• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأربعاء، مايو 23

ملازم کا ٹپ وصول کرنا جائزہے یا نہیں ؟؟؟

میں جہاں کام کرتا ہوں وہاں میرے پاس بہت سے کسٹمر آتے ہیں-
جنکے چھوٹے چھوٹے تعدیلات ہوتے ہیں۔جب میں انکا کام کردیتا ہوں تو وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ اسکے کتنے پیسے۔
لیکن میرا انجینئر جس سے پیسے لینا ہے اسکا ذکر میرے سے کر دیتا ہے۔اور جس سے نہیں لینا ہے اسکے بارے میں مجھ سے کچھ نہیں کہتا۔
جب کسٹمر آتے ہیں اور مجھ سے اسکے پیسے پوچھتے ہیں۔تو میں کہتا ہوں کہ یہ فری ہے ایسے ہی اور جب وہ اسرار کرتے ہیں تو میں کہتا ہوں اب آپکی مرضی تو وہ اپنی طرف سے کچھ پیسے دیتے ہیں۔تو سوال یہ ہے کہ کیا ایسا پیسا میرے لئے لینا حلال رہیگا یا حرام؟برائے مہربانی اسکا جواب دیں تاکہ میرے پیٹ میں حرام لقمہ نہ جائے۔

 الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
یہ ٹپ  ہو یا اجرت کچھ بھی ہو لینا درست نہیں
مالک کی بھی نافرمانی ہے اور اللہ کی بھی 
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا ایک عامل جب زکاۃ کا مال جمع کرکے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع کروانے آیا تو کہنے لگا کہ یہ زکاۃ کا مال ہے جولوگوں نے دیا ہے اور کچھ تحائف ہیں جو لوگوں نے مجھے دیے ہیں تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اپنی ماں کے گھر بیٹھا رہتا تو پھر ہم دیکھتے کہ کون اسے تحائف دیتا ہے ۔" نیز فرمایا عاملین کے تحائف خیانت ہیں !
 صحیح بخاری کتاب الہبۃ وفضلہا والتحریض علیہا باب من لم یقبل الہدیۃ لعلۃ ح ۲۵۹۷ صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب تحریم ہدایا العمال ح ۱۸۳۲

مزید پڑھیں

جو مجتہد نہ ہو ، وہ کیا کرے ؟

جو شخص فن حدیث میں مجتہد نہ ہو ، وہ کیا کرے ؟؟؟


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب


ہر مؤمن شخص مجتہد ہی ہوتا ہے ۔ گوکہ دائرہ اجتہاد ہر کسی کا مختلف ہوتا ہے ۔
علمائے دین میں سے وہ لوگ جو فن حدیث میں متخصص ہیں انکا دائرہ اجتہاد کچھ اور ہوتا ہے اور جو علماء اس فن میں متخصص نہیں ہیں انکا دائرہ اجتہاد اور ہوتا ہے اسی طرح ایک عامی کا دائرہ اجتہاد قدرے مختلف ہوتا ہے ۔
عامی آدمی علماء سے صحت وضعف اور وجہ ضعف دریافت کرے گا اور پھر اسکے مطابق عمل کرے گا ۔ جبکہ عالم صحت وضعف کو پرکھنے کے لیے کتب فن کی طرف مراجعت کرے گا ۔
عامی کا عالم سے صحت وضعف اور وجہ ضعف کے بارہ میں دریافت کرنا اور پھر جس روایت کی صحت وضعف میں اختلاف ہے دونوں طرف سے دلائل پوچھ کر اپنے دل کو کسی ایک بات پر مطمئن کر لینا اسکا اجتہاد کہلائے گا
اور عالم کا کتب فن سے مراجعت کرکے صحت وسقم کو پرکھنا اسکا اجتہاد ہوگا ۔
یعنی عامی جب اجتہاد کرتا ہے تو علمائے کرام سے دلائل اخذ کرتا ہے اور جب عالم اجتہاد کرتا ہے تو وہ جہابذہ فن سے دلائل اخذ کرتا ہے ۔ بس اتنا سا فرق ہے عامی اور متخصص کے مابین ۔ اور جسطرح عامی کے اجتہاد کا نتیجہ محتمل الخطأ ہوگا اسی طرح متخصص کے اجتہاد کا نتیجہ بھی محتمل الخطأ ہی ہوگا ۔ گوکہ متخصص کا اجتہاد عامی کے اجتہاد کی نسبت زیادہ وزنی اور معتبر ہوگا ۔
پھر اسی طرح ایک عامی شخص کسی متخصص کے فیصلہ کو حرف آخر تسلیم کرنا شروع کر دے تو یہ بھی اجتہاد کے بعد ہی ممکن ہے ۔ کہ اس عامی نے بہت سے متخصصین کے اسلوب تحقیق واجتہاد کو پایا اور ان میں سے ایک شخص کے اسلوب تحقیق و اجتہاد کو اپنے ذہن پر زور دے کر اجتہاد کرتے ہوئے بہتر اور زیادہ مضبوط قرار دیا ۔ یعنی اس ایک ماہر فن کو دیگر علماء پر ترجیح دینا بھی بدون اجتہاد ممکن نہیں ہے ۔
خوب سمجھ لیں !
مزید پڑھیں

الثلاثاء، مايو 22

فجر کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے سے قبل فجر کی سنتیں ادا کرنے کا جواز کہاں ہے ؟


 فجر کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے سے قبل فجر کی سنتیں ادا کرنے کا جواز کہاں ہے ؟

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَجُلاً يُصَلِّى بَعْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « صَلاَةُ الصُّبْحِ رَكْعَتَانِ ». فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّى لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا فَصَلَّيْتُهُمَا الآنَ. فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
[سنن أبي داود كتاب الصلاة باب من فاتته متى يقضيها حـ 1269]
قیس بن عمرو t فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو صبح کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا صبح کی نماز صرف دو رکعتیں ہے ۔ تو اس آدمی نے کہا میں نے فجر کی فرضی دو رکعتوں سے پہلے والی دو رکعت (سنتیں ) ادا نہیں کی تھیں تو میں نے اب پڑھی ہیں ۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے ۔

عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : رَأَى النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- رَجُلاً يُصَلِّى بَعْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- :« صَلاَةُ الصُّبْحِ رَكْعَتَانِ ». فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنِّى لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ، فَصَلَّيْتُهُمَا الآنَ. فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
[سنن البيهقي الكبرى ج2 ص 483 ح 4329]
قیس بن عمرو t فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو صبح کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا صبح کی نماز صرف دو رکعتیں ہے ۔ تو اس آدمی نے کہا میں نے فجر کی فرضی دو رکعتوں سے پہلے والی دو رکعت (سنتیں ) ادا نہیں کی تھیں تو میں نے اب پڑھی ہیں ۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے ۔

عَنْ قَيْسِ بن عَمْرٍو، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا يُصَلِّي بَعْدَ صَلاةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَصَلاةُ الصُّبْحِ مَرَّتَيْنِ؟", فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ قَبْلَهَا فَصَلَّيْتُهُمَا الآنَ، فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
[المعجم الكبير للطراني ج 13 ص 317 ح 15326]
قیس بن عمرو t فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو صبح کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا صبح کی نماز دو مرتبہ پڑھ رہے ہو؟ ۔ تو اس آدمی نے کہا میں نے فجر کی فرضی دو رکعتوں سے پہلے والی دو رکعت (سنتیں ) ادا نہیں کی تھیں تو میں نے اب پڑھی ہیں ۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے ۔
عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَجُلاً يُصَلِّى بَعْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَصَلاَةَ الصُّبْحِ مَرَّتَيْنِ ». فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّى لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا فَصَلَّيْتُهُمَا الآنَ. قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-
[ سنن الدار قطني ج 2 ص 228 ح 1440]
قیس بن عمرو t فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو صبح کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا صبح کی نماز دو مرتبہ پڑھ رہے ہو؟ ۔ تو اس آدمی نے کہا میں نے فجر کی فرضی دو رکعتوں سے پہلے والی دو رکعت (سنتیں ) ادا نہیں کی تھیں تو میں نے اب پڑھی ہیں ۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے ۔
عَن قَيْسِ بْنِ عَمرو ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يُصَلِّي بَعْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : أَصَلاَةُ الصُّبْحِ مَرَّتَيْنِ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ، فَصَلَّيْتُهُمَا الأَنَ ، فَسَكَتَ.
[مصنف ابن أبي شيبة ج 2 ص 254 ح 6501 ]
قیس بن عمرو t فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو صبح کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا صبح کی نماز دو مرتبہ پڑھ رہے ہو؟ ۔ تو اس آدمی نے کہا میں نے فجر کی فرضی دو رکعتوں سے پہلے والی دو رکعت (سنتیں ) ادا نہیں کی تھیں تو میں نے اب پڑھی ہیں ۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے ۔
عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : رَأَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَجُلا يُصَلِّي بَعْدَ صَلاةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : صَلاةُ الصُّبْحِ مَرَّتَيْنِ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَهَا ، فَصَلَّيْتُهُمَا الآنَ ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ
[معجم الصحابة ج 5 ص 313 ح 1404]
قیس بن عمرو t فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو صبح کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا صبح کی نماز دو مرتبہ پڑھ رہے ہو؟ ۔ تو اس آدمی نے کہا میں نے فجر کی فرضی دو رکعتوں سے پہلے والی دو رکعت (سنتیں ) ادا نہیں کی تھیں تو میں نے اب پڑھی ہیں ۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے ۔

عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : إِذَا فَاتَتْهُ رَكْعَتَا الْفَجْرِ صَلاَّهُمَا بَعْدَ صَلاَةِ الْفَجْرِ.
[مصنف ابن أبي شيبة ج 2 ص 254 ح 6504]
امام شعبی : فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص کی فجر کی سنتیں رہ جائیں تو وہ انہیں نماز فجر کے بعد ادا کر لے
مزید پڑھیں

بد عقیدہ حرام خور شخص سے نکاح شغار کا حکم جبکہ بچی کی رضا مندی بھی نہیں


سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارہ میں ایک ایک بچی کا والد اسکا نکاح ایسے شخص سے کرنا چاہتا ہے جسکا عقیدہ درست نہیں ہے اور اسکا ذریعہ آمدن حجامت ہے ۔ اور یہ نکاح بھی وٹہ سٹہ کی صورت میں ہوگا ۔ جبکہ وہ بچی اس نکاح کو ناپسند کر رہی ہے ۔ کیا ایسی صورت میں یہ شادی جائز ودرست ہوگی ؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
اللہ رب العالمین قرآن مجید فرقان حمید میں زوجین کو ایک دوسرے کے لیے باعث سکون قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے :
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا (الأعراف :189)
لیکن اگر زوجین میں باہمی الفت ومحبت ختم ہو جائے اور نفرتوں اور کدورتوں فصل پکنے لگے تو اللہ تعالى نے مرد کو طلاق کا اختیار دیا ہے اور بیوی کو خلع کا حق دیا ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی شرعی طریقہ کار کو اختیار کرتے ہوئے اپنی زندگی کو اجیرن بننے سے بچانے کے لیے اس بے مزہ نکاح کے بندھن سے آزاد ہو جائے اور کوئی دوسرا مناسب رفیق زندگی تلاش کرے ۔ تاکہ نکاح کے مقاصد میں اسے ایک اہم مقصد " لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا" پورا ہو جائے ۔
اور جب نکاح سے قبل ہی فریقین دونوں یا ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو نہ چاہتا ہو یا دوسرے کی نفرت دل میں گھر کر چکی ہو تو شریعت اسلامیہ اس نکاح کا منعقد ہونا ہی حرام ٹھہراتی ہے ۔ اسی بناء پر اسلام نے نکاح کی صحت کے لیے فریقین یعنی مرد وعورت کی رضامندی کو شرط لازم قرار دیا ہے ۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم اس سلسلہ میں فرماتے ہیں : لَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ وَلَا الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ  کنواری لڑکی سے اجازت لیے بغیر اور شوہر دیدہ عورت سے مشورہ کیے  بغیر انکا نکاح نہ کیا جائے ۔                                [صحیح بخاری کتاب الحیل باب فی النکاح (6968)]
یعنی جسطرح عورت کے نکاح کے لیے رب العالمین نے ولی کی رضامندی کو لازم قرار دیا ہے کہ کوئی عورت اپنی مرضی سے اپنا نکاح نہیں کرسکتی اسی طرح اولیاء کو بھی پابند کیا ہے کہ وہ عورت کی خواہشات وجذبات واحساسات کا بھی لحاظ رکھیں اور اس کی رضامندی کے بغیر اسکا نکاح نہ کریں , کیونکہ اس عورت نے ہی اپنی ساری زندگی اس شخص کے ساتھ گزارنی ہے جسکے حبالہ عقد میں اسے دیا جارہا ہے ۔ بلکہ شریعت نے تو یہاں تک عورت کو رخصت واجازت دی ہے کہ اگر اسکے اولیاء اسکی مرضی کے بغیر کہیں اسکی شادی کر بھی دیں تو بھی وہ اس نکاح کو رد کر سکتی ہے ۔ سیدنا عبد الرحمن بن یزید بن جاریہ اور مجمع بن یزید بن جاریہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : فَإِنَّ خَنْسَاءَ بِنْتَ خِذَامٍ أَنْكَحَهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ یعنی خنساء بنت خذام انصاریہ رضی  عنہا کا نکاح انکے والد نے کر دیا تھا جبکہ وہ اسے ناپسند کرتی تھی تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو رد فرما دیا تھا               [صحیح بخاری کتاب الحیل باب النکاح (6969)]
صورت مسؤلہ میں بھی چونکہ بچی اس نکاح پر راضی نہیں ہے لہذا اس بناء پر اس بچی کے اولیاء کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اسکا نکاح ایسے شخص سے کریں جسے وہ ناپسند کرتی ہے اور جب ناپسند کرنی وجہ بھی عقیدہ کی خرابی اور عمل میں کوتاہی اور داڑھی مونڈنے و کاٹنے کی حرام کمائی ہے , تو یہ سبب اور زیادہ قوی ہو جاتا ہے ۔
اسی طرح وٹہ سٹہ کی شادی کو بھی شریعت اسلامیہ نے اسلام سے خارج قرار دیا ہے ۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ذی شان ہے : لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ یعنی اسلام میں وٹہ سٹہ جائز نہیں
[صحیح مسلم کتاب النکاح باب تحریم نکاح الشغار وبطلانہ (1415)]
مذکورہ بالا دلائل کی رو سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ صورت مسؤلہ میں لڑکے کے اولیاء کے لیے یہ نکاح کرنا درست نہیں ہے ۔ وہ اس سے رک جائیں اور شریعت اسلامیہ کی حدود کو نہ پھلانگیں , کتاب وسنت سے راہنمائی لیتے ہوئے اپنے تمام تر معاملات کو حل کریں اور بچی کے نکاح کے لیے بھی شریعت اسلامیہ سے ہی رہنمائی لیں ۔ اور یاد رکھیں کہ اللہ تعالى اپنی حدود توڑنے والوں کو سخت ترین سزا دیتا ہے اور ان حدود کی حفاظت کرنیوالوں کا حامی وناصر ہوتا ہے ۔
ہذا واللہ تعالى أعلم وعلمہ اکمل واتم ورد العلم الیہ اسلم والشکر والدعاء لمن نبہ وارشد وقوم
وکتبہ
ابو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر
مدرس جامعہ دار الحدیث المحمدیہ
عام خاص باغ ملتان
مزید پڑھیں

دو جگہ پر ڈیوٹی کرنا جائز ہے جبکہ ایک جگہ پر یہ پابندی بھی ہو کہ کسی دوسری جگہ ملازمت نہیں کرنی ؟؟؟


سوال : میں گورنمنٹ کے ایک ذیلی ادارہ میں میڈیکل آفیسر کی نوکری کرتا ہوں اور وہاں سے تنخواہ لیتا ہوں , میری ڈیوٹی کے اوقات شام 9 بجے سے لیکر صبح 8 بجے تک ہیں ۔ اس ہسپتال کے سربراہ کو کہیں بھی کسی بھی ہسپتال میں میرے اعلى تعلیم کے لیے ٹریننگ کرنے پر اعتراض نہ ہے۔
اسی طرح میں گورنمنٹ کے ایک ہسپتال میں اعلى تعلیم کے لیے ٹریننگ کرتا تھا , جہاں سے میں وظیفہ حاصل کرتا تھا , وہاں میرے ڈیوٹی صبح 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک تھے ۔ اس ہسپتال کے سربراہ کی طرف سے تمام اعلى تعلیم کے لیے ٹریننگ حاصل کرنے والوں پر کسی بھی دوسری جگہ پر نوکری کرنا منع ہے ۔
سوال یہ ہے کہ میرا دونوں ہسپتالوں میں مختلف اوقات میں ان کی مقرر کردہ مکمل ڈیوٹی دینا شرعا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ [ سنن أبي داود كتاب الأقضية باب في الصلح (3594)]
مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں ۔
اور مؤخر الذکر ہسپتال جس میں آپ اعلى تعلیم کے لیے ٹریننگ کرتے ہیں انہوں نے آپکا وظیفہ مقرر کر رکھا ہے اور یہ شرط بھی لگائی ہے کہ آپ دوسری جگہ نوکری نہ کریں ۔ 
یعنی وہ وظیفہ ملتا ہی اس شرط پر ہے کہ آپ کہیں ملازمت نہ کریں ۔ اگر آپ انکی اس شرط پر پورا نہ اتریں اور انکو علم ہو جائے تو وہ یا تو آپکو خارج کر دیں یا کم از کم وظیفہ مقررہ بند کر دیں گے ۔
لہذا صورت مذکورہ میں دونوں جگہ پر نوکری کرنا آپکے لیے شرعا درست نہیں ہے ۔
ھذا واللہ تعالى اعلم , وعلمہ أکمل وأتم ورد العلم الیہ أسلم والشکر والدعاء لمن نبہ وأرشد وقوم
مزید پڑھیں