• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الخميس، فبراير 19

مسافر کی مقیم کے پیچھے نماز کتنی رکعت ہوگی.؟ جبکہ وہ امام کو تیسری رکعت میں پائے یا تشہد کی حالت میں؟

مسافر کی مقیم کے پیچھے نماز کتنی رکعت ہوگی.؟ جبکہ وہ امام کو تیسری رکعت میں پائے یا تشہد کی حالت میں؟
ڈاکٹر رضوان 

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب

اگر مسافر مقیم امام کے ساتھ ایک رکعت بھی پا لیتا ہے تو اسے چار رکعتیں ہی ادا کرنا ہونگی.
اور اگر ایک رکعت بھی نہیں پاتا مثلا آخری رکعت کے رکوع میں یا اسکے بعد شامل ہوتا ہے تو پھر وہ دو رکعتیں ہی پڑھے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ: إِنَّا إِذَا كُنَّا مَعَكُمْ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا، وَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى رِحَالِنَا صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ. قَالَ: «تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
مسند أحمد: 1862 ط الرسالة

موسی بن سلمہ کہتے ہیں ہم ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ میں تھے تو میں نے پوچھا جب ہم آپکے ساتھ ہوتے ہیں تو چار رکعتیں پڑھتے ہیں اور جب ہم اپنے خیموں کی طرف لوٹتے ہیں تو دو رکعتیں پڑھتے ہیں.
تو انہوں نے کہا یہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے
لہذا
آخری ایک رکعت بھی پالے تب بھی چار ہی پڑھے گا کیونکہ ساتھ تو مل ہی گیا۔
اور اگر اگر آخری رکعت نہ ملے تو دو پڑھے گا کیونکہ امام کے ساتھ یا باجماعت ایک رکعت بھی اسے نہیں ملی



author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق