الکحل سے متعلق شیخ ابن عثیمین کے فتوى کی کیا حیثیت ہے ؟
كولونيا يا الكحل پر مشتمل خوشبو اور عطر استعمال كرنے كا حكم كيا ہے ؟
الحمد للہ:
جن خوشبو جات اور پرفيومز ميں كولونيا يا الكحل پائى جاتى ہے، ان كے متعلق تفصيلا كلام كرنا ضرورى ہے، اس ليے ہم يہ كہينگے كہ:
اگر تو الكحل كى مقدار بہت ہى قليل ہو، تو يہ نقصان دہ نہيں اور انسان كو يہ خوشبو بغير كسى قلق اور پريشانى كے استعمال كر لينى چاہيے، مثلا اس ميں الكحل پانچ فيصد ہو، يا اس سے بھى كم مقدار ميں، تو يہ مؤثر نہيں.
ليكن اگر اس كى مقدار زيادہ ہو كہ يہ اثرانداز ہو تو انسان كو بہتر يہى ہے كہ انسان بغير ضرورت اسے استعمال مت كرے، مثلا زخم وغيرہ كے ليے.
ليكن اگر ضرورت نہ ہو تو بہتر اور اولى يہى ہے كہ استعمال نہ كى جائے، اور ہم يہ نہيں كہتے كہ يہ حرام ہے، كيونكہ اس زيادہ تناسب ميں ہم زيادہ سے زيادہ يہى كہہ سكتے ہيں كہ يہ نشہ آور ہے، اور نشہ آور چيز كو پينا بلاشك و شبہ نص اور اجماع كے اعتبار سے حرام ہے.
ليكن كيا يہ پينے كے علاوہ بھى حرام ہے ؟
يہ محل نظر ہے، اور احتياط اسى ميں ہے كہ اسے استعمال نہ كيا جائے، ميں نے محل نظر اس ليے كہا ہے كہ: كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
﴿ اے ايمان والو! بات يہى ہے كہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نكالنے كے پانسے كے تير يہ سب گندى باتيں، اور شيطانى عمل ہيں ان سے بالكل الگ تھلگ رہو تا كہ تم كامياب ہو جاؤ ﴾
شيطان تو يہى چاہتا ہے كہ وہ شراب اور جوئے كے ذريعہ سے تمہارے آپس ميں عداوت و دشمنى اور بغض پيدا كر دے، اور تمہيں اللہ تعالى ى يا داور نماز سے باز ركھے، سو اب بھى تم باز آ جاؤ ﴾المآئدۃ ( 90 - 91 ).
ہم نے يہ كہا ہے كہ اسے پينا ممنوع ہے، كيونكہ صرف اسے لگانے سے نشہ نہيں ہوتا، تو خلاصہ يہ ہوا كہ:
اگر الكحل كا تناسب اس خوشبو ميں بہت ہى كم ہو، ت واس ميں كوئى حرج نہيں، اور نہ ہى اس ميں كوئى اشكال اور پريشانى و قلق ہے.
ليكن اگر اس تناسب زيادہ ہو تو پھر اس سے اجتناب كرنا اولى اور بہتر ہے، صرف ضرورت كے وقت استعمال ہو سكتى ہے، اور ضرورت يہ ہے كہ انسان كو زخم وغيرہ كى جگہ سن كرنے كى ضرورت پيش آئے.
ديكھيں: لقاء الباب المفتوح شيخ ابن عثيمين ( 240 ).
Islam Question and Answer - الكحل والى خوشبو اور عطر
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
شیخ کا یہ فتوى محل نظر ہے ۔
کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے "ما أسکر کثیرہ فقلیلہ حرام" سنن ابی داود ح ۳۶۸۱
یعنی جس چیز کی بہت زیادہ مقدار بھی نشہ پیدا کردے اسکی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے ۔
لہذا الکوحل تھوڑی ہو یا زیادہ حتى کہ ایک فیصد بھی ہو تو بھی حرام ہی ہے ۔
اسی طرح جب کسی چیز کو حرام قرار دے دیا جائے تو اس سے کسی بھی قسم کا فائدہ اٹھانا حرام ہوتا ہے , الا کہ کسی خاص فائدہ کی کوئی دلیل ہو ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اللہ تعالی یہودیوں پر لعنت کرے کہ جب اللہ نے ان پر چربی کو حرام کیا تو انہوں نے اسے پگھلا کر گھی بنایا اور اسے بیچ کر اسکی قیمت کھانے لگے ۔ صحیح بخاری ۲۲۲۳
اس حدیث کی رو سے الکوحل یا الکوحل ملی اشیاء کی خرید وفروخت اور ہمہ قسم انتفاع حرام قرار پاتا ہے ۔
اور پھر غور طلب بات یہ ہے کہ کسی بھی چیز میں الکوحل شامل کرنے کے لیے جب تیار کرنے والا الکوحل خریدے گا یا تیار کرے گا تو اس وقت وہ سو فیصد الکوحل ہی ہوگی ۔ اور اسکا اس وقت تیار کرنا یا خریدنا تو شیخ ابن عثیمین کے موقف کے مطابق بھی حرام ہی ہو گا !!!
جب بنیاد ہی حرام ہے تو پھر اس پر یہ عمارت کیسے کھڑی ہو سکتی ہے ۔ فتدبر !
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق