اللہ اکبر کی جگہ فارسی میں'' خدائے بزرگ ست '' کہنے کے لیے اور قرات کو زبان فارسی میں پڑھنے کے لیے فقہ کی کتابوں میںہے لکھا ہے ،
فان افتتح الصلوتہ بالفارسیہ او قرا فیھا بالفارسیہ او ذبح وسمی بالفارسیہ وھو یحسن العربیہ اجزاء عند ابی حنیفہ
اگر شروع کرے نماز فارسی میں /اللہ اکبر کی بجائے خدائے بزرگ کہے / یا پڑھے نماز فارسی میں یا ذبح کرے اور پڑھے بسم اللہ زبان فارسی میں گرچہ عربی بھی اچھی طرح جانتا ہوتو ابوحنیفہ کے نزدیک نماز اس کی ہو جاتی ہے ۔
ھدایہ کتاب الصلاتہ باب صفتہ الصلاتہ ج 1 ،ص 210، درمختار ج 1 صفحہ 210،فتاوی عالمگیری ج 1 ، قدوری ص 22 ،
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
نماز میں فارسی کا استعمال درست نہیں
اور نماز کا آغاز کلمہ اللہ اکبر کے بغیر بھی درست نہیں
کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے " تحریمہا التکبیر" نماز کے لیے تحریمہ صرف اور صرف تکبیر (اللہ اکبر) ہی ہے ۔ [ جامع الترمذی - ابواب الصلاۃ ]
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق