ یا شرکیہ کام کرنا پڑتا ہے، کفریہ یا شرکیہ کلمہ کہنا پڑتا ہے تو آدمی کو رخصت ہے کہ کفریہ یا شرکیہ کلمہ کہہ سکتا ہے، شرکیہ یا کفریہ کام کرسکتا ہے، لیکن عزیمت یہی ہے کہ بندہ اس وقت بھی کفریہ کلمہ نہ کہے ۔ اور اگر وہ رخصت کو اپنالیتا ہے تو بھی شریعت نے اسکی اجازت دی ہے ۔ اور یہ کوئی مداہنت یا معیوب بات نہیں۔

٤۔ تأویل (misconception)
چوتھی شرط یہ ہے کہ جو شخص کفر کا ارتکاب کر رہا ہے وہ مؤول نہ ہو ۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ وہ کسی شرعی دلیل کا سہارا لے کر اس کام کو جائز سمجھتا ہو ۔قرآن وحدیث کی غلط تفسیر وتاویل کرکے کسی بھی کفریہ کام کو اپنے لیے جائز سمجھنے والے کی اس وقت تک تکفیر نہیں کی جاسکتی جب تک اس پر حجت قائم نہ ہو جائے ۔ مثلا آج کل بہت سے لوگ غیر اللہ سے مدد مانگتے ہیں ۔ تو ہم کہتے ہیں کہ غیر اللہ سے مدد مانگنا شرک ہے اور جو بھی غیر اللہ سے مدد مانگتا ہے وہ مشرک وکافر ہو جاتا ہے ۔ لیکن اگر زید نامی شخص غیر اللہ سے مدد مانگتا ہے تو ہم اسے اسوقت تک کافر قرار نہیں دیں گے جب تک اس پر حجت قائم نہ کر لیں، اس کی تحقیق نہ کر لیں ۔ کیونکہ اللہ تعالی نے غلط تاویل وتوجیہہ کرنے والوں کے ایسے کاموں سے درگزر فرمایا ہے نبی کریمﷺکا فرمان ہے :
إِذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَہَدَ ثُمَّ أَصَابَ، فَلَہُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَکَمَ فَاجْتَہَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ، فَلَہُ أَجْرٌ

( صحیح مسلم : 1716)​
جب فیصلہ کرنے والا فیصلہ کرتا ہے ، اگر تو اسکا فیصلہ درست ہو تو اسے دو اجر ملتے ہیں اور اگر اسکا اجتہاد اسے غلطی پر پہنچا دے توبھی اسے ایک اجر ملتا ہے ۔
اور ہمارے یہاں پائے جانے والے بہت سے ایسے افراد جو کفریہ وشرکیہ کام کرتے ہیں وہ اجتہادی خطأ کا شکار ہوتے ہیں اور کتاب وسنت کی نصوص کی غلط تاویل وتفسیر کرکے اسے ہی حق سمجھ رہے ہوتے ہیں ۔ لہذا کیسے ممکن ہے کہ ایسے شخص کی تکفیر کردی جائے جسے اللہ تعالی ایک اجر عطا فرماتے ہیں ؟!
الغرض کسی بھی شخص کی معین تکفیر یعنی اسکا نام لے کر اسے کافر قرار دینا یا کسی جماعت کی معین تکفیر اس وقت تک نہیں کی جاسکتی جب تک اللہ رب العزۃ کے مقرر کردہ اصول وقوانین کو اپلائی نہ کیا جائے ۔

۵۔ کفر ہونے کا اثبات
ایسے ہی جس کام کی بناء پر کسی شخص کو کافر قرار دیا جا رہا ہے اس کام کا کفر ہونا بھی شریعت اسلامیہ کے واضح دلائل وبراہین سے ثابت ہو ۔ یہ نہ ہو کہ جس کام کی بناء پر کفر کا فتوى لگایا جار ہا ہے شریعت اسے کفر ہی نہ سمجھتی ہو ۔ اور ہمارے معاشرہ میں اکثر وبیشتر ایسا ہی ہوتا ہے کہ عمل کا کفریہ ہونا ہی ثابت نہیں ہوتا ، مگر اسکی بناء پر لوگوں کو کافر قرار دیا جار ہا ہوتا ہے ۔ ایسا ہی کام نبی کریم ﷺ، قرآن مجید فرقان حمید اور اللہ تعالى کی گستاخی کے نام پر بھی کیا جاتا ہے ، کہ بہت سے ایسے افعال واقوال جو کہ شریعت کے میزان میں گستاخی نہیں بنتے ، انکی بناء پر بھی ارض پاک میں جابجا ظلم وبربریت کے بازار گرم کیے جاتے ہیں ، جوشیلے ہمنواؤں کے جلو میں فقیہانِ کج فہم کسی مسلمان پر چڑھ دوڑتے ہیں اور اسےکافر اور گستاخ کہہ کر موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے ۔ لہذا کسی بھی شخص کی تکفیر کے لیے ضروری ہے کہ جس عمل کی بناء پر اسے کافر کہا جار ہا ہے وہ عمل واقعتاً کفر ہو ۔

تکفیر مسلم کے بھیانک نتائج
اگر کوئی شخص کسی مسلمان آدمی کو جان بوجھ کر کافر کہہ دے ، تو کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے ۔ ​
(صحیح بخاری ، کتاب الادب ، باب من کفر أخاہ بغیر تأویل فہو کما قال : ۶۱۰۳)​
کیونکہ یہ معاملہ نہایت ہی سنگین ہے ، کسی بھی شخص کو کافر قرار دینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسکی جان ومال وآبرو کچھ بھی محفوظ نہیں رہی یعنی مسلمانوں کے لیے اسے قتل کرنا اور اسکا مال لوٹنا جائز ہو گیا ہے ۔اسی بناء پر آپ دیکھتے ہیں کہ جو لوگ پاکستانی حکام ، عدلیہ ، افواج اور پولیس وغیرہ کو کافر کہتے ہیں ، وہ انہیں قتل کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ اور انکا مال لوٹنے کے لیے اغواء برائے تاوان تو انکا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے ۔آئے روز ایسے واقعات سامنے آتے ہیں کہ فلاں جگہ بم دھماکہ ہوگیا ، فلاں جگہ خود کش حملہ ہوگیا ، فلاں شخص کوتحریک طالبان نے اغواء کرکے نامعلوم مقام پر پہنچا دیا اور اسکی رہائی کے عوض اتنی رقم کا مطالبہ رکھ دیا ہے ۔ یعنی تکفیر کا فتنہ ایسا خطرناک فتنہ ہے جو موجودہ دور کے تمام تر فتنوں سے زیادہ سنگین اور خطرناک ہے ۔ 
خاتمہ
کسی خاص شخص کو کافر قرار دینے سے متعلق یہ کچھ اہم بنیادی معلومات تھی جو ہم نے آپ کے سامنے رکھی ہے ۔ کہ کسی بھی کفریہ کام کے مرتکب شخص کو اس وقت تک کافر نہیں کہا جاسکتا جب تک مندرجہ بالا شرائط اس میں پوری نہ ہو جائیں ۔ اور یہ کام صرف اور صرف راسخ فی العلم علماء اور قضاۃ کا ہے ، نہ کہ جو چاہے ان شرائط کو خود سے پورا کرلے اور کافر کافر کی گردان کرتا پھرے اور کہے کہ میں نے تو حجت قائم کردی ہے لہذا میرے نزدیک اب یہ شخص کافر ہے ۔ اور جو لوگ ان اصولوں اور قاعدوں کو بالائے طاق رکھ کر مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں انہیں تکفیری کہا جاتا ہے ۔
اللہ سے دعاء ہے کہ وہ اس مختصر رسالہ کو اہل اسلام کے لیے نفع بخش بنادے ۔ آمین


مزید پڑھیں

میت کی اولاد اگر قل خوانی کروائے تو کیا میت کو ثواب پہنچتا ہے ؟


میت کی اولاد اگر قل خوانی کروائے تو کیا میت کو ثواب پہنچتا ہے ؟

الجواب بعون الوہاب

مروجہ رسم قرآن خوانی کہ جس میں قرآن پڑھ کر میت کو اسکا ثواب بخشا جاتا ہے , بدعت ہے ۔ اس طریقہ سے میت کو ثواب نہیں پہنچتا۔
ہاں میت کی اولاد جب بھی کوئی نیک کام کرے تو ثواب بخشنے کے بغیر بھی میت کو ثواب پہنچتا ہے
مزید پڑھیں

کنواری لڑکی کی زبردستی شادی کر دی گئی حالانکہ وہ ناپسند کرتی تھی , اس نکاح کا کیا حکم ہے ؟

میرا سوال هے که ایک لڑکی جو که سلفی العقیده هے.. اور اس کے والدین نے اس کا  نکاح زبردستی ایک دیوبندی تبلیغی سے کردیا هے..
ابھی رخستی نهیں هوئی..
 لڑکی نے اپنے والدین کی بهت منتیں بھی کی هیں که میرا نکاح کسی اهل الحدیث سے کریں...
کیا یه نکاح جائز هے جبکه والدین نےمختلف  دھمکیاں دیکر یه نکاح کردیا هے... ایسے نکاح کی شرعی حیثیت کیا هے.. ؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

اگر لڑکا اور لڑکی دونوں مؤمن وموحد اور محصن ہوں اور لڑکی کے اولیاء زبردستی نکاح کر دیں تو ایسے نکاح کی شرعی حثیت یہ ہے کہ نکاح قائم ہو چکا ہے ۔ البتہ لڑکی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اس نکاح کو قاضی کے ذریعہ رد کر سکتی ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ الْقَاسِمِ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ وَلَدِ جَعْفَرٍ تَخَوَّفَتْ أَنْ يُزَوِّجَهَا وَلِيُّهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ فَأَرْسَلَتْ إِلَى شَيْخَيْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ جَارِيَةَ قَالَا فَلَا تَخْشَيْنَ فَإِنَّ خَنْسَاءَ بِنْتَ خِذَامٍ أَنْكَحَهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ قَالَ سُفْيَانُ وَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ عَنْ أَبِيهِ إِنَّ خَنْسَاءَ
صحیح البخاری : 6969

خنساء بنت خذام رضی اللہ عنہا کی ناپسندیدگی کے باوجود انکے والد نے انکا نکاح کر دیا تھا تو نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو رد فرما دیا ۔
یاد رہے کہ نکاح کے لیے فریقین دلہا و دلہن دونوں کا مؤمن وموحد ہونا , محصن (پاکدامن) ہونا , دونوں کا رضا مند ہونا, لڑکی کے اولیاء کی رضامندی, اور دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے
اگر ان میں سے ایک چیز بھی نہ ہو تو نکاح درست نہیں۔


مزید پڑھیں

مسجد کے علاوہ کھلے میدان میں جمعہ ادا کیا جاسکتا ہے ؟

مسجد کے علاوہ کھلے میدان یا پارک وغیرہ میں جمعہ ادا کرنے کا کیا حکم ہے ؟

الجواب بعون الوہاب

مسجد کی عدم موجودگی یا تنگی کی وجہ سے کسی بھی اور جگہ جمعہ کی نماز ادا کی جاسکتی ہے ۔ 
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارکہ میں بحرین کی بستی جواثا میں جمعہ ادا کیا گیا تھا
صحیح بخاری: ۸۹۲
مزید پڑھیں
ایک ایس ام ایس میں حدیث آئی ہے کہ نبی ص نے مسجد فتح میں سوموار منگل اور بدھ  کے روز ظہر اور عصر کے درمیان دعا مانگی تو اللہ نے قبول کی ... حدیث کے راوی جابر بن عبد اللہ رض ہیں .. وہ کہتے  مٰیں نےان اوقات میں جب بھی دعا کی وہ قبول ہوئی... 

الجواب بعون الوہاب

امام بخاری رحمہ اللہ نے الادب المفرد میں یہ روایت نقل فرمائی ہے :
704 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَمْزَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ، مَسْجِدِ الْفَتْحِ، يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَيَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، فَاسْتُجِيبَ لَهُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ يَوْمِ الْأَرْبِعَاءِ قَالَ جَابِرٌ: وَلَمْ يَنْزِلْ بِي أَمْرٌ مُهِمٌّ غائِظٌ إِلَّا تَوَخَّيْتُ تِلْكَ السَّاعَةَ، فَدَعَوْتُ اللَّهَ فِيهِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ، إِلَّا عَرَفْتُ الْإِجَابَةَ

اسکی سند میں کثیر بن زید حسن درجہ کا راوی ہے ۔ باقی رجال ثقہ ہیں 
اور یہ مسند أحمد میں بھی موجود ہے جس میں کثیر بن زید کا شاگرد ابو عامر عبد الملک بن عمرو ہے وہ بھی ثقہ ہے 
سو یہ روایت حسن درجہ کی ہے


مزید پڑھیں

شہاب ثاقب کب ظاہر ہونا شروع ہوئے ؟

بہت سے لوگوں سے سنا ہے کہ شھاب ثاقب ولادت رسول اللہ کے موقع پر ظاہر ہوئے اس سے پہلے ان کو کبھی کسی نے آسمان پر نہیں دیکھا....  کیا صحیح روایات سے اس واقعے کا کوئی ثبوت ہے

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب

اللہ سبحانہ وتعالى نے جنوں کی بات نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے :
وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَن يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْ لَهُ شِهَاباً رَّصَداً [الجن : 9]
اور یقینا ہم سننے کے لیے آسمان کی جگہوں بیٹھتے تھے , تو اب جس نے بھی کان لگا کر سننے کی کوشش کی تو وہ اپنے لیے ایک شعلہ کو گھات میں پائے گا
اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ پہلے جنات سن لیتے تھے لیکن اب ایسا نہیں کرسکتے إلا نادرا
ایسے ہی اللہ تعالى نے فرمایا ہے :
إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ [الصافات : 10]
جو بھی کو بات چرائے گا تو اسکے پیچھے چمکتا شعلہ لگ جائے گا
مزید پڑھیں

مسجد میں کب آئیں تو جمعہ کا ثواب ملے گا؟

مسجد میں کب تک داخل ہوں تو جمعہ کا ثواب ملے گا ؟ کیا خطبہ ختم ہونے کے بعد بھی جمعہ ہی ہوگا یا ظہر ؟

الجواب بعون الوہاب

جمعہ کی آخری رکعت بھی پالے تو اسے نماز جمعہ کا ثواب مل جائے گا. لیکن جمعہ کا وہ خاص ثواب صرف اسے ہی ملے گا جو خطبہ جمعہ شروع ہونے سے پہلے آیا. اور آداب کو ملحوظ رکھا
مزید پڑھیں

تشریع عام کسے کہتے ہیں ؟

تشریع عام کسے کہتے ہیں , آجکل کچھ تکفیری لوگ یہ لفظ بول کر عجیب عجیب باتیں کرتے ہیں !

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

تشریع عام کے حوالہ سے یہ اقتباس پڑھ لیں:

آل تکفیر  کے  ہاں تکفیر کی ایک بنیاد تشر یع عام  بھی ہے۔عصر حاضر کے تکفیری و خارجی گروہکا یہنظریہ ہے کہ جو کوئی کسی کبیرہ  گناہ پردوام یعنی ہمیشگی اختیار کرلے یا وہ کبیرہ گناہ کو ہلکا جان کر کرے تو ایسا کرنے والا کافر ہو جاتا ہے۔اور وہ  یہ اصول الشیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ رحمہ اللہ کے ایک قول سے اخذ کرتے ہیں
"جس کا خلاصہ یہ ہے کہ گناہ کبیرہ پر استمرار و دوام بھی ارتداد بن جاتاہے"۔
اول:  الشیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ رحمہ اللہ کی بات دین میں حجت نہیں۔ کسی بھی عالم کی بات دین میں اسوقت تک حجت نہیں جب تک قران و سنت کے دلائل سے مزین نہ ہو۔۔۔!!!
دوم:  یہ بات شرعا  بھی درست نہیں جیسا  کہ اس ضمن میں  الشیخ عبدالعزیز بن بار رحمہ اللہ کی تصریح بھی موجود ہے۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"اگرچہ وہ اس کبیرہ گناہ کو ہلکا جانتا ہویا اسپر دوام و ہمیشگی اختیار کرے،کافر نہیں ہوگا حتی کہ وہ اسے حلال  سمجھے۔ برخلاف ان کے جو آجکل یہ کہتے ہیں کہ کبیرہگناہ کا مرتکب اگر اسے ہلکا جانتے ہوئے ( یا ہمیشگی و دوام  اختیار)کرے تو وہ کفر اکبر کا مرتکب ہوکرملت اسلامیہ سے خارج ہوگیا۔ یہ بھی عین خوارج کا ہی قول ہے"
(الشیخ عبدالعزیز بن باز ؒ نے طائف /1415ھ میں سوال  و جواب کی نششت)
ہم پہلے آل تکفیر کا استدلال پیش کرتے ہیں بعد میں اس کی حقیقت حدیث رسول کی روشنی میں واضح کریں گے ۔
تکفیری حضرات کہتے ہیں :
"دور حاضر کے حکمران یا جج حضرات جس آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں اسے ایک مصدر اور منبع کی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور جج حضرات اپنے فیصلوں میں باربار اس آئین یا قانون کی طرف رجوع کرتے ہیں لہذا قرون أولی میں کسی قاضی کا کسی خاص واقعے میں شریعت کے خلاف فیصلہ کرنا اور موجودہ دور میں کسی جج کا کسی واقعے میں بار بار کسی غیر شرعی قانون کے مطابق فیصلہ کرنا اور اس قانون کے مطابق فیصلے میں استمرار کا پایا جانا ایک بالکل مختلف معاملہ ہے"۔
ہم بھی یہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں صورتیں گناہ کے اعتبار سے برابر نہیں ہیں ۔ پہلی صورت گناہ میں ہلکے درجے کی ہے جبکہ دوسری صورت کا گناہ بہت بڑھ کر ہے لیکن یہ کفر اکبر نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص کسی گناہ پر اصرار کرتا ہے تو وہ گناہ کفر نہیں بن جاتا جیسا کہ ایک شرابی زندگی بھر شراب پیتا رہے اور ایک سود خور عمر بھرسود کھاتا رہے تو اس کے اس فعل کی برائی، قباحت اور شناعت تو بڑھ جائے گی لیکن اس کا یہ فعل گناہ کبیرہ ہی رہے گا نہ کہ کفر اکبر بن جائے گا۔
صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق اللہ کے رسول کی صحبت میں رہنے والے ایک صحابی عبداللہ الحمار ؓ،شراب نوشی پر دوام اختیار کرنے والوں میں سے تھے اور اللہ کے رسول نے ان پر کئی دفعہ حد جاری فرمائی یہاں تک ایک دفعہ تنگ آکر بعض صحابہ نے اس پر لعن طعن کی کہ اتنی بار حد نافذ کرنے کے بعد بھی اس عادت کو نہیں چھوڑتے ہو تو اللہ کے رسول نے اس پر لعن طعن کرنے سے منع فرمایا اور کہا کہ میں جانتا ہوں کہ اس کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت ہے۔
(صحیح بخاری ' کتاب الحدود ' باب ما یکرہ من لعن شارب الخمر)
پس نص سے ثابت ہوا کہ کسی برائی یا کبیرہ گناہ پر دوام اسے کفر اکبر نہیں بناتالہذا اگر کسی مسئلے میں  میں ایک چیز کبیرہ گناہ ہے جیسا کہ شیخ محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ کا بھی یہی کہنا ہے تو تشریع عام میں اس گناہ کبیرہ پرہمیشگی کی صورت میں وہ کفر اکبر کیسے بن جائے گی؟۔
اگر کوئی شخص مذکورہ بالا توجیہات پر مطمئن نہ ہو تو پھرایسے شخص کو یہ کہا جا سکتا ہے کہ عقلی ومنطقی اعتبار سے شیخ محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ کا قول، ان کی جلالت علمی کے باوصف، اس لیے قابل قبول نہیں ہے کہ اس قول میں یہ بات شرعی نص کے مخالف ہے۔
انسان کا عمل ہر صورت میں اس کے عقیدے پر دلالت نہیں کرتا اور نہ ہی ہر صورت میں عمل کی عقیدے پر دلالت قطعی ہوتی ہے مثلا ً ایک شخص ساری عمر حرام سودکھاتا رہا ہے۔ اب کیا اس کا یہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ وہ سود کھانے کو جائز یا اچھا سمجھتا ہے جیسا کہ شیخ محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ کے قول میں یہ بات موجود ہے کہ حکمران یا جج ساری عمر غیر اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے کرتا رہاہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ غیر اللہ کے قانون کو کتاب وسنت سے بہتر سمجھتا ہے۔ کسی عمل پر دوام اور استمرارکسی کے عقیدے کے لیے دلیل کیسے بنتا ہے ، یہ بات قابل فہم نہیں ہے۔ زنا کا ارتکاب ایک دفعہ ہو یا کوئی شخص زنا کا عادی مجرم ہو، دونوں صورتوں میں زنا کی حد ایک ہی ہو گی یعنی زنا کے عادی مجرم کے لیے کوئی علیحدہ سے سخت حد نازل نہیں ہوئی ہے، اگرچہ عادی مجرم کا گناہ ایک دفعہ کے مرتکب کے گناہ سے بہت بڑھ کرہے
مزید پڑھیں

قرآنی تعویذ لٹکانے کی شرعی حیثیت کیا ہے

قرانی تعویذ لٹکانے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

دیواروں پر تذکیر ونصیحت کی غرض سے آیات واحادیث لکھنا اور لٹکانا مشروع جبکہ محض خوبصورتی اور برکت کے لیے ایسا کرنا ناجائز ہے

مزید پڑھیں

اپنے موقف سے رجوع کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟

رجوع کی شرعی حیثیت کیا ہے. کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم و محدثین ائمہ یا صحابہ سے اس طرح اپنی کسی کتاب یا موقف سے رجوع کی کوئی مثال ہے تو عرض کر دیں؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

اپنے موقف اور فتوی سے رجوع کی بے شمار مثالیں موجود ہیں. مرفوع بھی اور موقوف بھی:

عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى، فَأُتِيَ - ذَكَرَ دَجَاجَةً -، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مِنَ المَوَالِي، فَدَعَاهُ لِلطَّعَامِ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ، فَحَلَفْتُ لاَ آكُلُ، فَقَالَ: هَلُمَّ فَلْأُحَدِّثْكُمْ عَنْ ذَاكَ، إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ: «وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ»، وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَسَأَلَ عَنَّا فَقَالَ: «أَيْنَ النَّفَرُ الأَشْعَرِيُّونَ؟»، فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا: مَا صَنَعْنَا؟ لاَ يُبَارَكُ لَنَا، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا: إِنَّا سَأَلْنَاكَ أَنْ تَحْمِلَنَا، فَحَلَفْتَ أَنْ لاَ تَحْمِلَنَا، أَفَنَسِيتَ؟  قَالَ: «لَسْتُ أَنَا حَمَلْتُكُمْ، وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَتَحَلَّلْتُهَا»
بخاري 3133
َ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  نے پہلے موقف اپنایا کہ اشعرییوں کو سواری نہیں دینی اور اس پر قسم بھی اٹھالی لیکن پھر رجوع کر لیا اور انہیں سواری دے دی اور قسم کا کفارہ ادا کیا
یہ ایک نام ہی کافی ہے ...


مزید پڑھیں

کیا غیر محرم مرد غیر محرم عورت کی میت کو کندھا دے سکتا ہے ؟

کیا غیر محرم مرد غیر محرم عورت کی میت کو کندھا دے سکتا ھے ...
دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرمادیں...

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب

کندھا بھی دے سکتا ہے اور تدفین میں بھی شریک ہو سکتا ہے:
 عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: شَهِدْنَا بِنْتًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى القَبْرِ، قَالَ: فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ، قَالَ: فَقَالَ: «هَلْ مِنْكُمْ رَجُلٌ لَمْ يُقَارِفِ اللَّيْلَةَ؟» فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَنَا، قَالَ: «فَانْزِلْ» قَالَ: فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا
بخاري: 1285
مزید پڑھیں

ولاء اور تولی میں فرق ؟ کفار کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑنے والے حکمران وافواج کافر ہیں یا مسلمان ؟

ولاء اور تولی میں کیا فرق  ہے ؟ کفار کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑنے والے حکمران وافواج کافر ہیں یا مسلمان ؟
کافروں کے ساتھ مل کر لڑنے والے مسلم حکمرانوں کو کافر قرار دینے کے لیے آیت " ومن یتولہم منکم فإنہ منہم" پیش کی جاتی ہے ۔ کیا یہ درست استدلال ہے ؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

کفار کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے قتال کرنے سے کوئی بھی شخص کافر نہیں ہوتا وہ حاکم ہو یا فوجی تفصیل کے لیے میرا یہ فتوى دیکھیں
اور یہ عمل ولاء میں تو شامل ہے لیکن تولی میں نہیں۔
ابوعمروعبدالحکی​م کی مشہور تصنیف "التبیان" جس کا اردو ترجمہ"دوستی دشمنی کا معیار"کے نام سے تکفیری حضرات بہت زوروشور سے پھیلانے پرتلے ہوئےہیں،اوراسی کتاب کو اپنے موقف کی وضاحت کے لیے حرف آخر کہتے  ہیں۔ آج ہم قارئین کے سامنے اسی کتاب کے صفحہ 58 سے 61 تک اقتباس سے بیان کریں گے کہ کفار سے دوستی کب انسان کو کافر بناتی ہے اور کب  صرف گنہگار بناتی ہے۔
 لفظ المُوالَاۃِ اور التَّوَلِّی میں ایک دقیق فرق: یہاں ایک بڑا لطیف علمی نکتہ بھی سمجھنے کے قابل ہے ۔وہ یہ کہ عربی زبان میں دوستی کے لیے ایک لفظ ’’المُوَالَاۃ‘‘ استعمال ہوتا ہے اور ایک لفظ ’’التَّوَلِّی‘‘مستمعل ہے۔لفظ الموالاۃ تو قربت ،نزدیکی ،پیروی ،مدد ،تعاون ،محبت،دوستی اور غلامی وغیرہ کے معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔لیکن لفظ ’’التَّوَلِّی‘‘ بطورخاص صرف اور صرف دومعانی پیروی اور نصرت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہی وہ معنی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں وارد ہوا ہے ،جو اللہ تعالیٰ نے شیطان کے بارے میں فرمایا :
 ﴿كُتِبَ عَلَيْهِ أَنَّهُ مَنْ تَوَلاهُ فَأَنَّهُ يُضِلُّهُ وَيَهْدِيهِ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ﴾(الحج:4) ’’
اس )شیطان(پر )اللہ کا فیصلہ (لکھ دیا گیا ہے کہ جو کوئی اس کی پیروی کرے گا وہ اسے گمراہ کردے گا اوراسے آگ ک عذاب کی طرف لے جائے گا‘‘
مذکورہ آیت کریمہ میں )مَنْ تَوَلَّاہُ(کامعنی یہ ہے کہ ’’جو اس کی پیروی کرے گا ‘‘لفظ ’’التَّوَلِّی‘‘کا دوسرا مخصوص معنی ’’مدد ونصرت ‘‘اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے فرمان میں وارد ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
﴿إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾(الممتحنۃ9:)
 ’’اللہ تعالیٰ تمہیں صرف ان لوگوں کی )مدد وتعاون (سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے لڑائیاں لڑیں اور تمہیں دیس نکالے دیے اور دیس نکالا دینے والوں کی مدد کی جو لوگ اس قسم کے کافروں کی مدد ونصرت کریں گے وہ )پکے ٹھکے(ظالم لوگ ہوں گے‘‘  مذکورہ آیت کریمہ میں بھی
 ﴿أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾
کامعنی یہ ہے کہ ’’تم ان کی مدد ونصرت کرواور جو شخص بھی ان کی مدد ونصرت کرے گا تویہی لوگ ظالم ہوں گے ‘‘  اسی طرح قرآن مجید میں ایک مقام پر ’’التَّوَلِّی‘‘مددونصرت کے معنی میں ہی استعمال ہوا ہے ۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
﴿لاَ تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اﷲُ عَلَیْہِمْ . . . . ﴾)الممتحنۃ=13:(60 ’’)
اے مسلمانو!(ایسی قوم کی مددونصرت نہ کرو جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا ہے....‘‘
 مذکورہ آیت کریمہ میں )لاَ تَتَوَلَّوْا(کامعنی ہے کہ تم دوستی نہ کرو۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور فرقان حمید میں اپنا ایک خصوصی وصف بیان کیا ہے کہ میں مومنوں کا حامی ومددگار ہوں ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
 ﴿اللہُ  وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾(البقرہ257:) 
’’ایمان لانے والوں کا اللہ تعالیٰ خود مددگار ہے ،وہ انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف خود لے جاتا ہے اور کافروں کے مددگار شیاطین ہیں وہ انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں یہ لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے ‘‘ مذکورہ آیت میں بھی ﴿ﷲُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا﴾کے الفاظ وارد ہوئے ہیں ۔ان الفاظ کا معنی ہے کہ’’اللہ تعالیٰ خود مددگار ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے ہیں ۔‘‘لہٰذا اس آیت میں’’وَلِیُّ‘‘ کامعنی مددگار ہے ۔اس طرح مذکورہ آیت میں ﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ﴾کے الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں۔ان الفاظ کا معنی ہے ’’وہ لوگ جو کافر ہیں ان کے مددگار طاغوت ہیں ۔‘‘اس آیت میں اولیاء کا معنی )زیادہ تعداد میں (مددگار‘‘ہے۔علیٰ ہٰذا القیاس۔ اللہ تعالیٰ کے کلام پاک قرآن مجید میں ایک اور مقام پر بھی یہ لفظ مددگار کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
 ﴿فَإِنَّ اللہَ هُوَ مَوْلاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ﴾(التحریم:4) 
’’یقینا اس )رسول اللہﷺ( کا مددگار اور کارساز تو اللہ تعالیٰ ہے ،جبریل  ہے اور نیک اہل ایمان ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مدد کرنے والے ہیں‘‘ مذکورہ آیت میں لفظ ’’مَولَاہُ‘‘ کامعنی ’’اس کامددگار ‘‘ہے۔
مذکورہ آیت میں لفظ ’’مَولَاہُ‘‘ کامعنی ’’اس کامددگار ‘‘ہے۔ نیز قرآن مجید کے ایک اور مقام پربھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور وہاں بھی یہ مددگار کے معنی میں ہی ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ذٰلِکَ بِاَنَّ اﷲَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لاَ مَوْلٰی لَہُمْ﴾)سورۂ محمد(4: ’’)
اللہ تعالیٰ نے کافروں کو سزائیں دیں (اس لیے کہ ایمان والوں کا مددگار اور کارساز خود اللہ تعالیٰ ہے اورکافروں کا کوئی بھی مددگارنہیں ہے‘‘ مذکورہ آیت کریمہ میں بھی لفظ ’’مَولیٰ‘‘دودفعہ استعمال ہوا ہے ۔دونوں جگہ اس کامعنی ومددگار اور کارساز ہے ۔  یہ چند آیات بطور مثال ذکر کی گئی ہیں ان کے علاوہ جہاں جہاں بھی یہ لفظ وارد ہوا ہے اکثر وبیشتر اِسی معنی میں ہے ۔ مذکورہ بالا ساری گفتگو کالب ولباب یہ ہے کہ لفظ ’’التَّوَلِّی‘‘لفظ’’المُوَالَاۃ‘‘سے زیادہ خصوصیت کا حامل ہے۔ ’’التَّوَلِّی‘‘ کامطلب یہ ہے کہ ’’عَلَی الاِطلَاق‘‘)غیر مشروط طور پر(پیروی اور فرمانبرداری کرتے جانا اورپوری پوری مدد ونصرت کرنا۔‘‘مذکورہ بالا گفتگو سے یہ بھی معلوم ہوا کہ التَّوَلِّی اورالمُوَالَاۃکےدرمیان عموم اور خصوص کی نسبت ہے ۔ 
 شیخ عبداللہ بن عبداللطیف حفظہ اللہ فرماتے ہیں : ’’التَّوَلِّی‘‘ اور’’المُوَالَاۃ‘‘کے مابین بیان کیے گئے اِسی فرق کو ہی ملحوظ رکھتے ہوئے الشیخ عبداللہ بن عبداللطیف رقمطراز ہیں :
 ’’التَّوَلِّی کُفْرٌ یُخرِجُ مِنَ المِلَّۃِ وَ ھُوَ کَالذَّبِّ عَنْھُمْ وَ اِعَانَتِھِمْ بِالْمَالِ وَالْبَدْنِ وَالرَّأْیِ ۔ وَالمُوَالَاۃُ کَبِیْرَۃٌ مِنَ الْکَبَائِرِ ۔ کَبَلَّ الدَّوَاۃِ وَ بَرِیِ الْقَلَمِ وَالتَّبَشُّشِ أَوْ رَفْعِ السَّوْطِ لَھُم۔‘‘ 
 ’’کافروں کے ساتھ التولی والا تعلق واضح کفر ہے جو ملت اسلامیہ سے خارج کردیتا ہے ۔مثلاً کافروں کا بھرپور دفاع کرنا ۔نیز دامے ،درہمے ،سخنے اور قدمے ان کا پورا تعاون کرنا ۔جبکہ کافروں سے المُوَالَاۃجیسادوستانہ تعلق اگرچہ ملتِ اسلامیہ سے نکالنے والا کفر نہیں مگر وہ کبیرہ گناہوں میں سے ایک بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے۔‘‘مثلاً  کافروں کی خاطر اپنے قلم وقرطاس کو حرکت میں لانا اور ان کی پالیسیوں کی حمایت میں مضامین (Articles) تحریرکرنا۔  کافروں کو خوش کرنے کے لیے ان کی خاطر بچھ بچھ جانا اور صدقے واری جانا۔  مسلمانوں کے خلاف پولیس وفوج کو حرکت میں لے آنا اور گولی وبندوق کا رخ مسلمانوں کی طرف کردینا ۔یہ سب اعمال کبیرہ گناہوں میں سے ہیں ۔‘‘
 (التبیان،ترجمہ دوستی دشمنی کا معیار از ابوعمروعبدالحکی​م حسان صفحہ 58تا61)

اس اقتباس میں آپ نے تکفیریوں کی ہی کتب میں بڑی وضاحت کے ساتھ پڑھ لیا ہے کہ کافروں سے التولی والا تعلق واضح کفر ہے،یعنی ان کا بھرپور دفاع کرنا جبکہ کافروں سے المولاۃ جیسا دوستانہ تعلق انہیں اسلام سے خارج نہیں کرتا بلکہ گناہ کبیرہ کامرتکب کردیتا ہے،اور اس کی مثالیں بھی دی ہیں جیسے 
کافروں کی خاطر اپنی قلم اور قرطاس چلانا،کفار کو خوش کرنےکےلیے بچھ بچھ جانا اور کفار کی خاطر مسلمانوں کے خلاف تلوار،بندوق یا گولی چلانا یہ سب اعمال المولاۃ میں شامل ہیں،اور یہ  کام انسان کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتے،بلکہ گنہگار کرتے ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ افغانستان کی جنگ میں پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا ہی نہیں،(جس کی وضاحت آگے آرہی ہے)اور اگر دیا بھی ہے تو وہ جس نویت کا تعاون بھی تکفیری ثابت کرتے ہیں تو اس کے مطابق ان کی اپنی کتابوں سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ فعل کفر نہیں ہے۔پھر کس بنیاد پر پاکستان کے حکمرانوں یا فوج کو کافر قرار دے کر ہزاروں مسلمانوں کا خون بہاکربھی آگ اور خون کی ہولی کھیل رہے ہیں؟
مزید پڑھیں

زیر ناف بال کاٹنے کی کیا حدود ہیں اور بغلوں اور زیر ناف بال سیفٹی وغیرہ سے صاف کرنا کیسا ہے؟

زیر ناف بال کاٹنے کی کیا حدود ہیں اور بغلوں اور زیر ناف بال سیفٹی وغیرہ سے صاف کرنا کیسا ہے؟


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب

"زیر ناف" کا لفظ کنایہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے حدیث میں ان بالوں کے لیے "عانہ" کا لفظ استعمال ہوا ہے جسکا اہل لغت نے ترجمہ کیا ہے "عورت کی شرمگاہ کے گرد اگنے والے بال" 
"عانہ" در اصل اس ہڈی کو کہتے ہیں جس پر یہ بال اگتے ہیں. علم القابلہ میں اسکی مناسب وضاحت ہو جاتی ہے.
لہذا زیر ناف بالوں کو کاٹنے کی حد یہی ہے کہ صرف اس جگہ کے بال کاٹے جائیں جہاں عموما عورتوں کے بھی بال ہوتے ہیں.  اس سے تجاوز نہ کریں (( عورت کا نام اس مسئلہ میں اس وجہ سے لیا جاتا ہے کہ مرد کے تو عموما تمام بدن پر ہی بال ہوتے ہیں جبکہ عورت کے صرف اس مخصوص حصہ پر))
یا پھر آپ اپنے پیٹ کے نچلے حصہ کو دبا کر دیکھیں تو ایک ہڈی محسوس ہوگی.  بس جہاں سے اس ہڈی کا آغاز ہوتا ہے وہیں سے بال کاٹنے کی ابتداء کریں کیونکہ یہی ہڈی عانہ کہلاتی ہے اور اس پر اگنے والے بالوں کو بھی عانہ کہہ دیتے ہیں
زیر ناف (عانہ کے) بالوں کو حلق کرنے (مونڈنے) کا حکم ہے. اور یہ کام استرے یا سیفٹی سے ہی ہوتا ہے. اس مقصد کے لیے استعمال ہونے والی کریمیں، پاؤڈر اور سپرے بالوں کو مونڈتے نہیں بلکہ انہیں کمزور کر کے توڑتے ہیں.  جبکہ شریعت کا مطلوب انہیں مونڈنا ہے
اسی طرح بغلوں کے بالوں کو شریعت نے اکھیڑنے کا حکم دیا ہے.  لہذا انہیں کھینچ کر جڑسے اکھیڑا جائے.  مونڈنے کاٹنے یا توڑنے سے مقصد شریعت پورا نہیں ہوتا.
اسی طرح کچھ لوگ رانوں کے بال بھی مونڈتے ہیں جبکہ "عانہ" شرمگاہ پر اگنے والے  بال اور پیٹرو کی ہڈی کے بال ہیں
رانیں نہ تو شرمگاہ ہیں اور نہ ہی پیڑو کی ہڈی
"عانہ" کی توضیح میں اہل لغت نے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں :
الشعر المنبت حول فرج المرأۃ
یعنی عورت کے سامنے والی شرمگاہ کے گرد اگنے والے بال
عانہ یعنی پیڑوی کی ہڈی سے اوپر اور ناف سے نیچے کے بالوں کو ثُنہ کہا جاتا ہے (العین ج۸ ص ۲۱۷)
سو اس میں خصیتین اور ذکر تو شامل ہیں، مقعد نہیں.
مقعد کے بالوں کو "إسب" کہتے ہیں
خوب سمجھ لیں

مزید پڑھیں

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا ذریعہ معاش کیا تھا ؟

نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کا ذریعہ معاش کیا تھا ؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ذریعہ معاش غنائم اور مال فیء تھا. اسکے علاوہ صحابہ کرام کی طرف سے ملنے والے ھدیے 
مزید پڑھیں

کیا فہم صحابہ حجت ہے ؟

کیا فہم صحابہ حجت ہے ؟  اور کیا صحابہ بھی سلف میں شامل ہیں ؟

الجواب بعون الوہاب

صحابہ کرام اس امت کے بہترین سلف ہیں اور صحابہ بھی اقوال صحابہ کو حجت نہیں مانتے تھے. ہاں وہ اقوال جو کتاب وسنت کے موافق یا اس سے مستنبط ہوں ان پر وہ کسی اور کی رائے کو ترجیح دینا غلط سمجھتے تھے
مزید پڑھیں

کیا عورت حالت احرام میں نقاب کرے گی ؟

کیا عورت حالت احرام میں نقاب کرے گی یا چہرہ کھلا ہی رکھے ؟

الجواب بعون الوہاب


پردہ عام ہے اور نقاب خاص
نقاب پردہ کا ایک خاص طریقہ ہے عورت کے لیے نقاب جائز ہے مگر حالت احرام میں ممنوع ہے. نقاب کیے بغیر عورت چہرہ چھپا لے مثلا گھونگٹ نکال کر


مزید پڑھیں

فہم سلف اور منہج سلف کیا ہے اور کیا یہ حجت ہے ؟

فہم سلف کیا ہے اور کیا یہ حجت ہے ؟


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب


فہم سلف سے مراد سلف صالحین کے وہ فرمودات ہیں جو انہوں نے کتاب وسنت سے مسائل اخذ کرتے ہوئے کہے یا لکھے.
   حجت وماخذ دین صرف وحی الہییعنی کتاب وسنت ہے۔

اقوال سلف یا فہم سلف اسی وحی الہی کی آسان توضیح وتشریح کا نام ہے
حجت صرف وحی الہی ہے اور کتاب وسنت سے مستنبط اقوال سلف کو ماننا حقیقتا کتاب وسنت کو ہی ماننا ہے.
اور انکے وہ اقوال وافعال جن پر کتاب وسنت سے کوئی دلیل نہیں انکی شرع میں کوئی حیثیت نہیں.

 کتاب وسنت کو سمجھنے کے لیے جو طریقہ انہوں اپنایا اس طریقہ کو انکا منہج کہا جاتا ہے.  اسے ہی سبیل مؤمنین سے تعبیر کیا گیا ہے. عرف عام میں اس منہج استنباط کو اصول فقہ کہا جاتا ہے. یہ منہج و اصول بھی قرآن وحدیث سے ہی ماخوذ ہیں


مزید پڑھیں

سلف کسے کہا جاتا ہے ؟

سلف کسے کہتے ہیں ؟ کون لوگ اسلاف میں شامل ہیں ؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

گزشتہ لوگوں کو سلف کہتے ہیں خواہ قریب ہوں یا بعید
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا تھا:
نعم السلف أنا لك.  
بخاري: 6285
میں تیرے لیے اچھا سلف ہوں
مزید پڑھیں

کیا تمام تر مسلم ممالک کے حکمران کافر ہیں ؟

بعض لوگ کہتے ہی کہ جتنے بھی اسلامی ممالک کے حكمران ہی وہ کافر ہی کیونکہ وہ کفار کے ساتھ مل کر مسلمانو کو مارتے ہی تفصيل سے دلائل کے ساتھ جواب دین جزا کم اللہ خير
سائل : نوید

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب 

مسلمان کسی کافر کے ساتھ مل کر یا اکیلا ہی کسی بھی مسلمان کو قتل کرے تو اسکا یہ عمل یعنی "قتل مسلم" اسے دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتا کیونکہ اللہ تعالى کا فرمان ہے :
وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِن فَاءتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ [الحجرات : 9]
اور اگر مؤمنوں کے دو گروہ آپس میں قتال کریں تو ان میں صلح کروا دو .... الخ
اللہ نے دونوں گروہوں کو مؤمن کہا ہے جبکہ دونوں ایک دوسرے کو قتل کرنے والے ہیں ۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ ان میں سے کوئی ایک حق پر ہوگا اور دوسرا نہیں , یا کوئی ایک حق کے زیادہ قریب ہوگا اور دوسرا کم ۔
پھر کافروں اور مسلمانوں کا مل کر کسی مسلمان کے خلاف لڑنا مختلف طرح سے ہوتا ہے ۔

  1. اصلا لڑنے والا مسلمان ہے کافر اپنے کسی مفاد کی خاطر شامل ہوا۔
  2. اصلا لڑنے والا کافر اور مسلمان دونوں ہیں , دونوں کے ہی متفقہ یا مختلف مفادات اور مقاصد ہیں 
  3. اصلا لڑنے والا کافر ہے اور مسلمان کافر کے ساتھ کافر کو دھوکہ دینے کی غرض سے شامل ہوا ہے ۔
  4. اصلا لڑنے والا کافر ہے اور مقصود ملت اسلامیہ کا خاتمہ ہے , اور کلمہ گو لوگ اسلام کو مٹانے میں کافر کا ساتھ دیں 
پہلی تین صورتوں میں مسلمان کافر نہیں ہوگا۔ جبکہ تیسری صورت میں خواہ وہ لڑے یا نہ لڑے کافر ہو جائے گا ۔ 
اور یہ چوتھی صورت آج تک کہیں بھی پیدا نہیں ہوئی کہ کوئی مسلم حکمران ہو اور وہ اسلام کو مٹانے میں کفار کا ساتھ دے !
مزید پڑھیں

مسافر کی مقیم کے پیچھے نماز کتنی رکعت ہوگی.؟ جبکہ وہ امام کو تیسری رکعت میں پائے یا تشہد کی حالت میں؟

مسافر کی مقیم کے پیچھے نماز کتنی رکعت ہوگی.؟ جبکہ وہ امام کو تیسری رکعت میں پائے یا تشہد کی حالت میں؟
ڈاکٹر رضوان 

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب

اگر مسافر مقیم امام کے ساتھ ایک رکعت بھی پا لیتا ہے تو اسے چار رکعتیں ہی ادا کرنا ہونگی.
اور اگر ایک رکعت بھی نہیں پاتا مثلا آخری رکعت کے رکوع میں یا اسکے بعد شامل ہوتا ہے تو پھر وہ دو رکعتیں ہی پڑھے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ: إِنَّا إِذَا كُنَّا مَعَكُمْ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا، وَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى رِحَالِنَا صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ. قَالَ: «تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
مسند أحمد: 1862 ط الرسالة

موسی بن سلمہ کہتے ہیں ہم ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ میں تھے تو میں نے پوچھا جب ہم آپکے ساتھ ہوتے ہیں تو چار رکعتیں پڑھتے ہیں اور جب ہم اپنے خیموں کی طرف لوٹتے ہیں تو دو رکعتیں پڑھتے ہیں.
تو انہوں نے کہا یہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے
لہذا
آخری ایک رکعت بھی پالے تب بھی چار ہی پڑھے گا کیونکہ ساتھ تو مل ہی گیا۔
اور اگر اگر آخری رکعت نہ ملے تو دو پڑھے گا کیونکہ امام کے ساتھ یا باجماعت ایک رکعت بھی اسے نہیں ملی



مزید پڑھیں

کیا دینی اور اصلاحی ویڈیوز دیکهی جا سکتی هیں؟

کیا دینی اور اصلاحی ویڈیوز دیکهی جا سکتی هیں؟
ابو حنظلہ حماد

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

ذی روح کی تصویر کشی خواہ سٹل ہو یا مووی بہر صورت درست نہیں اسکا مقصد دینی و اصلاحی ہو یا کچھ اور...۔
تفصیل کے لیے میرا یہ فتوى پڑھیں 
اور یہ مضمون بھی ملاحظہ فرمائیں :
دورِجدید میں 'ڈیجیٹل سسٹم' کے نام سے ایک نیانظام متعارف ہواہے۔ یہ نظام اپنی فنی تکنیک میں سابقہ تصویر ی نظام سے قدرے مختلف ہے،کیونکہ پرانے نظام میں پہلے کیمرے کے ذریعے کسی منظرکاعکس لے کرریل پر محفوظ کیاجاتاتھااورپھ​راسے کیمیائی عمل سے گذاراجاتا اور پھر کسی پردے یاکاغذوغیرہ پرتصویر کوحاصل کیا جاتاتھا۔ جب کہ اس نئے نظام میں کسی منظرکی روشنیوں کو ہندسوں کی صورت میں محفوظ کرلیاجاتاہے اورپھراس محفوظ شدہ معلومات کی مدد سے نئی روشنیاں پیداکرکے اصل جیسامنظرپیداکیا​جاتاہے ۔  قدیم اور جدید نظام کا فرق کوئی بھی کیمرہ ہو، خواہ ڈیجیٹل ہو یا نان ڈیجیٹل؛ تصویرکشی کرتے وقت پہلے مرحلے میں شبیہ حاصل کی جاتی ہے، جب کہ دوسرے مرحلے میں محفوظ کی جاتی ہے اورتیسرے مرحلے میں اسکرین یاپردے پرظاہرکی جاتی ہے ۔گویا حصولِ شبیہ ،حفظ ِشبیہ اور اظہارِ شبیہ ان تین مراحل سے گذر کر تصویر مکمل ہو تی ہے۔  ڈیجیٹل کیمرہ ہویاروایتی کیمرہ، شبیہ حاصل ہونے کابنیادی سائنسی اُصول آج بھی وہی ہے جواوّلین کیمرے کی ایجاد کے وقت تھا،اس میں سرمو فرق نہیں آیا۔ البتہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ طریقۂ حفاظت میں یہ تبدیلی آئی ہے کہ پرانے طریقہ تصویر سازی میں عکس لے کر اسے فیتے پرنقش کرکے محفوظ کیاجاتاتھا،جب کہ ڈیجیٹل سسٹم میں کیمرے میں داخل ہونے والی روشنیوں کاعلم اعداد کی صورت میں محفوظ کرلیاجاتاہے اورپھرجس طرح کی روشنیوں کو بصورتِ اعداد محفوظ کرلیا گیا ہو، اسی طرح کی نئی روشنیاں پیداکی جاتی ہیں۔ یہ روشنیاں جب اسکرین پر جمع ہو تی ہیں تو ان کے اجتماع سے اسکرین پرتصویرنظر آتی ہے ۔  اب تک جوکچھ بیان ہوا،اس کاخلاصہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل تکنیک کے ذریعے پہلے ہندسوں کی صورت میں ڈیٹا (معلومات) محفوظ کیا جاتا ہے اورپھران معلومات کی مددسے اصل کے مشابہ شکل وجود میں لائی جاتی ہے ۔  حکم: ہماری تحقیق کے مطابق ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے تحت بنائے گئے مناظرکو 'تصاویر' کہاجائے گا،جس کی وجوہات درج ذیل ہیں : شریعت کا منشا جاندار کی شبیہ محفوظ کرنے سے روکنا ہے، یہی 'مناط' اور علت ہے۔کیونکہ طویل انسانی تاریخ بتلاتی ہے کہ یہی چیز فتنے کا باعث بنتی ہے۔ ڈیجیٹل سسٹم میں بھی شبیہ کو محفوظ کرنے کی قباحت پائی جاتی ہے۔  تصویر سازی کی روح اصل کی نقل و حکایت اور اصل جیسا منظر پیش کرنا ہے، انسانی تاریخ میں اس مقصد کے حصول کے لئے مختلف طریقے استعمال کئے گئے، ان طریقوں میں سے ڈیجیٹل سسٹم اب تک کی سب سے ترقی یافتہ اور اعلیٰ شکل ہے۔ گو یا نظام نے ترقی کی ہے، آلات کی شکلیں بدلی ہیں ، طریقہ کار مختلف ہو اہے، لیکن بنیادی حقیقت اور مرکزی نقطہ اب بھی و ہی ہے کہ اصل کی مانند منظر پیش کیا جائے ۔  نئے اور پرانے نظام میں فرق صرف طریقۂ حفاظت کا ہے، تصویر سازی کی روح اور حقیقت دونوں میں مشترک ہے۔ جب پرانے نظام کے تحت بنائے گئے مناظر کو اکابر نے تصویر قرار دیا تو جدید نظام کے تحت بنائے گئے مناظر کو بھی 'تصویر' کہا جائے گا، کیونکہ جب حقیقت میں دونوں مشترک ہیں تو حکم میں بھی دونوں کومشترک ہو نا چاہیے۔  ڈیجیٹل مناظرکے پس پشت بھی تصویرسازی کے جذبات اورمحرکات ہیں اورنتائج ومقاصد کے حصول میں بھی ڈیجیٹل نظام پرانے طریقہ کار کے برابرہے بلکہ اس سے کہیں بڑھ کرہے۔ اس لئے دونوں نظاموں کے تحت بنائے گئے مناظر کو تصویر کہا جائے گا۔  عرف ایک دلیل شرعی ہے، کیونکہ اجماعِ عملی کی ایک قسم ہے۔ عام لوگ اپنی بول چال میں کمپیوٹر،ٹی وی اورموبائل پر ظاہر ہونے والی شکلوں کو تصویرکہتے اور سمجھتے ہیں۔شریعت نے عرفِ متفاہم کو حجت قراردیا ہے، اس لئے عام عرف کو دیکھتے ہوئے یہ مناظر بھی 'تصویر' کہلائیں گے ۔یہ ایک بدیہی حقیقت ہے اور اس کاانکاربداہت کاانکارہے !  عرف کی طرف رجوع کی ضرورت اس بنا پر ہے کہ جاندارکی تصویرکی حرمت تو ہے، مگرتصویر ہے کیا؟... شریعت نے تصویرکی کوئی نپی تلی تعریف نہیں کی ہے ۔ایسے اُمورجن کی شریعت نے تحدید و تعیین نہ کی ہو،ان میں عرف کو دیکھاجاتاہے اورعرف میں ٹی وی؍ مانیٹروغیرہ پر ظاہر ہونے والی شبیہ کو 'تصویر' ہی کہا جاتا ہے اور عوام و خواص دونوں ہی اسے تصویرہی سمجھتے ہیں۔  کتب ِلغت کے مطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ تصویرکی حقیقت اصل کے مشابہ ہیئت اورشبیہ بناناہے ۔تصویر کی یہ حقیقت جدید ڈیجیٹل سسٹم میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے کہ تصویر پر حقیقت کا اور نقل پر اصل کا گمان ہو تا ہے۔  اس دلیل کا حاصل یہ ہے کہ لغت کی رو سے ڈیجیٹل تصویر، تصویر ہی ہے۔ اگر کسی صاحب علم کو اسے لغت کی رو سے تصویر کہنے میں تامل ہو تو کوئی حرج نہیں، ہمارا استدلال پھر بھی قائم رہتا ہے ۔پہلے گذر چکا کہ عرف میں ٹی وی، مانیٹر اور موبائل پر ظاہر ہونے والی شکلوں کو تصویر سمجھا جاتا ہے اور جب لغت اور عرف میں ٹکرائو ہو تو پلہ عرف کا بھاری رہتا ہے ۔عرف کو لغت پر فوقیت حاصل ہے ۔ اُصولِ فقہ کے علما نے تو یہ بھی صراحت کی ہے کہ قیاس کے ذریعے تو لغت کا اثبات جائز نہیں، مگر عرف کے ذریعے جائز ہے۔ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ از روے لغت بھی ڈیجیٹل طریقے کے مطابق بنایا گیا منظر' تصویر' ہے ۔  امریکہ میں ایک شخص پر اس بنا پر فردِ جرم عائد کی گئی کہ اس نے بچوں کی کچھ فحش ڈیجیٹل تصاویرمحفو ظ کر رکھی تھیں ،اورکچھ کو بذریعہ کمپیوٹر نشرکر دیا تھا۔ ملز م نے ا علیٰ عدالت میں اپیل کی اور یہ عذر پیش کیا کہ ایسی تصاویرقانون کی رو سے ممنوع تصاویر نہیں، لیکن عدالت ِاپیل نے اس کا یہ موقف مسترد کیا اور اپنے فیصلے میں 'کمپیوٹر تصاویر' کو تصویرہی قرار دیا۔  ٭ علاوہ ازیں اسکرین پر جو صورت نمودار ہو تی ہے وہ یاتو عکس ہے یا تصویر ہے،لیکن اسے عکس کہنا درست نہیں کیونکہ: الف) عکس صاحب ِ عکس کے تابع ہو تا ہے۔جب کہ ڈیجیٹل تصویر ایک مرتبہ بننے کے بعد اصل کے تابع نہیں رہتی، یہی وجہ ہے کہ جو لوگ مر کھپ گئے ہیں، ان کی تصویر یں دیکھنا آج بھی ممکن ہے ۔جب کہ عکس صاحب ِ عکس کے ہٹتے ہی غائب ہو جاتا ہے۔  ب)عکس کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز پر جو روشنی پڑتی ہے، وہی روشنی اپنی حالت کو برقرار رکھتے ہوئے ہماری آنکھوں تک پہنچتی ہے۔ جب کہ ڈیجیٹل سسٹم کے تحت تصویر سازی کرتے وقت روشنیوں کو برقی لہروں میں بدل دیا جاتا ہے، یہ لہریں رموز کی صورت میں پوشیدہ رہتی ہیں اور جب منظر کے اِظہار کا وقت آتا ہے تو انہی رموز کی مدد سے کم و بیش قوت کی نئی برقی لہریں پیدا کی جاتی ہیں اور اصل منظر کے مشابہ منظر وجود میں لایاجاتاہے۔  اس تجزیئے سے واضح ہوا کہ ڈیجیٹل سسٹم کے تحت جو روشنی ہماری آنکھوں تک پہنچتی ہے، وہ روشنی اصل منظر پر پڑ کر منعکس ہونے والی روشنی نہیں ہو تی اور نہ ہی وہ روشنی اپنی حالت پر برقرار رہتی ہے۔اس لئے ڈیجیٹل سسٹم کے تحت بنائے گئے مناظر میں اور عکس میں فنی وجوہ سے فرق ہے، ایسے مناظر کو عکس کہنا درست نہیں۔  ج) جس طرح کی تصویر سازی جس زمانے میں رائج تھی، فقہا نے اسی کے مطابق تصویر کی تعریف کی ہے۔فقہا کی تعریفات کا قدرِ مشترک یہی ہے کہ اصل منظر جیسی شبیہ بنانا تاکہ اصل کا تصور حاصل ہو جائے۔ لہٰذا اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے جو بھی طریقہ کاراختیار کیا جائے گا یا جو بھی آلات استعمال کئے جائیں گے، اس سے حکم شرعی میںکوئی فرق نہیں پڑے گا،کیونکہ آلات اور ذرائع غیر مقصود ہوتے ہیں۔  ٭ کمپیوٹر پہلے پہل صرف حساب و کتاب کے لئے ڈیزائن کیا گیاتھا، خود کمپیوٹر کا مطلب بھی حساب کتاب یا گننا و شمار کرنا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ کا فی عرصے تک کمپیوٹر کا ماحول تحریر Text رہا یعنی ہم کمپیوٹر پر صرف اَعداد و حروف ہی دیکھ سکتے تھے ۔مگر جب سے Windows کے پروگرام آئے ہیں، کمپیوٹر، آواز اور تصویر کی رنگ برنگی دنیا میں پہنچ گیا ہے ۔  سوال یہ ہے کہ کمپیوٹر پر تحریر ہو یا تصویر، دونوں روشنی کے چھوٹے چھوٹے نکات کا مجموعہ ہیں ۔ او ر دونوں کی پائیداری اورنا پائیداری یکساں ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ کمپیوٹر اور موبائل پر لکھی جانی والی تحریر تو تحریر ہے، مگر ٹی وی اور موبائل پربنائی جانے والی تصویر، تصویر نہیں!  ایک شخص اپنی بیوی کو بذریعہ'ایس ایم ایس' یا 'ای میل' طلاق بھیجتا ہے تو کوئی بھی فقیہ اس کی تحریر کو پانی یا ہوا پر لکھی جانے والی تحریر قرار دیکر غیر مؤثر نہیں کہتا ۔  اس مثال سے یہ نقطہ بھی خوب واضح ہوگیا کہ جس طرح پرانے زمانے میں کتابت کے لئے کاغذ، لکڑی،چمڑا، اور ہڈی وغیرہ ٹھوس اشیا استعمال ہو تی تھیں اور آج کمپیوٹر اور موبائل پر بھی تحریر لکھی جاتی ہے، اسی طرح زمانۂ قدیم میں کاغذ، دیوار یا کپڑے وغیر ہ ٹھوس اشیا پر تصویر بنائی جاتی تھی اور آج ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے تحت ٹی وی اور موبائل پر بھی بنائی جاتی ہے

مزید پڑھیں

کیا روزہ کی حالت میں خون دیا جا سکتا ہے؟

کیا روزہ کی حالت میں خون دیا جا سکتا ہے؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب 

روزہ کی حالت میں خون نکلوایا جاسکتا ہے بشرطیکہ شدید کمزوری پیدا ہونے کا خدشہ نہ ہو:
 عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِم
سنن أبي داود: 2372
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی حالت میں سینگی لگوائی. 

مزید پڑھیں

منہج اور موقف میں کیا فرق ہے ؟


منہج اور موقف میں کیا فرق ہے ؟

الجواب بعون الوہاب


منہج طریقہ کار کو کہتے ہیں اور موقف اس طریقہ کو بروئے کار لاتے ہوئے جو نتیجہ نکالا جائے
مزید پڑھیں

کیا فہم سلف حجت ہے ؟ کیا چیز ہے ؟ فہم سلف کے متعلق رھنمائ فرما دیں.

کیا فہم سلف حجت ہے ؟ کیا چیز ہے ؟ فہم سلف کے متعلق رھنمائ فرما دیں.

الجواب بعون الوہاب

حجت وماخذ دین صرف اور صرف وحی الہی یعنی قرآن وحدیث نبوی ہے.  فقط



مزید پڑھیں

اسلام کی طرف نسبت کرتے ہوئے بس نام "مسلم" پر اکتفا کرنا بهی درست ہے

 اسلام کی طرف نسبت کرتے ہوئے بس نام "مسلم" پر اکتفا کرنا بهی درست ہے

الجواب بعون الوہاب

صرف مسلم پر اکتفاء بھی درست ہوگا بشرطیکہ "جعلی" مسلموں کا وجود نہ ہو. کیونکہ جب آپ صرف مسلم کہلوائیں گے تو سوال ہوگا کونسے مسلم؟ قبروں والے؟ حدیث کو نہ ماننے والے؟ اندھی تقلید کرنے والے؟ کون سے مسلم؟
پھر بھی تو آپکو وضاحت کرنا پڑے گی!
مزید پڑھیں

سلفی یا اہل الحدیث کہلوانا کیونکر جائز ہے ؟

ﮐﯿﺎ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺩﯾﻦ ﻭ ﻣﻔﺘﯿﺎﻥ ﺷﺮﻉ ﻣﺘﯿﻦ اس بارے میں کہ کیا اپنے آپ کو اہل سنت،اہلحدیث، سلفی یا اثری وغیرہ کہلوانا ضروری ہے، اور کیا اس قسم کے صفاتی القابات کتاب و سنت سے ثابت ہیں؟
کیا نبی کریم صلی الله علیه وسلم اپنے مکتوبات شریفہ میں اپنے آپ کو جماعت المسلمین،اہل قرآن یا اہلحدیث لکھواتے تھے؟
کیا نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے اپنے خلفاء اور صحابه رضی الله عنهم اجمعین کو تاکید فرمائی تھی کہ تم اہلحدیث کہلوانا؟ یا اس دور میں کسی مسجد کے باہر لکھا ہوتا تها "مسجد اہلحدیث یا مسجد اہل سنت والجماعت؟
اگر حدیث یا تاریخی حوالہ ہے تو وہ سند صحیح سے پیش کریں؟
جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں باطل گروہ نکلے تو ان کے مقابلے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کون سا اپنا نام تجویز کیا تها؟

برائے مہربانی جواب قرآن و سنت کی روشنی میں مرحمت فرما کر اجر عظیم حاصل کریں.   

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

کسی بھی انسان میں پائے جانے والے وصف کی بناء پر اسکا صفاتی نام اور کسی بھی گروہ میں پائے جانے والے وصف کی بناء پر اسکا مناسب صفاتی نام رکھنا جائز و درست ہے ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو " أھل قرآن" کے لقب سے ملقب فرمایا ہے :
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا عِيسَى عَنْ زَكَرِيَّا عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ أَوْتِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ زَادَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ مَا تَقُولُ فَقَالَ لَيْسَ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِك
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اہل قرآن! وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالى وتر ہے اور وہ وتر کو پسند کرتا ہے , ایک دیہاتی نے پوچھا آپ کیا فرما رہے ہیں تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرے یا تیرے ساتھیوں کے لیے کچھ بھی نہیں کہا 
سنن أبی داود کتاب الصلاۃ باب استحباب الوتر حـ 1416 
یعنی وہ اصحاب رسول جو قرآن کا بخوبی علم رکھنے والے تھے آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے انہیں " اہل قرآن " کہہ کر مخاطب کیا اور نماز وتر پڑھنے کی ترغیب دی ۔ 
لہذا حدیث یعنی کتاب وسنت پر غیر مشروط عمل کرنے والوں کو اہل الحدیث کہنا یا انکا لقب اہل الحدیث رکھنا بالکل درست ہے ۔
ایسے ہی سلف صالحین کی طرف نسبت کرتے ہوئے سلفی نام رکھنا اور اسی طرح دیگر صفاتی نام درست و جائز اور سنت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں 

مزید پڑھیں

نماز میں کپڑے سمیٹنے کی ممانعت

کوئی ایسی حدیث جس میں کپڑا موڑنے کی ممانعت ہو ؟ تہہ بند یا شلوار موڑنے کی کوئی ممانعت حدیث میں ؟


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

تہ بند یا شلوار کو موڑنے کی ممانعت تو مجھے معلوم نہیں , البتہ اسکے برعکس شلوار کو ٹخنوں سے اونچا کرنے کے لیے موڑنے کی دلیل صحیح مسلم میں موجود ہے:
 عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِزَارِي اسْتِرْخَاءٌ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ارْفَعْ إِزَارَكَ فَرَفَعْتُهُ ثُمَّ قَالَ زِدْ فَزِدْتُ فَمَا زِلْتُ أَتَحَرَّاهَا بَعْدُ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ إِلَى أَيْنَ فَقَالَ أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا , میرا ازار (شلوار یا تہ بند) لٹک رہا تھا تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا ازار اونچا کر میں نے اسے اونچا کیا تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مزید اونچا کرو میں نے اور اونچا کر لیا ۔ تو اسکے بعد سے میں اسکا اہتمام کرتا ہوں ۔ لوگوں میں سے کسی نے پوچھا کتنا اونچا کیا تو انہوں (عبد اللہ بن عمر ) نے فرمایا آدھی پنڈلی تک 
صحیح مسلم کتاب اللباس والزینۃ باب تحریم جر الثوب حــ2087

ہاں دوران نماز بال اور کپڑوں کو سمیٹنا درست نہیں ( سنن ابی داود : 204)
مزید پڑھیں

ایک علاقے میں اہلحدیث مسجد ہو ہی نہ... اور مماتی دیوبندیوں کی مسجد ہو تب کیا کرنا چاہیے

ایک علاقے میں اہلحدیث مسجد ہو ہی نہ... اور مماتی دیوبندیوں کی مسجد ہو تب کیا کرنا چاہیے

الجواب بعون الوہاب

ہر وہ مسجد جسکی بنیاد تقوی پر ہو اس میں نماز ادا کرنا درست اور جسکی بنیاد تقوی پر نہ ہو وہاں نماز ادا کرنا ممنوع ہے:
(لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا ۚ لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ فِيهِ ۚ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا ۚ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ) [سورة التوبة : 108]
مزید پڑھیں

کیا دیوبندیوں کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے ؟

كيا ديوبنديوں كے پیچھے نماز ہو جاتی ہے بعض أهل حديث علماء كہتے ہي هو جاتي ہے بعض كہے ہی نہی ہوتی درست بات كون سي ہے جزاك الله خيرا
نوید 
الجواب بعون الوہاب

درست بات یہ ہے کہ کسی بھی کافر ومشرک کی اقتداء میں نماز نہیں ہوتی. اور ہر مومن وموحد کی اقتداء میں نماز ہو جاتی ہے 
اہلحدیث کہلوانے والے بھی کچھ لوگ کفر وشرک کا ارتکاب کرتے ہیں. اور بہت سے غیر اہلحدیث بھی مؤمن وموحد ہوتے ہیں.
آپ نے جس امام کی اقتداء میں نماز پڑھنی ہے اسکا عقیدہ وعمل دیکھیں اور اہل علم سے فیصلہ کروا لیں
مزید پڑھیں

کسی شخصیت کی پیروی کرنے کی دعوت دی جاسکتی ہے ؟

کسی شخصیت کی پیروی کرنے کی دعوت دی جاسکتی ہے ؟

الجواب بعون الوہاب

کتاب وسنت کی غیر مشروط اتباع کے سوا، کسی بھی چیز یا شخصیت کی غیر مشروط اتباع کی دعوت دینا جائز نہیں!
مزید پڑھیں

کتاب وسنت کو سمجھنے کے لیے مجتہد مطلق ہونا ضروری ہے ؟

کتاب وسنت کو سمجھنے کے لیے مجتہد مطلق ہونا ضروری ہے ؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

کتاب وسنت کو سمجھنے کے لیے اللہ اور اسکے رسول نے مجتہد مطلق ہونے کی شرط نہیں لگائی!

مزید پڑھیں

ویڈیو یا مووی عکس ہے یا تصویر ؟

کیمرے سے بننے والی تصویر..ویڈیو اور آئینہ ..پانی میں عکس...اور سایہ ایک ہی چیز ہیں.بس فرق اتنا ہے کہ کیمرے میں لمحے ریکارڈ رہ جاتے ہیں،جبکہ سایہ،آئینہ میں ریکارڈ نہیں رہ سکتے...
بات تصویر بنانے کی ہے نہ کہ بنا کر ریکارڈ کرنے کی.
پھر کیمرے کی تصویر حرام اور پانی کا عکس،آئینہ اور سایے کا عکس کیونکر جائز؟
براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں.


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب


میرا تفصیلی فتوی دوبارہ پڑھ لیں.  
پھر یہ ذہن میں رکھیں کہ عکس اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک چیز آئینہ وغیرہ کے سامنے ہو، چیز کو ہٹاتے ہی عکس غائب ہو جاتا ہے.
اور اسی عکس کو محفوظ کرنا ہی تصویر کہلاتا ہے!
مصور کسی بھی چیز کو جب دیکھتا ہے تو اس چیز کا عکس اسکے دماغ میں بنتا ہے مصور اسے اپنے ہاتھوں کے ذریعہ کسی کپڑے /لکڑی یا کاغذ پر محفوظ کر دیتا تھا. لیکن اس جدید دور میں ہاتھ کی جگہ مشین استعمال ہوتی ہے۔


مزید پڑھیں

دلیل طلب کیے بغیر فتوى پر مطمئن ہو جانا تقلید ہے ؟

شیخ... بغیر دلیل کے کسی امتی کی بات ماننے کو بھی تقلید نہیں کہتے؟؟
اہلحدیث عوام بھی کبھی کبھی اپنے علما کے فتووں پر دلیل کے بغیر مطمئن ہو جاتے ہیں... تو کیا وہ ان علما کے مقلد نہیں بن جاتے... ؟؟
عتیق الرحمن
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب


نہیں!
کتاب وسنت کے منافی بات ماننا تقلید ہے.
اگر بات کتاب وسنت کے موافق ہوگی، خواہ اس کی دلیل ذکر کی جائے یا نہ، وہ تقلید نہیں ہے۔

مزید پڑھیں

تلقین کا کیا مطلب ہے ؟

تلقين كا كيا مطلب بے بعض لوگ کتے ہی مردے کو کہو ک کلمہ پرے بعض لوگ کتے ہی اس کو نہ کہو خود اس کے پاس پرہو اصل مسىله كيا ہے دلائل سے واضح کرين

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

تلقین کا مطلب ہے مسلمان کو مرنے سے قبل حالتِ نزع میں کلمہ طیبہ / کلمہ شہادت کی تلقین کی جائے

یعنی اسکے پاس بیٹھ کر کلمہ بار بار دہرایا جائے
اس حوالہ سے طاہر القادری نے کچھ شبہات پیدا کیے تھے، اور انکے مفتی فاروق رانا نے چند دلائل بھی پیش کیے تھے انکا جواب ہم اپنے اس فتوی میں دے چکے ہیں:
http://www.urdumajlis.net/index.php?threads/%D8%AA%D9%84%D9%82%DB%8C%D9%86-%D9%85%DB%8C%D8%AA-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B7%D8%A7%DA%BE%D8%B1%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%A7%D8%AF%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%81%D8%AA%D9%88%D9%B0%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C-%D8%AD%DB%8C%D8%AB%DB%8C%D8%AA-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%9F.19120/٠٥:٥٢


مفتی فاروق رانا صاحب نے لکھا ہے کہ
اور پہلے دس دلائل اسی موضوع سے متعلق ہیں جن پر امت میں سے کسی کو اختلاف نہیں کہ مسلمان کو مرنے سے قبل حالتِ نزع میں کلمہ طیبہ / کلمہ شہادت کی تلقین کی جائے ۔
گیارہوں دلیل سنن ابن ماجہ کے حوالے نقل فرماتے ہوئے رقمطراز ہیں :
اس کی سند سے صرف نظر کر لیتے ہیں تو پھر بھی یہ دلیل بننے کے قابل نہیں کیونکہ یہ محمد بن المنکدر رحمہ اللہ کا عمل ہے اور باتفاق امت اقوال تابعین حجت و دلیل نہیں !
اسکے بعد موصوف نے لکھا ہے :
اور پھر اسکے بعد سنن ابن ماجہ کی یہ روایت پیش فرمائی ہے :
امام ابن ماجہ(المتوفى 273) نے کہا:'
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ لِلْأَحْيَاءِ؟ قَالَ: «أَجْوَدُ، وَأَجْوَدُ»[سنن ابن ماجه 1/ 465 رقم 1446]۔

یہ روایت ضعیف ہے اس میں دو علتیں ہیں۔
اول:
’’إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ‘‘ مجہول ہے کسی ایک بھی امام نے اس کی توثیق نہیں کی ہے۔
دوم:
’’كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ‘‘ بھی ضعیف ہے۔

امام علي بن المديني رحمه الله (المتوفى:234)نے کہا:
صَالح وَلَيْسَ بِالْقَوِيّ[سؤالات ابن أبي شيبة لابن المديني: ص: 95]۔

امام أبو زرعة الرازي رحمه الله (المتوفى:264)نے کہا:
هو صدوق فيه لين [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 7/ 150وسندہ صحیح]۔

أبو حاتم محمد بن إدريس الرازي، (المتوفى277):
صالح ليس بالقوى [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 7/ 151]۔

امام نسائي رحمه الله (المتوفى303) نے کہا:
كثير بن زيد ضَعِيف[الضعفاء والمتروكون للنسائي: ص: 89]۔

امام ابن معين رحمه الله (المتوفى327)نے کہا:
ليس بذاك القوى[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 7/ 151 وسندہ صحیح]۔
نیز کہا:
ليس بشيء[تاريخ ابن أبي خيثمة 4/ 336 وسندہ صحیح]۔

امام ابن الجوزي رحمه الله (المتوفى597)نے ضعفاء میں نقل کیا:
كثير بن زيد أبو محمد المدني [الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي: 3/ 22]۔

امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
كُثَيْرُ بْنُ زَيْدٍ صُوَيْلِحُ فِيهِ لِينٌ[معجم الشيوخ الكبير للذهبي 1/ 300]۔

حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
وَكثير بن زيد مُخْتَلف فِيهِ[تغليق التعليق لابن حجر: 3/ 249]۔

دوسری دلیل کے طور پر رقمطراز ہیں :
جبکہ یہ روایت بھی پہلی قسم کی تلقین کے متعلق ہے صرف لفظ " مرنے والوں" کی جگہ " ہلاک ہو جانے والوں" استعمال ہوا ہے ۔ معنى ایک ہی ہے ۔
پھر تیسری دلیل کے طور پر انہوں نے یہ روایت نقل فرمائی ہے : 
امام طبراني رحمه الله (المتوفى321)نے کہا:
حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ أَنَسُ بْنُ سَلْمٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الْحِمْصِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ أَبَا أُمَامَةَ وَهُوَ فِي النَّزْعِ، فَقَالَ: إِذَا أَنَا مُتُّ، فَاصْنَعُوا بِي كَمَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نصْنَعَ بِمَوْتَانَا، أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنْ إِخْوَانِكُمْ، فَسَوَّيْتُمِ التُّرَابَ عَلَى قَبْرِهِ، فَلْيَقُمْ أَحَدُكُمْ عَلَى رَأْسِ قَبْرِهِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانَةَ، فَإِنَّهُ يَسْمَعُهُ وَلَا يُجِيبُ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانَةَ، فَإِنَّهُ يَسْتَوِي قَاعِدًا، ثُمَّ يَقُولُ: يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانَةَ، فَإِنَّهُ يَقُولُ: أَرْشِدْنَا رَحِمَكَ اللهُ، وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ. فَلْيَقُلْ: اذْكُرْ مَا خَرَجْتَ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّكَ رَضِيتَ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، وَبِالْقُرْآنِ إِمَامًا، فَإِنَّ مُنْكَرًا وَنَكِيرًا يَأْخُذُ وَاحِدٌ مِنْهُمْا بِيَدِ صَاحِبِهِ وَيَقُولُ: انْطَلِقْ بِنَا مَا نَقْعُدُ عِنْدَ مَنْ قَدْ لُقِّنَ حُجَّتَهُ، فَيَكُونُ اللهُ حَجِيجَهُ دُونَهُمَا ". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَإِنْ لَمْ يَعْرِفْ أُمَّهُ؟ قَالَ: «فَيَنْسُبُهُ إِلَى حَوَّاءَ، يَا فُلَانَ بْنَ حَوَّاءَ»[المعجم الكبير للطبراني: 8/ 249]۔


یہ روایت سخت ضعیف ہے کیونکہ مسلسل بالعلل ہے اورسند کے ہر طبقہ میں کوئی نہ کوئی علت موجودہے:

پہلی علت:
’’سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَوْدِيِّ‘‘ مجہول ہے۔

دوسری علت:
’’يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ‘‘ نے عن روایت کیا ہے اور یہ مدلس ہیں۔
امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385):
ويحيى بن أبي كثير معروف بالتدليس[علل الدارقطني: 11/ 124]۔

حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے نکت میں انہیں طبقہ ثالثہ میں ذکر کیا ہے،[النكت على ابن الصلاح 2/ 643]۔
اورایک حدیث پران کے عنعنہ کی وجہ سے نقد کرتے ہوئے کہتے ہیں:
وَقَالَ ابْنُ الْقَطَّانِ: حَدِيثُ جَابِرٍ صَحيِحٌ؛ لأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثِقَةٌ، وَقَدْ صَحَّ سَمَاعُهُ مِنْ جَابِرٍ.قُلْتُ: إِلا أَنَّ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ مُدَلِّسٌ،[إتحاف المهرة لابن حجر: 3/ 325]۔

تیسری علت :

’’عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ‘‘ مجہول ہے اس کی توثیق کہیں دستیاب نہیں۔

چوتھی علت:
’’إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ‘‘ جب اپنے علاقہ کے علاوہ دیگر علاقے والوں سے روایت کرتے ہیں تو ضعیف ہوتے ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
صدوق في روايته عن أهل بلده مخلط في غيرهم[تقريب التهذيب لابن حجر: 1/ 33]۔
اورزیرنظر روایت میں ان کا استاذ مجہول ہے لہذا معلوم نہیں وہ کہاں کا ہے۔

پانچویں علت:
’’مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الْحِمْصِيُّ‘‘ ضعیف ہے۔
محمد بن عوف نے کہا:
كَانَ يسرق الأحاديث [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 7/ 547]
امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365) نے اسے ضعفاء میں ذکر کیا ہے:
مُحَمد بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلاءِ بْن زريق الحمصي[الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 7/ 547]۔

چھٹی علت:
’’أَبُو عَقِيلٍ أَنَسُ بْنُ سَلْمٍ الْخَوْلَانِيُّ‘‘ مجہول ہے۔


موصوف کی پیش کردہ دلیل نمبر ۴ ۔:

وأخرج سعيد بن منصور عن راشد بن سعد وضمرة بن حبيب وحكيم بن عمير قالوا : إذا سوي على الميت قبره وانصرف الناس عنه كان يستحب أن يقال للميت عند قبره : يا فلان قل لا إله إلا الله ثلاث مرات يا فلان قل ربي الله وديني الإسلام ونبيي محمد صلى الله عليه و سلم ثم ينصرف [الدر المنثور 5/ 39]۔

اول:
تو اس روایت کی صحت کا ثبوت ہی نہیں کیونکہ اس کی سند نا معلوم ہے۔
دوم :
یہ روایت مقطوع ہے یعنی بعض تابعین کی طرف منسوب ہے اورتابعین کے اقوال بالاتفاق دین میں حجت نہیں۔


اور اسی چوتھی دلیل کے ضمن میں یہ روایت بھی نقل کی ہے : 
وأخرج ابن منده عن أبي أمامة رضي الله عنه قال : إذا مت فدفنتموني فليقم إنسان عند رأسي فليقل : ياصدي بن عجلان اذكر ما كنت عليه في الدنيا شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله [الدر المنثور 5/ 39، شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور ص: 110]


یہ روایت بھی مجہول السند ہے امام سیوطی نے اس کی سند ذکر نہیں کی لہذا اس کی صحت ثابت نہیں اور امام طبرانی نے ابوامامہ کی جس روایت کو سند سے ذکر کیا ہے اس حقیقت بیان کی جاچکی ہے۔

موصوف کی پانچویں دلیل : 
عن سعيد الأموي قال : شهدت أبا أمامة وهو في النزاع فقال لي : ياسعيد إذا أنا مت فافعلوا بي كما أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا مات أحد من إخوانكم فسويتم عليه التراب فليقم رجل منكم عند رأسه ثم ليقل : يا فلان ابن فلانة فإنه يسمع ولكنه لا يجيب ثم ليقل : يا فلان ابن فلانة فإنه يستوي جالسا ثم ليقل : يا فلان ابن فلانة فإنه يقول : أرشدنا رحمك الله ثم ليقل : اذكر ما خرجت عليه من الدنيا شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله وأنك رضيت بالله ربا وبمحمد نبيا وبالإسلام دينا وبالقرآن إماما فإنه إذا فعل ذلك أخذ منكر ونكير أحدهما بيد صاحبه ثم يقول له : اخرج بنا من عند هذا : ما نصنع به قد لقن حجته فيكون الله حجيجه دونهما . فقال له رجل : يا رسول الله فإن لم أعرف أمه ؟ قال : انسبه إلى حواء [كنز العمال 15/ 1140]۔

کنز العمال کے مصنف نے اس روایت کے لئے ( کر ) یعنی ابن عساکرکا حوالہ دیا ہے ، ابن عساکر سے یہ روایت مع سند ومتن ملاحظہ ہو:

امام ابن عساكر رحمه الله (المتوفى571)نے کہا:
أخبرنا أبو الحسن علي بن المسلم أنا علي بن محمد بن أبي العلاء أنا أبو علي أحمد بن عبد الرحمن بن أبي نصر أنبأ أبو سليمان محمد بن عبد الله بن زبر أنبأ أبي أبو محمد نا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة نا أبي نا إسماعيل بن عياش نا عبد الله بن محمد عن يحيى بن أبي كثير عن سعيد الأزدي قال
شهدت أبا أمامة وهو في النزع فقال لي يا سعيد إذا أنا مت فافعلوا بي كما أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا مات أحد من إخوانكم فنثرتم عليه التراب فليقم رجل منكم عند رأسه ثم ليقل يا فلان بن فلان فإنه يستوي جالسا ثم ليقل يا فلان بن فلانة فإنه يقول أرشدنا رحمك الله ثم ليقل اذكر ما خرجت عليه من دار الدنيا شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله وإنك رضيت بالله عز وجل ربا وبمحمد صلى الله عليه وسلم نبيا وبالإسلام دينا وبمحمد صلى الله عليه وسلم نبيا فإنه إذا فعل ذلك أخذ منكر ونكير أحدهما بيد صاحبه ثم يقول له أخرج بنا من عند هذا ما نصنع به وقد لقن حجته ولكن الله عز وجل حجته دونهم فقال له رجل يا رسول الله فإن لم أعرف أمه قال انسبه إلى حواء

[تاريخ مدينة دمشق 24/ 73]۔

ابن عساکر نے طبرانی ہی کے طریق سے روایت کیا ہے جس کی حالت بیان کی جاچکی ہے۔

اسکے بعد موصوف چھٹی دلیل کے طور پر لکھتے ہیں :



ابن رجب رحمہ اللہ کی اس کتاب میں صرف یہ بات مل سکی :
وروينا من طريق مزداد بن جميل قال قال أبو المغيرة ما رأيت مثل المعافري بن عمران بعدما دفن فسمعته وهو يلقن في قبره وهو يقول لا إله إلا الله فيقول المعافى: لا إله إلا الله.[أهوال القبور وأحوال أهلها إلى النشور ص: 17]۔

امام سیوطی نے کہا:
وقال إبن رجب روينا من طريق مراد بن جميل قال قال أبو المغيرة ما رأيت مثل المعافى بن عمران وذكر من فضله قال حدثني بعض إخواني أن غانما جاء المعافى بن عمران بعد ما دفن فسمعه وهو يلقن في قبره وهو يقول لا إله إلا الله فيقول المعافى لا إله إلا الله [شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور ص: 204]۔

مگر ابن رجب کی کتاب میں یہ پوری بات نہیں‌ ملی البتہ
مؤمل بن أحمد بن محمد الشيباني(المتوفی 391 ) نے کہا:
قال محمد بن عوف: ما رأيت مثل المعافى بن عمران، وما أدركت مثله في عقله وورعه وفضله، ولقد حدثني جنادة بن مروان، أنه كان يخرج في يوم الجمعة بالغداة فيحتطب على ظهره،فيجيء بالكارة الحطب على ظهره حتى يبيعها عند باب المسجد، ثم يحل (زناره؟) ثم - يعني يدخل المسجد فيصلي الجمعة. قال: وحدثني بعض إخواني أن (غانما؟) جاء المعافى / بعدما دفن فسمعه وهو يلقن في قبره وهو يَقُولُ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، فيقول المعافى: لا إله إلا الله. [مجموع فيه عشرة أجزاء حديثية (ص: 345)]۔


اولا : 
یہ روایت بھی غیرثابت شدہ ہے ۔

1: حدثني بعض إخواني میں ’’بعض ‘‘ مجہول ہے۔

2: مؤمل بن أحمد بن محمد الشيباني(المتوفی 391 ) کی تاریخ پیدائش 297 ہجری ہے :
خطيب بغدادي رحمه الله (المتوفى:463) نے کہا:
وكان مولده في سنة سبع وتسعين ومائتين[تاريخ بغداد للخطيب البغدادي: 15/ 238]۔

اور ’’ محمد بن عوف بن سفيان الطائى 272 ہی میں‌ وفات پاگئے۔
امام ذهبي رحمه الله (المتوفى:748) نے کہا:
قَالَ ابْنُ المُنَادِي: مَاتَ ابْنُ عَوْف فِي وَسط، سَنَة اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِيْنَ وَمائَتَيْنِ -رَحِمَهُ اللهُ- [سير أعلام النبلاء للذهبي: 12/ 615]۔

لہذا یہاں بھی انقظاع ہے۔


ثانیا:
یہ غانم معلوم نہیں کون ہے یعنی ایک مجہول شخص کا عمل ہے۔

ثالثا:
’’ المعافى بن عمران الأزدى الفهمى (المتوفی 185) ‘‘ صغار تابعین میں‌ سے ہیں‌ اور تابعین کے ساتھ کیاگیا عمل یا تابعین کا اپنا عمل بالاتفاق حجت نہیں ۔


ساتویں دلیل کے طور پر موصوف نے حاشیہ ابن عابدین المعروف فتاوى شامی سے ایک عبارت نقل فرمائی ہے کہ :
ابن عابدین کا یہ کہنا :
وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «أَنَّهُ أَمَرَ بِالتَّلْقِينِ بَعْدَ الدَّفْنِ فَيَقُولُ: يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ اُذْكُرْ دِينَك الَّذِي كُنْت عَلَيْهِ مِنْ شَهَادَةِ أَنْ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ وَأَنَّ الْبَعْثَ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ وَأَنَّك رَضِيت بِاَللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَبِيًّا وَبِالْقُرْآنِ إمَامًا وَبِالْكَعْبَةِ قِبْلَةً وَبِالْمُؤْمِنِينَ إخْوَانًا» [الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 191)]
بے بنیاد ہے کیونکہ ان الفاظ کے ساتھ کوئی روایت ہمین نہیں مل سکی ، البتہ طبرانی کی مذکورہ روایت میں اس سے ملتی جلتی بات ہے جس کا ضعف واضح کیا جاچکاہے۔
اور باقی الفاظ تو ابن عابدین کے فتوى کے ہیں جنکی کوئی شرعی حیثیت نہیں !
آٹھویں دلیل سنن أبی داود سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
اس دلیل کے بارہ میں یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ " کلمۃ حق أرید بہا الباطل " یعنی بات تو صحیح ہے لیکن مقصد باطل ہے ۔
میت کے لیے استغفار کرنا اور اسکے لیے ثابت قدمی کی دعاء کرنا اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے اور باتفاق امت یہ کام جائز ہے ۔
لیکن جس مقصد کے لیے یہ روایت پیش کی گئی ہے کہ میت کو دفنانے کے بعد اسکی قبر پر اسے تلقین کرنا اسکا شائبہ تک اس روایت میں موجود نہیں ہے
آخر میں موصوف نے ملا علی قاری کا قول پیش کیا ہے کہ یہ کام یعنی میت کے لیے استغفار اور ثابت قدمی کی دعاء کرنی چاہیے تو ہمیں اس سے کوئی انکار نہیں
ساری بحث کا نتیجہ اور خلاصہ کلام یہ ہے کہ 

قریب المرگ مسلمان کو کلمہ طیبہ یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (صلى اللہ علیہ وسلم ) کی تلقین کرنی چاہیے ۔
مرنے کے بعد میت کو (طاہر القادری کی طرح) تلقین کرنا یعنی ایکی قبر پر کھڑے ہوکر منکر نکیر کے سوالوں کے جواب دھرانا وغیرہ کسی بھی دلیل سے ثابت نہیں ۔
مزید پڑھیں