السلام علیکم!
محترم شیخ، جیسا کہ آپ کے علم میں ہوگا کہ موجودہ دور میں سائنس کی رو سے کچھ حقائق کو بلاشک و شبہ صیح مانا جاتا ہے اور ان پر طبیعات اور ریاضی کے قوانین کی رو سے من و عن ایمان لانے کو ہی عقلمندی گردانا جاتا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے نیٹ پر مطالعہ کے دوران کچھ انفارمیشن ملی جو کہ مسلمہ سائنسی اعتقادات سے مختلف ہی نہیں بلکہ متضاد بھی ہے، میرے آپ سے سوالات ہیں کہ کیا قرآن و حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا فہم سلف و خلف کی رو سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1) زمین موجودہ سائنسی ثبوتوں کے برعکس چپٹی (flat) ہے یا کہ گول یا بیضوی ہے؟
2) زمین ساکن ہے یا متحرک؟ اگر زمین متحرک ہے تو کیا اس کی حرکت محوری حرکت ہے کسی اور قسم کی
3) سائنس کہتی ہے کہ زمین سورج کے گرد چکر لگارہی ہے نیز سائنس کہتی ہے کہ حقیقت میں سورج و طلوع غروب نہیں ہوتا بلکہ زمیں پر اگر ایک جگہ اندھیرا ہے تو دوسری جگہ پر سورج چمک رہا ہوتا ہے اور زمین سورج کے گرد چکر لگا رہی ہے۔۔۔۔ قرآن میں ذوالقرنین کا جو قصہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ طلوع و غروب شمس کی جگہ پر پہنچا ، نیز حدیث میں سورج کا عرش کے نیچے سجدہ کرنے کا ذکر یا قیامت کے قریب سورج کے مغرب سے نکلنے کا ذکر ہے ، میر سوال ہے کہ کیا مسلمہ سائنسی حقائق کے برعکس کیا سورج زمین کے گرد محور گردش ہے؟؟؟؟
۱) اگر کسی مستطیل چیز کو بھی دور سے دیکھا جائے تو وہ بیضوی نظر آتی ہے اور اگر یہ دوری مزید بڑھ جائے تو وہ چیز بالکل گول نظر آنے لگتی ہے
سائنس دانوں کا زمین کے گول یا بیضوی ہونے کا جھگڑا اسی مقدمہ کیوجہ سے ہے
قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ تعالى نے زمین کی شکل کے بارہ میں کچھ یوں صراحت فرمائی ہے
الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا --- البقرۃ
وَهُوَ الَّذِي مَدَّ الْأَرْضَ الرعد ۳
الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا طہ ۵۳
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِسَاطًا (19) نوح
وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ (48) الذاریات
وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا (30) النازعات
ان آیات بینات میں اللہ تبارک وتعالى نے زمین کے بارہ میں بچھونا , بچھانا , پھیلانا کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں ۔
وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ (133) آل عمران
سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ---- الحدید ۲۱
ان آیات بینات میں اللہ تعالى نے زمین کے چوڑائی کا تذکرہ فرمایا ہے ۔
اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ الطلاق ۱۲
اس آیت میں اللہ تعالى نے زمین کو آسمان کی مثل قرار دیا ہے ۔
وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ (20) الغاشية
اس آیت میں اللہ تعالى نے زمین کے مسطح ہونے کا تذکرہ فرمایا ہے
أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا الرعد ۴۱
أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغَالِبُونَ (44) الأنبیاء
ان آیات میں رب العزت نے زمین کے اطراف میں واقع ہونے والی کمی کا تذکرہ فرمایا ہے اور علم ہیئت والوں کے تضادات کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے ۔
۲) درج ذیل آیات زمین کے ساکن ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔
وَأَلْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ وَأَنْهَارًا وَسُبُلًا لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (15) النحل
وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِهِمْ الأنبیاء ۳۱
۳)اور سورج کا متحرک ہونا بھی قرآن میں مذکور ہے :
وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (38) يس
محترم شیخ، جیسا کہ آپ کے علم میں ہوگا کہ موجودہ دور میں سائنس کی رو سے کچھ حقائق کو بلاشک و شبہ صیح مانا جاتا ہے اور ان پر طبیعات اور ریاضی کے قوانین کی رو سے من و عن ایمان لانے کو ہی عقلمندی گردانا جاتا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے نیٹ پر مطالعہ کے دوران کچھ انفارمیشن ملی جو کہ مسلمہ سائنسی اعتقادات سے مختلف ہی نہیں بلکہ متضاد بھی ہے، میرے آپ سے سوالات ہیں کہ کیا قرآن و حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا فہم سلف و خلف کی رو سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1) زمین موجودہ سائنسی ثبوتوں کے برعکس چپٹی (flat) ہے یا کہ گول یا بیضوی ہے؟
2) زمین ساکن ہے یا متحرک؟ اگر زمین متحرک ہے تو کیا اس کی حرکت محوری حرکت ہے کسی اور قسم کی
3) سائنس کہتی ہے کہ زمین سورج کے گرد چکر لگارہی ہے نیز سائنس کہتی ہے کہ حقیقت میں سورج و طلوع غروب نہیں ہوتا بلکہ زمیں پر اگر ایک جگہ اندھیرا ہے تو دوسری جگہ پر سورج چمک رہا ہوتا ہے اور زمین سورج کے گرد چکر لگا رہی ہے۔۔۔۔ قرآن میں ذوالقرنین کا جو قصہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ طلوع و غروب شمس کی جگہ پر پہنچا ، نیز حدیث میں سورج کا عرش کے نیچے سجدہ کرنے کا ذکر یا قیامت کے قریب سورج کے مغرب سے نکلنے کا ذکر ہے ، میر سوال ہے کہ کیا مسلمہ سائنسی حقائق کے برعکس کیا سورج زمین کے گرد محور گردش ہے؟؟؟؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
۱) اگر کسی مستطیل چیز کو بھی دور سے دیکھا جائے تو وہ بیضوی نظر آتی ہے اور اگر یہ دوری مزید بڑھ جائے تو وہ چیز بالکل گول نظر آنے لگتی ہے
سائنس دانوں کا زمین کے گول یا بیضوی ہونے کا جھگڑا اسی مقدمہ کیوجہ سے ہے
قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ تعالى نے زمین کی شکل کے بارہ میں کچھ یوں صراحت فرمائی ہے
الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا --- البقرۃ
وَهُوَ الَّذِي مَدَّ الْأَرْضَ الرعد ۳
الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا طہ ۵۳
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِسَاطًا (19) نوح
وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ (48) الذاریات
وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا (30) النازعات
ان آیات بینات میں اللہ تبارک وتعالى نے زمین کے بارہ میں بچھونا , بچھانا , پھیلانا کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں ۔
وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ (133) آل عمران
سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ---- الحدید ۲۱
ان آیات بینات میں اللہ تعالى نے زمین کے چوڑائی کا تذکرہ فرمایا ہے ۔
اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ الطلاق ۱۲
اس آیت میں اللہ تعالى نے زمین کو آسمان کی مثل قرار دیا ہے ۔
وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ (20) الغاشية
اس آیت میں اللہ تعالى نے زمین کے مسطح ہونے کا تذکرہ فرمایا ہے
أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا الرعد ۴۱
أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغَالِبُونَ (44) الأنبیاء
ان آیات میں رب العزت نے زمین کے اطراف میں واقع ہونے والی کمی کا تذکرہ فرمایا ہے اور علم ہیئت والوں کے تضادات کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے ۔
۲) درج ذیل آیات زمین کے ساکن ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔
وَأَلْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ وَأَنْهَارًا وَسُبُلًا لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (15) النحل
وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِهِمْ الأنبیاء ۳۱
۳)اور سورج کا متحرک ہونا بھی قرآن میں مذکور ہے :
وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (38) يس
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق