• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الاثنين، أبريل 1

والدین اگر اپنے بیٹے کو کہیں کہ بیوی کو طلاق دو تو کیا کرنا چاہیے؟

والدین اگر اپنے بیٹے کو کہیں کہ بیوی کو طلاق دو تو کیا کرنا چاہیے؟


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب


 
سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے , اور کسی سمجھدار سے مشورہ بھی لے لینا چاہیے ۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو جب انکے والد گرامی نے  اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیا تو انہوں نے ایسا ہی کیا تھا :

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ أُحِبُّهَا، وَكَانَ أَبِي يَكْرَهُهَا، فَأَمَرَنِي أَبِي أَنْ أُطَلِّقَهَا، فَأَبَيْتُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، طَلِّقْ امْرَأَتَكَ.
جامع الترمذی : ۱۱۸۹
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق