• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الخميس، فبراير 19

تشریع عام کسے کہتے ہیں ؟

تشریع عام کسے کہتے ہیں , آجکل کچھ تکفیری لوگ یہ لفظ بول کر عجیب عجیب باتیں کرتے ہیں !

الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

تشریع عام کے حوالہ سے یہ اقتباس پڑھ لیں:

آل تکفیر  کے  ہاں تکفیر کی ایک بنیاد تشر یع عام  بھی ہے۔عصر حاضر کے تکفیری و خارجی گروہکا یہنظریہ ہے کہ جو کوئی کسی کبیرہ  گناہ پردوام یعنی ہمیشگی اختیار کرلے یا وہ کبیرہ گناہ کو ہلکا جان کر کرے تو ایسا کرنے والا کافر ہو جاتا ہے۔اور وہ  یہ اصول الشیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ رحمہ اللہ کے ایک قول سے اخذ کرتے ہیں
"جس کا خلاصہ یہ ہے کہ گناہ کبیرہ پر استمرار و دوام بھی ارتداد بن جاتاہے"۔
اول:  الشیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ رحمہ اللہ کی بات دین میں حجت نہیں۔ کسی بھی عالم کی بات دین میں اسوقت تک حجت نہیں جب تک قران و سنت کے دلائل سے مزین نہ ہو۔۔۔!!!
دوم:  یہ بات شرعا  بھی درست نہیں جیسا  کہ اس ضمن میں  الشیخ عبدالعزیز بن بار رحمہ اللہ کی تصریح بھی موجود ہے۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"اگرچہ وہ اس کبیرہ گناہ کو ہلکا جانتا ہویا اسپر دوام و ہمیشگی اختیار کرے،کافر نہیں ہوگا حتی کہ وہ اسے حلال  سمجھے۔ برخلاف ان کے جو آجکل یہ کہتے ہیں کہ کبیرہگناہ کا مرتکب اگر اسے ہلکا جانتے ہوئے ( یا ہمیشگی و دوام  اختیار)کرے تو وہ کفر اکبر کا مرتکب ہوکرملت اسلامیہ سے خارج ہوگیا۔ یہ بھی عین خوارج کا ہی قول ہے"
(الشیخ عبدالعزیز بن باز ؒ نے طائف /1415ھ میں سوال  و جواب کی نششت)
ہم پہلے آل تکفیر کا استدلال پیش کرتے ہیں بعد میں اس کی حقیقت حدیث رسول کی روشنی میں واضح کریں گے ۔
تکفیری حضرات کہتے ہیں :
"دور حاضر کے حکمران یا جج حضرات جس آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں اسے ایک مصدر اور منبع کی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور جج حضرات اپنے فیصلوں میں باربار اس آئین یا قانون کی طرف رجوع کرتے ہیں لہذا قرون أولی میں کسی قاضی کا کسی خاص واقعے میں شریعت کے خلاف فیصلہ کرنا اور موجودہ دور میں کسی جج کا کسی واقعے میں بار بار کسی غیر شرعی قانون کے مطابق فیصلہ کرنا اور اس قانون کے مطابق فیصلے میں استمرار کا پایا جانا ایک بالکل مختلف معاملہ ہے"۔
ہم بھی یہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں صورتیں گناہ کے اعتبار سے برابر نہیں ہیں ۔ پہلی صورت گناہ میں ہلکے درجے کی ہے جبکہ دوسری صورت کا گناہ بہت بڑھ کر ہے لیکن یہ کفر اکبر نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص کسی گناہ پر اصرار کرتا ہے تو وہ گناہ کفر نہیں بن جاتا جیسا کہ ایک شرابی زندگی بھر شراب پیتا رہے اور ایک سود خور عمر بھرسود کھاتا رہے تو اس کے اس فعل کی برائی، قباحت اور شناعت تو بڑھ جائے گی لیکن اس کا یہ فعل گناہ کبیرہ ہی رہے گا نہ کہ کفر اکبر بن جائے گا۔
صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق اللہ کے رسول کی صحبت میں رہنے والے ایک صحابی عبداللہ الحمار ؓ،شراب نوشی پر دوام اختیار کرنے والوں میں سے تھے اور اللہ کے رسول نے ان پر کئی دفعہ حد جاری فرمائی یہاں تک ایک دفعہ تنگ آکر بعض صحابہ نے اس پر لعن طعن کی کہ اتنی بار حد نافذ کرنے کے بعد بھی اس عادت کو نہیں چھوڑتے ہو تو اللہ کے رسول نے اس پر لعن طعن کرنے سے منع فرمایا اور کہا کہ میں جانتا ہوں کہ اس کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت ہے۔
(صحیح بخاری ' کتاب الحدود ' باب ما یکرہ من لعن شارب الخمر)
پس نص سے ثابت ہوا کہ کسی برائی یا کبیرہ گناہ پر دوام اسے کفر اکبر نہیں بناتالہذا اگر کسی مسئلے میں  میں ایک چیز کبیرہ گناہ ہے جیسا کہ شیخ محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ کا بھی یہی کہنا ہے تو تشریع عام میں اس گناہ کبیرہ پرہمیشگی کی صورت میں وہ کفر اکبر کیسے بن جائے گی؟۔
اگر کوئی شخص مذکورہ بالا توجیہات پر مطمئن نہ ہو تو پھرایسے شخص کو یہ کہا جا سکتا ہے کہ عقلی ومنطقی اعتبار سے شیخ محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ کا قول، ان کی جلالت علمی کے باوصف، اس لیے قابل قبول نہیں ہے کہ اس قول میں یہ بات شرعی نص کے مخالف ہے۔
انسان کا عمل ہر صورت میں اس کے عقیدے پر دلالت نہیں کرتا اور نہ ہی ہر صورت میں عمل کی عقیدے پر دلالت قطعی ہوتی ہے مثلا ً ایک شخص ساری عمر حرام سودکھاتا رہا ہے۔ اب کیا اس کا یہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ وہ سود کھانے کو جائز یا اچھا سمجھتا ہے جیسا کہ شیخ محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ کے قول میں یہ بات موجود ہے کہ حکمران یا جج ساری عمر غیر اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے کرتا رہاہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ غیر اللہ کے قانون کو کتاب وسنت سے بہتر سمجھتا ہے۔ کسی عمل پر دوام اور استمرارکسی کے عقیدے کے لیے دلیل کیسے بنتا ہے ، یہ بات قابل فہم نہیں ہے۔ زنا کا ارتکاب ایک دفعہ ہو یا کوئی شخص زنا کا عادی مجرم ہو، دونوں صورتوں میں زنا کی حد ایک ہی ہو گی یعنی زنا کے عادی مجرم کے لیے کوئی علیحدہ سے سخت حد نازل نہیں ہوئی ہے، اگرچہ عادی مجرم کا گناہ ایک دفعہ کے مرتکب کے گناہ سے بہت بڑھ کرہے
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق