• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

‏إظهار الرسائل ذات التسميات وراثت کے احکام ومسائل. إظهار كافة الرسائل
‏إظهار الرسائل ذات التسميات وراثت کے احکام ومسائل. إظهار كافة الرسائل

السبت، مايو 25

مرحوم کی وہ بیٹی جو انکی زندگی میں وفات پا گئی تھی اسکی اولاد اس ترکہ میں حقدار ہے یا نہیں ۔

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارہ میں کہ : قاضی آفتاب احمد بقضائے الہی وفات پاگئے انکے ترکہ میں ایک مکان برقبہ پانچ مرلہ ہے ۔ ورثان میں ایک بیوہ ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے ,انکی زندگی میں انکی ایک بیٹی فوت ہوگئی تھی اسکی اولاد موجود ہے ۔ مرحوم کے ورثاء میں سے بیوہ اور بیٹی نے اپنا اپنا حصہ مرحوم کے بیٹے کو ہبہ کر دیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ مرحوم کی وہ بیٹی جو انکی زندگی میں وفات پا گئی تھی اسکی اولاد اس ترکہ میں حقدار ہے یا نہیں ۔

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

۱۔ میت کے حقیقی بیٹے کی موجودگی میں میت کے پوتوں یا  نواسوں  کو وراثت میں سے کچھ بھی حصہ نہیں ملتا ۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ (صحیح بخاری : ۶۷۳۲)
جن لوگوں کے حصص کتاب وسنت میں مذکور ہیں انہیں انکا حصہ دو اور جو باقی بچ جائے وہ قریبی ترین مرد رشتہ دار کے لیے ہے ۔
صورت مذکورہ میں میت کے تین ورثاء ہیں جنکے حصص کتاب اللہ میں ذکر ہیں میت کی بیوی اسکا آٹھواں حصہ ہے اور میت کا بیٹا اور بیٹی انکے لیے "للذکر مثل حظ الانثیین" یعنی باقی ماندہ تمام تر مال  بیٹے کو بیٹی سے دوگنا دینے کا قانون مقرر ہے ۔
لہذا اس حدیث مبارکہ اور قرآنی اصول کے مطابق میت کے نواسوں کا میت کے ترکہ میں کوئی حق نہیں ہے ۔
۲۔ میت کی بیوہ اور بیٹی نے اپنے حصہ میں آنے والا سارا مال میت کے ایک بیٹے کو ہبہ کر دیا ہے ۔ اگر یہ موہوبہ مال واہب کی کل جائیداد کا ایک تہائی یا اس سے کم ہے تو یہ ہبہ درست ہے وگرنہ غلط ۔
کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کرنے , صدقہ کرنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ (صحیح بخاری:۱۲۹۵ , ۲۷۴۴ , صحیح مسلم: ۱۶۶۸)

ہذا , واللہ تعالى أعلم و علمہ أکمل واتم , ورد العلم الیہ أسلم, والشکر والدعاء لمن نبہ وأرشد وقوم



مزید پڑھیں