• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الاثنين، أبريل 1

مشرک کو کافر کہنا

گزارش ہے کہ ایک ایسا شخص جوکلمہ پڑھ لینے کے بعد شرک اکبرکامرتکب ہے اوراتمام حجت کے بعد اسکے تمام عذر دورکرنے کے بعد اہل علم نے اس پرمشرک ہونے کافتوی لگایاہے کیااب بھی وہ شخص مسلمان ہے؟اور مشرک کومسلمان کہنا کیسا ہے؟اورکیامشرک کافر نہیں ہوتاہے؟ باحوالہ وضاحت فرمادیں۔اکثرلوگ یہ بات کرتےہیں کہ مشرک کافرنہیں ہوتا۔
ایک اصطلاح عام ہے کہ ہرکافرمشرک ہوتاہے اورہرمشرک کافرنہیں ہوتا" کس حدتک صحیح ہے؟


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب



مشرک کافر بھی ہوتا ہے ۔
کیونک وہ شرک کرنے کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج اور دائرہ کفر میں داخل ہے
بلکہ یوں کہیں کہ مشرک بد ترین کافر ہوتا ہے ۔
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق