آج تک ربنا ولک الحمد سری کہا جاتا رہا اور ہم
نے اسی کا مشاہدہ کیا۔
لیکن چند دن پہلے ابو محمد بدیع الدین راشدی رحمہ اللہ کی ایک کتاب پڑھنے
کا اتفاق ہوا۔ انہوں نے اس کتاب میں ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ربنا ولک
الحمد کو جہرا پڑھا جائے۔
< جواب >
موصوف نے اپنے رسالہ " نشاط العبد بجہر ربنا ولک الحمد " میں پہلی گیارہ احادیث میں
لفظ " قول " سے استدلال کیا گیا ہے جبکہ یہ استدلال باطل ہے کیونکہ اللہ
رب العالمین نے ذکر و دعاء کو سرا , دون الجہر من القول اور خفیۃ کرنے کا
حکم دیا ہے ۔
بارہویں حدیث ضعیف ہے , اور فاضل مؤلف خود مان رہے ہیں کہ یہ احتجاج کے قابل نہیں !
تیرھویں حدیث میں مستدل راوی کے علم کو بنایا گیا ہے جبکہ یہ طرز استدلال نہایت ضعیف ہے , کیونکہ راوی بسا اوقات جہر کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے علم حاصل کر لیتا ہے خواہ سوال کے ذریعہ ہو یا ارشاد کے ذریعہ , پھر اس " ذریعہ " کو ساقط کرکے بات بیان کر دیتا ہے ۔ اور یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں عام تھا ۔
جودھویں حدیث سے استدلال بھی باطل ہے کیونکہ تفریق کی دلیل موجود ہے کہ تسمیع کو جہرا کہنا ثابت ہے اور تحمید کو جہرا کہنا ثابت نہیں لہذا تحمید کو ذکر کے عمومی قاعدہ کی بناء پر سرا ہی رکھا جائے گا ۔
اسکے بعد موصوف نے آخری تین مرفوع روایات میں وہی ایک ہی روایت " من المتکلم " والی پیش فرمائی ہے ۔ اور اس سے جہر پر استدالال کیا ہے , لیکن اس روایت سے بھی استدلال باطل ہے
کیونکہ
۱۔نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی نے بھی جہر نہیں کیا ۔
۲۔ اسکے بعد کسی سے بھی اسکا جہر کرنا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ثابت نہیں ۔
۳۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمانا " من المتکلم " اور تین مرتبہ اس کلمہ کو دہرانا , اور متکلم کا ڈر کے مارے خاموش رہنا , اور دوبارہ زندگی بھر ایسا نہ کرنا , اس جہر کے غلط ہونے پر دلیل ہے۔
بارہویں حدیث ضعیف ہے , اور فاضل مؤلف خود مان رہے ہیں کہ یہ احتجاج کے قابل نہیں !
تیرھویں حدیث میں مستدل راوی کے علم کو بنایا گیا ہے جبکہ یہ طرز استدلال نہایت ضعیف ہے , کیونکہ راوی بسا اوقات جہر کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے علم حاصل کر لیتا ہے خواہ سوال کے ذریعہ ہو یا ارشاد کے ذریعہ , پھر اس " ذریعہ " کو ساقط کرکے بات بیان کر دیتا ہے ۔ اور یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں عام تھا ۔
جودھویں حدیث سے استدلال بھی باطل ہے کیونکہ تفریق کی دلیل موجود ہے کہ تسمیع کو جہرا کہنا ثابت ہے اور تحمید کو جہرا کہنا ثابت نہیں لہذا تحمید کو ذکر کے عمومی قاعدہ کی بناء پر سرا ہی رکھا جائے گا ۔
اسکے بعد موصوف نے آخری تین مرفوع روایات میں وہی ایک ہی روایت " من المتکلم " والی پیش فرمائی ہے ۔ اور اس سے جہر پر استدالال کیا ہے , لیکن اس روایت سے بھی استدلال باطل ہے
کیونکہ
۱۔نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی نے بھی جہر نہیں کیا ۔
۲۔ اسکے بعد کسی سے بھی اسکا جہر کرنا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ثابت نہیں ۔
۳۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمانا " من المتکلم " اور تین مرتبہ اس کلمہ کو دہرانا , اور متکلم کا ڈر کے مارے خاموش رہنا , اور دوبارہ زندگی بھر ایسا نہ کرنا , اس جہر کے غلط ہونے پر دلیل ہے۔
۴۔ صحیح مسلم والی حدیث میں اس بات کی صراحت ووضاحت ہے کہ "حفزہ
النفس" یعنی اسے سانس چڑھا ہوا تھا , اور جسے سانس چڑھا ہوا ہو اسکی زبان سے
کچھ کلمات بلا اختیار بآواز بلند نکل جاتے ہیں ۔
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ
رَجُلًا جَاءَ فَدَخَلَ الصَّفَّ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ
حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ أَيُّكُمْ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ
فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ أَيُّكُمْ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ
بَأْسًا فَقَالَ رَجُلٌ جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ فَقُلْتُهَا فَقَالَ لَقَدْ
رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا
(صحيح مسلم
كتاب المساجد ومواضع الصلاة باب ما يقال بين تكبيرة الإحرام والقراءة ح 600)
۵۔ اسی حدیث میں امام نسائی نے یہ بھی اضافہ کیا ہے کہ وہ رکوع کے بعد مسجد میں داخل ہوا اور داخل ہوتے ہی اس نے اللہ اکبر کہا اور پھر یہ دعاء پڑھی , لہذا اگر اس حدیث سے حمدا کثیرا والی دعاء کا جہرا پڑھنا نکالتے ہیں تو تکبیر تحریمہ کا جہرا پڑھنا کیوں نہیں نکالتے ؟ فما ذا جوابکم فہو جوابنا ۔
وہ روایت یہ ہے :
عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ
قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا إِذْ
جَاءَ رَجُلٌ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ
الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ أَيُّكُمْ الَّذِي تَكَلَّمَ
بِكَلِمَاتٍ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ قَالَ إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا قَالَ أَنَا يَا
رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ فَقُلْتُهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا
أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا
سنن نسائي كتاب
الافتتاح باب نوع آخر من الذكر بعد التكبير ح 901
۔
اخفاء کی دلیل وہی ہے جو اللہ نے قرآن میں ذکر کے بارہ میں عمومی قاعدہ " واذکر ربک فی نفسک تضرعا وخیفۃ ودون الجہر من القول " میں بیان فرمائی ہے
اسکے بعد موصوف نے موقوفات اور مقطوعات پیش فرمائی ہیں جو کہ دین میں حجت و دلیل نہیں !
اخفاء کی دلیل وہی ہے جو اللہ نے قرآن میں ذکر کے بارہ میں عمومی قاعدہ " واذکر ربک فی نفسک تضرعا وخیفۃ ودون الجہر من القول " میں بیان فرمائی ہے
اسکے بعد موصوف نے موقوفات اور مقطوعات پیش فرمائی ہیں جو کہ دین میں حجت و دلیل نہیں !
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق