کیا "متروک الحدیث" اور "لیس بشئ" جرح "مفسر" ھیں؟
< جواب >
< جواب >
متروک الحدیث ہونے کا معنى ہوتا ہے متہم بالکذب ہونا!!!
اور یقینا یہ جرح مفسر ہی ہے۔
یہ تیسرے درجہ کی شدید جرح ہے !!!
لیس بشیء یہ چوتھے درجہ کی جرح ہے ۔
یاد رہے کہ جب ابن معین لفظ "لیس بشیء " بولتے ہیں تو اس سے راوی کا قلیل الروایہ ہونا مراد ہوتا ہے ۔یہی بات سخاوی نے شرح الالفیہ میں ابن قطان کے قول سے نقل کی ہے اور فتح کے مقدمہ میں بھی یہی بات مذکور ہے , اور ابن معین کے علاوہ دیگر محدثین کے ہاں کلمہ " لیس بشیء " , "مردود , رد حدیثہ, ضعیف جدا, طرحوہ, لا یکتب حدیثہ, لا تحل الروایۃ عنہ" وغیرہ کے مترادف ہوتا ہے ۔
اور یہ سب سے خفیف شدید جرح ہے , یعنی جن لوگوں کی روایت کو قبول کرنا , بطور استشہاد پیش کرنا حرام ہے ان میں سے یہ ہلکی تیرین جرح والے لوگ ہیں , چونکہ یہ جرح عدالت میں ہے اس بناء پر ان چاروں طبقوں کے رواۃ کی روایات متابعات و شواہد میں بھی نہیں پیش کی جاسکتیں اور نہ ہی انکا کوئی اعتبار کیا جاسکتا ہے۔
اور یقینا یہ جرح مفسر ہی ہے۔
یہ تیسرے درجہ کی شدید جرح ہے !!!
لیس بشیء یہ چوتھے درجہ کی جرح ہے ۔
یاد رہے کہ جب ابن معین لفظ "لیس بشیء " بولتے ہیں تو اس سے راوی کا قلیل الروایہ ہونا مراد ہوتا ہے ۔یہی بات سخاوی نے شرح الالفیہ میں ابن قطان کے قول سے نقل کی ہے اور فتح کے مقدمہ میں بھی یہی بات مذکور ہے , اور ابن معین کے علاوہ دیگر محدثین کے ہاں کلمہ " لیس بشیء " , "مردود , رد حدیثہ, ضعیف جدا, طرحوہ, لا یکتب حدیثہ, لا تحل الروایۃ عنہ" وغیرہ کے مترادف ہوتا ہے ۔
اور یہ سب سے خفیف شدید جرح ہے , یعنی جن لوگوں کی روایت کو قبول کرنا , بطور استشہاد پیش کرنا حرام ہے ان میں سے یہ ہلکی تیرین جرح والے لوگ ہیں , چونکہ یہ جرح عدالت میں ہے اس بناء پر ان چاروں طبقوں کے رواۃ کی روایات متابعات و شواہد میں بھی نہیں پیش کی جاسکتیں اور نہ ہی انکا کوئی اعتبار کیا جاسکتا ہے۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق