السلام علیکم ورحمتہ اللہ
مندرجہ ذیل میں یہ بات کہ سفید بالو کو رنگ کر بدل دیا کرو ۔ کہاں تک صحیح ثابت ہے؟
آج صبح ایک عالم کے سامنے اس کا ذکر کیا تو اس نے جواب دیا کہ ایسی کوئی حدیث نہیں ہے ۔۔ اور اس نے یہ بھی کہ شیخ عبدالسلام رستمی صاحب بھی داڑھی کو سفید ہی رہنے دیتے ہیں۔
(مسلمانوں کی جانب سے اہل کتاب ،مشرکین ،مجوس ، فاسقوں اور اہل جاہلیت کی ان کے مخصوص لباس ، وضع قطع، آداب معاشرت اور تیوہاروں وغیرہ میں مخالفت ،کیونکہ کتاب و سنت میں ان کی مخالفت کاحکم ہے ،
مثلا رسول اللہﷺنے فرمایا:
’’ غَيِّرُوا الشَّيْبَ ، وَلاَ تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ” وفی روایۃ“وَلاَ بِالنَّصَارَى ‘‘ (رواہ احمد وغیرہ عن ابی ہریرة)
یعنی سفید بالوں کو رنگ کر بدل دیا کرو اور یہود و نصاریٰ کی مشابہت نہ اختیار کروٌ)
یہ روایت بسند صحیح جامع الترمذی أبواب اللباس باب ما جاء فی الخضاب ح ۱۷۴۲ میں بایں طور مروی ہے :
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ
مندرجہ ذیل میں یہ بات کہ سفید بالو کو رنگ کر بدل دیا کرو ۔ کہاں تک صحیح ثابت ہے؟
آج صبح ایک عالم کے سامنے اس کا ذکر کیا تو اس نے جواب دیا کہ ایسی کوئی حدیث نہیں ہے ۔۔ اور اس نے یہ بھی کہ شیخ عبدالسلام رستمی صاحب بھی داڑھی کو سفید ہی رہنے دیتے ہیں۔
(مسلمانوں کی جانب سے اہل کتاب ،مشرکین ،مجوس ، فاسقوں اور اہل جاہلیت کی ان کے مخصوص لباس ، وضع قطع، آداب معاشرت اور تیوہاروں وغیرہ میں مخالفت ،کیونکہ کتاب و سنت میں ان کی مخالفت کاحکم ہے ،
مثلا رسول اللہﷺنے فرمایا:
’’ غَيِّرُوا الشَّيْبَ ، وَلاَ تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ” وفی روایۃ“وَلاَ بِالنَّصَارَى ‘‘ (رواہ احمد وغیرہ عن ابی ہریرة)
یعنی سفید بالوں کو رنگ کر بدل دیا کرو اور یہود و نصاریٰ کی مشابہت نہ اختیار کروٌ)
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
یہ روایت بسند صحیح جامع الترمذی أبواب اللباس باب ما جاء فی الخضاب ح ۱۷۴۲ میں بایں طور مروی ہے :
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق