میرا سوال هے که ایک لڑکی جو که سلفی العقیده هے.. اور اس کے والدین نے اس کا نکاح زبردستی ایک دیوبندی تبلیغی سے کردیا هے..
ابھی رخستی نهیں هوئی..
لڑکی نے اپنے والدین کی بهت منتیں بھی کی هیں که میرا نکاح کسی اهل الحدیث سے کریں...
کیا یه نکاح جائز هے جبکه والدین نےمختلف دھمکیاں دیکر یه نکاح کردیا هے... ایسے نکاح کی شرعی حیثیت کیا هے.. ؟
ابھی رخستی نهیں هوئی..
لڑکی نے اپنے والدین کی بهت منتیں بھی کی هیں که میرا نکاح کسی اهل الحدیث سے کریں...
کیا یه نکاح جائز هے جبکه والدین نےمختلف دھمکیاں دیکر یه نکاح کردیا هے... ایسے نکاح کی شرعی حیثیت کیا هے.. ؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
اگر لڑکا اور لڑکی دونوں مؤمن وموحد اور محصن ہوں اور لڑکی کے اولیاء زبردستی نکاح کر دیں تو ایسے نکاح کی شرعی حثیت یہ ہے کہ نکاح قائم ہو چکا ہے ۔ البتہ لڑکی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اس نکاح کو قاضی کے ذریعہ رد کر سکتی ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ الْقَاسِمِ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ وَلَدِ جَعْفَرٍ تَخَوَّفَتْ أَنْ يُزَوِّجَهَا وَلِيُّهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ فَأَرْسَلَتْ إِلَى شَيْخَيْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ جَارِيَةَ قَالَا فَلَا تَخْشَيْنَ فَإِنَّ خَنْسَاءَ بِنْتَ خِذَامٍ أَنْكَحَهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ قَالَ سُفْيَانُ وَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ عَنْ أَبِيهِ إِنَّ خَنْسَاءَ
صحیح البخاری : 6969
خنساء بنت خذام رضی اللہ عنہا کی ناپسندیدگی کے باوجود انکے والد نے انکا نکاح کر دیا تھا تو نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو رد فرما دیا ۔
یاد رہے کہ نکاح کے لیے فریقین دلہا و دلہن دونوں کا مؤمن وموحد ہونا , محصن (پاکدامن) ہونا , دونوں کا رضا مند ہونا, لڑکی کے اولیاء کی رضامندی, اور دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے
اگر ان میں سے ایک چیز بھی نہ ہو تو نکاح درست نہیں۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق