سوال: ہماری مسجد
جامع قمر المساجد اہل الحدیث اندرون بوہڑ گیٹ محلہ کھجی ملتان میں ایک بچہ جو کہ
آذان اور تکبیر کہتا تھا, چونکہ ہماری مسجد میں مختلف مکاتب فکرکے لوگ نماز پڑھنے
کے لیے آتے ہیں تو انہوں نے بچہ کے تکبیر کہنے پر اعتراض کیا , کہ تکبیر کے وقت
مسجد میں معمر , حفاظ قرآن , اور باریش لوگ موجود ہوتے ہیں ,تو انکی موجودگی میں
بچہ کہ جسے مسائل طہارت کا بھی علم نہیں ہے وہ اقامت نہ کہے ۔ اس تنازعہ کی بناء
پر بہت سے لوگ مسجد میں آنا چھوڑ گئے ہیں , کیونکہ اس بناء پر روزانہ کوئی نہ کوئی
فساد ہوتا ہے ۔ مسجد میں بپا اس فساد کو ختم کرنیکا کوئی شرعی طریقہ کار متعین
فرما کر مسجد کو پر امن بنانے میں ہمارا
تعاون فرمائیں ۔
الجواب بعون الوہاب ومنہ
الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
بچہ کے آذان یا اقامت
کہنے پر اعتراض درست نہیں , کیونکہ نبی ﷺ نے سیدنا ابو محذورہ t کو اذان واقامت سکھائی اور انہیں مکہ
کا مؤذن مقرر فرمایا حالانکہ وہ ابھی بچے
تھے ۔(سنن ابی داود :۵۰۲,۵۰۴)
بلکہ اس سے بھی بڑھ
کر کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمرو بن سلمہ t کو اپنی قوم کا امام متعین فرما دیا
تھا جبکہ انکی عمر ابھی صرف چھ یا سات برس تھی ۔ ( صحیح بخاری :۴۳۰۲)
لہذا اگر کبھی کوئی بچہ آذان یا اقامت
کہہ دے تو اس پر اعتراض کرنا جائز نہیں ۔ لیکن اگر یہ بات فساد اور انتشار کا باعث
بن رہی ہو تو اس صورت میں بچہ کے لیے اذان واقامت کہنا درست نہیں رہتا ۔ کیونکہ
نبی کریم ﷺ نے بہت سے جائز کاموں کو صرف فساد اور فتنہ کے خوف سے
ترک فرما دیا تھا ۔ مثلا :
کعبۃ اللہ کی موجودہ عمارت ابراہیمی بنیادوں پر
نہیں ہے ۔ اور یہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی ایسے ہی تھی ,لیکن آپ ﷺ نے اسے
ابراہیمی بنیادوں پر تعمیر نہ کیا بلکہ اسی طرح رہنے دیا جسطرح دور جاہلیت میں
اسکی تعمیر کی گئی تھی اور آپ ﷺ
نے اسکی وجہ یہ بیان کی کہ لوگ ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں ہو سکتا ہے کہ
ان پر یہ بات گراں گزرے ۔ (صحیح بخاری : ۳۳۶۸)
اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ کچھ
جائز کام بھی فتنہء وفساد کے ڈرسے ترک کردینا شریعت اسلامیہ کے مقاصد میں سے ہے ۔
لہذا اگر مسجد میں فتنہ وفساد کا خوف ہو یا فتنہ بپا ہو تو اسے ختم کرنے کے لیے
بچہ کو آذان یا اقامت سے منع کیا جاسکتا ہے ۔ کیونکہ یہ فرض نہیں ہے کہ بچہ ہی آذان
یا اقامت کہے , کوئی اور بھی یہ کام سر انجام دے سکتا ہے ۔
اسی طرح مسجد میں کسی تنازعہ کی بناء
پر نمازیوں کا مسجد سے تعلق ختم کر دینا بھی شریعت اسلامیہ میں درست نہیں ہے ۔
کتنی حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر کہ اگر انکا تنازعہ اپنی دکان پر کسی شخص کے ساتھ
ہو جائے اور وہ اس سے بھی زیادہ بڑا ہو تو وہ دکان سے تعلق ختم نہیں کرتے بلکہ اور
زیادہ مضبوط کرتے ہیں , یہ اللہ کے گھر مساجد ہی ہیں کہ جن سے سوتیلوں جیسا سلوک
کیا جاتا ہے اور چھوٹی چھوٹی بات پر نمازی حضرات مسجد میں آنا بند کر دیتے ہیں ۔
انہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے اور اپنی اس روش پر غور کرنا چاہیے
ھذا , واللہ تعالى أعلم و علمہ
أکمل واتم , ورد العلم الیہ أسلم, والشکر والدعاء لمن نبہ وأرشد وقوم
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق