والدین اگر اپنے بیٹے کو کہیں کہ بیوی کو طلاق دو تو کیا کرنا چاہیے؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے , اور کسی سمجھدار سے مشورہ بھی لے لینا چاہیے ۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو جب انکے والد گرامی نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیا تو انہوں نے ایسا ہی کیا تھا :
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ أُحِبُّهَا، وَكَانَ أَبِي يَكْرَهُهَا، فَأَمَرَنِي أَبِي أَنْ أُطَلِّقَهَا، فَأَبَيْتُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، طَلِّقْ امْرَأَتَكَ.
جامع الترمذی : ۱۱۸۹
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے , اور کسی سمجھدار سے مشورہ بھی لے لینا چاہیے ۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو جب انکے والد گرامی نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیا تو انہوں نے ایسا ہی کیا تھا :
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ أُحِبُّهَا، وَكَانَ أَبِي يَكْرَهُهَا، فَأَمَرَنِي أَبِي أَنْ أُطَلِّقَهَا، فَأَبَيْتُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، طَلِّقْ امْرَأَتَكَ.
جامع الترمذی : ۱۱۸۹
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق