اس سوال کا جواب میں ایک عرصہ سے ڈھونڈ رہا ہوں۔ پوری تحقیق سے جواب درکار ہے۔
شیخ صدیق رضا کی کتاب "امت اور شرک کا خطرہ" کے مقدمہ میں ابن جوزی کے اقوال پیش کیے گئے کہ مردہ سے مدد مانگنا شرک ہے۔ جیسے کہ یہ قول صفحہ 10 پر نقل کیا۔
"شرک میں بعض لوگ وہ جاہل لوگ واقع ہوے ہیں جو دین اسلام کی طرف نسبت رکھتے ہیں، اور یہ وقوع جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور اس میں بعض وہ لوگ بھی شامل ہیں جو مشائخ کی طرف منسوب ہیں جیسے شیخ احمد بن رفائی، یا یونس الشیبانی اور عدی بن مسافر۔ اور اللہ کے سوا ان کی محبت میں دیوانے اور ان کی قبر پر اعتکاف کرتے ہیں" تذکرہ اولی البصائر صفحہ 20"
مگر جب میں نے تذکرہ اولی البصائر کا مذکورہ صفحہ دیکھا تو حاشیہ میں عبدالقادر الارناؤوط لکھتے ہیں۔
" شیخ یونس ھو یونس بن یوسف بن مساعد الشیبانی۔۔ توفی رحمہ اللہ السنہ 619 ھ"
" شیخ عدی۔۔ توفی رحمہ اللہ السنہ 619 ھ"
سوال یہ ہے کہ 597ھ میں وفات پانے والے ابن الجوزی 619 ھ میں وفات پانے والے شیخ یونس اور شیخ عدی کی قبور کا ذکر کیسے کر سکتے ہیں۔
یہ تذکرہ اولی البصائر کے مزکورہ سفحہ کا عکس ہے۔
http://images.orkut.com/orkut/photos...Z2nH-f0KcA.jpg
یہ کتاب کسی بھی طور ابن جوزی سے ثابت نہیں ہے۔ محترمہ ام نور العین صاحبہ فرماتی ہیں :
اس کے دلائل میں سے کچھ باتیں آپ نے ذکر کی ہیں اس کے علاوہ بھی اس کے متعلق کئی شکوک ہیں ۔
۱ ۔۔ محقق شیخ ارنؤوط کا کہنا ہے کہ ان کو کتاب کا صرف ایک مخطوط (نسخہ خطیہ یا Manuscript) ملا ہے ۔ صرف ایک نسخہ یتیمہ سے کی گئی تحقیق اور نسبت کتنی معتبر ہو سکتی ہے ؟ علم تحقیق مخطوط کے طلبہ و طالبات جانتے ہیں ۔
۲۔ یہ کہنا کہ ابن النحاس نے اس کو ابن الجوزی سے منسوب کیا ہے کافی نہیں ۔ کیوں کہ اس نام کی کتاب عبد القادر بن احمد حازم الهيتمي، الرفاعي، الشافعي (000 - 1100 ه) (000 - 1689 م) سے بھی منسوب کی گئی ہے ۔ (دیکھیے :ھدیۃ العارفین ۱: ۶۰۲، اور معجم المؤلفین لعمر رضا کحالہ ربط حوالہ )
۳۔۔ امام ابن الجوزی محدث ہیں ، موضوع احادیث پر ان کی کتاب الموضوعات معروف ہے ۔ اس میں ان کا اسلوب کیسا ہے محدثین کے ہاں معروف ہے ، بعض اوقات وہ کم ضعیف احادیث کو بھی موضوعات میں شامل کر دیتے ہیں ۔ جب کہ کتاب الکبائر کے مصنف کا اسلوب اس سے سے بالکل مختلف ہے ۔ کتاب الکبائر میں ضعیف ، موضوع اور واہی روایات ملتی ہیں ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مصنف محدث نہیں اور احادیث کے اندراج میں محتاط نہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے اساتذہ کرام اس کتاب سے محتاط رہنے کا مشورہ دیتے تھے۔ میں نے اپنی طالبات کے لیے اس کتاب میں موجود غیر مستند اور واہی روایات کی ایک فہرست تیار کی تھی ، جو بدقسمتی سے سافٹ کاپی میں ہونے کی وجہ سے ضائع ہو گئی ۔ لیکن کچھ مقامات مجھے یاد ہیں ۔ ان شاء اللہ کسی روز فرصت ملنے پر ان کو پیش کرنے کی کوشش کروں گی ۔
۴۔ اس میں کئی ایسی شخصیات کے اقوال اور ان کے متعلق خبریں درج ہیں جو زمانی اعتبار سے ابن الجوزی کے بعد ہیں مثلا : شیخ یونس اور شیخ عدی کی قبور کا احوال ( جو صاحب موضوع نے ذکر کیے) اور اس کے علاوہ ابن العدیم المتوفى سنة 660 ھ سمیت دوسروں کے اقوال ۔
یہ سب باتیں اس کی امام ابن الجوزیؒ کی جانب نسبت کو مشکوک بناتی ہیں ۔ یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ اگر کتاب ابن الجوزی کی ہے تو بھی تحریف و تبدیل سے نہیں بچ سکی ۔
شیخ صدیق رضا کی کتاب "امت اور شرک کا خطرہ" کے مقدمہ میں ابن جوزی کے اقوال پیش کیے گئے کہ مردہ سے مدد مانگنا شرک ہے۔ جیسے کہ یہ قول صفحہ 10 پر نقل کیا۔
"شرک میں بعض لوگ وہ جاہل لوگ واقع ہوے ہیں جو دین اسلام کی طرف نسبت رکھتے ہیں، اور یہ وقوع جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور اس میں بعض وہ لوگ بھی شامل ہیں جو مشائخ کی طرف منسوب ہیں جیسے شیخ احمد بن رفائی، یا یونس الشیبانی اور عدی بن مسافر۔ اور اللہ کے سوا ان کی محبت میں دیوانے اور ان کی قبر پر اعتکاف کرتے ہیں" تذکرہ اولی البصائر صفحہ 20"
مگر جب میں نے تذکرہ اولی البصائر کا مذکورہ صفحہ دیکھا تو حاشیہ میں عبدالقادر الارناؤوط لکھتے ہیں۔
" شیخ یونس ھو یونس بن یوسف بن مساعد الشیبانی۔۔ توفی رحمہ اللہ السنہ 619 ھ"
" شیخ عدی۔۔ توفی رحمہ اللہ السنہ 619 ھ"
سوال یہ ہے کہ 597ھ میں وفات پانے والے ابن الجوزی 619 ھ میں وفات پانے والے شیخ یونس اور شیخ عدی کی قبور کا ذکر کیسے کر سکتے ہیں۔
یہ تذکرہ اولی البصائر کے مزکورہ سفحہ کا عکس ہے۔
http://images.orkut.com/orkut/photos...Z2nH-f0KcA.jpg
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
یہ کتاب کسی بھی طور ابن جوزی سے ثابت نہیں ہے۔ محترمہ ام نور العین صاحبہ فرماتی ہیں :
اس کے دلائل میں سے کچھ باتیں آپ نے ذکر کی ہیں اس کے علاوہ بھی اس کے متعلق کئی شکوک ہیں ۔
۱ ۔۔ محقق شیخ ارنؤوط کا کہنا ہے کہ ان کو کتاب کا صرف ایک مخطوط (نسخہ خطیہ یا Manuscript) ملا ہے ۔ صرف ایک نسخہ یتیمہ سے کی گئی تحقیق اور نسبت کتنی معتبر ہو سکتی ہے ؟ علم تحقیق مخطوط کے طلبہ و طالبات جانتے ہیں ۔
۲۔ یہ کہنا کہ ابن النحاس نے اس کو ابن الجوزی سے منسوب کیا ہے کافی نہیں ۔ کیوں کہ اس نام کی کتاب عبد القادر بن احمد حازم الهيتمي، الرفاعي، الشافعي (000 - 1100 ه) (000 - 1689 م) سے بھی منسوب کی گئی ہے ۔ (دیکھیے :ھدیۃ العارفین ۱: ۶۰۲، اور معجم المؤلفین لعمر رضا کحالہ ربط حوالہ )
۳۔۔ امام ابن الجوزی محدث ہیں ، موضوع احادیث پر ان کی کتاب الموضوعات معروف ہے ۔ اس میں ان کا اسلوب کیسا ہے محدثین کے ہاں معروف ہے ، بعض اوقات وہ کم ضعیف احادیث کو بھی موضوعات میں شامل کر دیتے ہیں ۔ جب کہ کتاب الکبائر کے مصنف کا اسلوب اس سے سے بالکل مختلف ہے ۔ کتاب الکبائر میں ضعیف ، موضوع اور واہی روایات ملتی ہیں ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مصنف محدث نہیں اور احادیث کے اندراج میں محتاط نہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے اساتذہ کرام اس کتاب سے محتاط رہنے کا مشورہ دیتے تھے۔ میں نے اپنی طالبات کے لیے اس کتاب میں موجود غیر مستند اور واہی روایات کی ایک فہرست تیار کی تھی ، جو بدقسمتی سے سافٹ کاپی میں ہونے کی وجہ سے ضائع ہو گئی ۔ لیکن کچھ مقامات مجھے یاد ہیں ۔ ان شاء اللہ کسی روز فرصت ملنے پر ان کو پیش کرنے کی کوشش کروں گی ۔
۴۔ اس میں کئی ایسی شخصیات کے اقوال اور ان کے متعلق خبریں درج ہیں جو زمانی اعتبار سے ابن الجوزی کے بعد ہیں مثلا : شیخ یونس اور شیخ عدی کی قبور کا احوال ( جو صاحب موضوع نے ذکر کیے) اور اس کے علاوہ ابن العدیم المتوفى سنة 660 ھ سمیت دوسروں کے اقوال ۔
یہ سب باتیں اس کی امام ابن الجوزیؒ کی جانب نسبت کو مشکوک بناتی ہیں ۔ یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ اگر کتاب ابن الجوزی کی ہے تو بھی تحریف و تبدیل سے نہیں بچ سکی ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق