کیا شلوار یا پینٹ ٹخنوں سےنیچے ہو تو نماز ہو جاتی ہے اگر نہیں ہوتی تو دلیل
اور اگر پینٹ پہنی ہو تو اس کو فولڈ کر کے نماز پڑھی جا سکتی ہے پینٹ جاب
کرنے کی وجہ سے پہننی پڑهے تو؟
۱۔ شلوار یا پینٹ ٹخنوں سے نیچے ہو تو نماز قبول نہیں ہوتی :
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلًا إِزَارَهُ إِذْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص ازار (تہمند یا شلوار ٹخنوں سے) نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا جاؤ اور وضوء کرو , تو وہ گیا اور اس نے وضوء کیا پھر وہ آیا تو آپ نے پھر فرمایا جاؤ اور وضوء کرو پھر وہ آیا تو ایک شخص نے پوچھا اے اللہ کے رسول صلى اللہ علیہ وسلم کیا وجہ ہے کہ آپ اسے وضوء کرنے کا حکم دیا پھر آپ اس سے خاموش ہوگئے تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شلوار لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالى شلوار لٹکانے والے کی نماز قبول نہیں کرتا ۔
سنن أبی داود کتاب الصلاۃ باب الإسبال فی الصلاۃ ح 638
۲۔ پینٹ کے اوپر سے اگر لمبی شرٹ وغیرہ نہ ہو تو اس میں نماز پڑھنا درست نہیں :
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهْلِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنِيبِ عُبَيْدُ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ فِي لِحَافٍ لَا يَتَوَشَّحُ بِهِ وَالْآخَرُ أَنْ تُصَلِّيَ فِي سَرَاوِيلَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ رِدَاءٌ
سنن أبی داود کتاب الصلاۃ باب إذا کان الثوب ضیقا یتزر بہ ح 636
الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب
۱۔ شلوار یا پینٹ ٹخنوں سے نیچے ہو تو نماز قبول نہیں ہوتی :
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلًا إِزَارَهُ إِذْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص ازار (تہمند یا شلوار ٹخنوں سے) نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا جاؤ اور وضوء کرو , تو وہ گیا اور اس نے وضوء کیا پھر وہ آیا تو آپ نے پھر فرمایا جاؤ اور وضوء کرو پھر وہ آیا تو ایک شخص نے پوچھا اے اللہ کے رسول صلى اللہ علیہ وسلم کیا وجہ ہے کہ آپ اسے وضوء کرنے کا حکم دیا پھر آپ اس سے خاموش ہوگئے تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شلوار لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالى شلوار لٹکانے والے کی نماز قبول نہیں کرتا ۔
سنن أبی داود کتاب الصلاۃ باب الإسبال فی الصلاۃ ح 638
۲۔ پینٹ کے اوپر سے اگر لمبی شرٹ وغیرہ نہ ہو تو اس میں نماز پڑھنا درست نہیں :
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهْلِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنِيبِ عُبَيْدُ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ فِي لِحَافٍ لَا يَتَوَشَّحُ بِهِ وَالْآخَرُ أَنْ تُصَلِّيَ فِي سَرَاوِيلَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ رِدَاءٌ
سنن أبی داود کتاب الصلاۃ باب إذا کان الثوب ضیقا یتزر بہ ح 636
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق