یہ بیماری اب فیشن میں تبدیل ہو رہی ہے کہ لوگ دیکھتے ہوے بھی کے فلاں فون
کر رہا ہے فون رسیو نہیں کرتے جبکہ کوئی کسی دوسرے کو کچھ کام ہی سے فون
کرتا ہے۔ اسکا کیا حکم ہے؟
الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب
ایسا کرنا شرعا جائز ودرست ہے ۔
بلکہ یہ تو صرف فون کی بات ہے دین اسلام نے تو یہاں تک رخصت دی ہے کہ اگر کوئی آپکے گھر کے دروازہ پر آجائے اور آپ اسوقت اسے نہ ملنا چاہتے ہوں تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ واپس چلے جاؤ (۱)۔ اور اسلام اس آنے والے کو بھی حکم کرتا ہے کہ وہ دل میں ملال لائے بغیر اللہ کا حکم مانتے ہوئے واپس چلا جائے (۲)۔ اور اگر آپ مروت کی وجہ سے اسے واپس جانے کہ نہیں کہہ سکتے تو خاموش رہیں وہ تین بار دستک دے اور جواب نہ ملنے پر واپس چلا جائے ۔(۳)
____________________
(۱) فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فِيهَا أَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوهَا حَتَّى يُؤْذَنَ لَكُمْ وَإِنْ قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَى لَكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ (النور: 28)
(۲) فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (النساء : 65)
(۳) عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ وَكَأَنَّهُ كَانَ مَشْغُولًا فَرَجَعَ أَبُو مُوسَى فَفَرَغَ عُمَرُ فَقَالَ أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ قِيلَ قَدْ رَجَعَ فَدَعَاهُ فَقَالَ كُنَّا نُؤْمَرُ بِذَلِكَ فَقَالَ تَأْتِينِي عَلَى ذَلِكَ بِالْبَيِّنَةِ فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ فَسَأَلَهُمْ فَقَالُوا لَا يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا إِلَّا أَصْغَرُنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَذَهَبَ بِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَقَالَ عُمَرُ أَخَفِيَ هَذَا عَلَيَّ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ يَعْنِي الْخُرُوجَ إِلَى تِجَارَةٍ (صحيح بخاري كتاب البيوع باب الخروج في التجارة حـ2062 )
بلکہ یہ تو صرف فون کی بات ہے دین اسلام نے تو یہاں تک رخصت دی ہے کہ اگر کوئی آپکے گھر کے دروازہ پر آجائے اور آپ اسوقت اسے نہ ملنا چاہتے ہوں تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ واپس چلے جاؤ (۱)۔ اور اسلام اس آنے والے کو بھی حکم کرتا ہے کہ وہ دل میں ملال لائے بغیر اللہ کا حکم مانتے ہوئے واپس چلا جائے (۲)۔ اور اگر آپ مروت کی وجہ سے اسے واپس جانے کہ نہیں کہہ سکتے تو خاموش رہیں وہ تین بار دستک دے اور جواب نہ ملنے پر واپس چلا جائے ۔(۳)
____________________
(۱) فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فِيهَا أَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوهَا حَتَّى يُؤْذَنَ لَكُمْ وَإِنْ قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَى لَكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ (النور: 28)
(۲) فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (النساء : 65)
(۳) عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ وَكَأَنَّهُ كَانَ مَشْغُولًا فَرَجَعَ أَبُو مُوسَى فَفَرَغَ عُمَرُ فَقَالَ أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ قِيلَ قَدْ رَجَعَ فَدَعَاهُ فَقَالَ كُنَّا نُؤْمَرُ بِذَلِكَ فَقَالَ تَأْتِينِي عَلَى ذَلِكَ بِالْبَيِّنَةِ فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ فَسَأَلَهُمْ فَقَالُوا لَا يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا إِلَّا أَصْغَرُنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَذَهَبَ بِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَقَالَ عُمَرُ أَخَفِيَ هَذَا عَلَيَّ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ يَعْنِي الْخُرُوجَ إِلَى تِجَارَةٍ (صحيح بخاري كتاب البيوع باب الخروج في التجارة حـ2062 )
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق