قبروں کو ایک بالشت سے زائد بلند کرنے پر کچھ دلائل پیش کیے جاتے ہیں انکا محاکمہ کر دیں :
علی رضی اللہ عنہ کو کونسی قبریں برابر کرنے کا حکم دیا ہے (یعنی وہ قبریں کتنی بلند ہوں ایک بالشت سے زیادہ یا کچھ اور) اور کن کی قبریں برابر کرنے کا حکم دیا مشرکین کی یا مسلمانوں کی کیونکہ بریلوی حضرات کہتے ہیں کہ اس سے مراد مشرکین کی قبریں ہیں وہ کہتے ہیں ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس سے مراد مشرکین کی قبریں ہی لیا ہے
١٥:٢٨
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حديث پاک مشرکين کی قبروں کے بارے ميں ہے، جيسا کہ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی شرح بخاري"فتح الباري" ميں اس کی وضاحت فرمائی: "مشرکين کی قبروں کے علاوہ انبياء کرام عليہم السلام اور ان کے متبعين کی قبروں کو گرانا منع ہے کيونکہ ايسا کرنے ميں ان کی گستاخی ہے، بر خلاف مشرکين کے کيونکہ ان کی کوئی حرمت نہيں"۔ (فتح الباري، قوله باب هل تنبش قبور مشرکي جاهلية، ج:1، ص:524، دار المعرفة بيروت)
١٥:٣١
بخاری شريف ميں ہے حضرت سيدنا سفيان بن تمّار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہيں کہ ميں نے نبی کريم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کی قبر کی زيارت کی جو کہ کوہان نما، اٹھی ہوئی تھی"۔ (صحيح بخاري، کتاب الجنائز، باب ما جاء في قبرالنبي صلی اللہ عليہ وسلم)
(حديث پاک ميں لفظ "مُسَنَّماً"استعمال ہوا جس کا مطلب ہے، زمين سے بالشت بھر اٹھي ہوئی يا اونٹ کے کوہان سے زيادہ اٹھا ہونا)
يہاں يہ سوال پيدا ہوتا ہے کہ نبی کريم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک کس نے بنائی؟ يقيناً صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعين نے، تو کيا انہيں معلوم نہ تھا کہ اونچی قبريں بنانا ممنوع ہے! اگر اونچی قبريں بنانا ممنوع ہے تو ان صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر کيا فتوٰی ہوگا؟
مزيد سنئے :حضرت خارجہ بن زيد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہيں کہ ميں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے ميں جوان تھا، (اس زمانے ميں) چھلانگ لگانے ميں سب سے زيادہ وہ سمجھا جاتے تھا جو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر چھلانگ لگا کر اس پار کود جايا کرتا تھا۔ (صحيح بخاري، کتاب الجنائز، باب الجريد على القبر)
کہيے! کتنی اونچی قبريں ہوا کرتی زمانہ صحابہ ميں کہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر اتنی اونچی تھی کے سب سے زيادہ اونچی چھلانگ لگانے والا ہی اسے پھلانگ سکتا۔
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
فتح الباری کی جس عبارت کو نقل کیا گیا ہے وہ قبروں کو اکھیڑنے کے بارہ میں ہے نہ کہ قبروں کی اصلاح کرنے کے بارہ میں ۔ اور اونچی قبروں کو باقی قبروں کے برابر کرنا اصلاح ہے۔
مسنما سے کوہان نما ہونا تو معلوم ہے ۔
لیکن مسنما کہ یہ معنى کہ وہ کوہان سے زیادہ بلند تھیں , کسی طور پر درست نہیں ۔
عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر والی روایت بخاری میں بے سند ہے امام بخاری نے اسے التاریخ الأوسط میں باسند نقل کیا ہے ۔
اور پھر اس روایت میں قبر کو پھلانگنے کا ذکر ہے ۔ لیکن اونچائی یا لمبائی یا چوڑائی مذکور نہیں کہ پھلانگنے والا اونچی چھلانگ پھلانگتا یا لمبی چھلانگ لگاتا ّ!
فاذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال
اور قبر کا لمبائی کے رخ بڑا ہونا تو معلوم ہی ہے ۔ سو قریب تر یہی مفہوم ہے ۔
اشدنا وثبۃ سے اونچی چھلانگ کا مفہوم نہیں نکلتا یہ محض سینہ زوری ہے ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق