العباس بن الفرج، کو جیسا آپ نے فرمایا، ابو
داود السجستانی، امام بخاری اور امام مسلم وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ھے، بلکل
صحیح ھے، لیکن پھر، اسے اتنے بڑے بڑے جرح والتعدیل کے ائمہ، جیسے حافظ ابن
حجر، حافظ زھبی، اور خطیب بغدادی نے ثقہ کیوں قرار دیا؟، اخر انھوں نے بھی
تو یہ کسی جارح والتعدیل کے امام سے ھی نقل کیا ھو گا نا۔ اس بارے آپ کیا
فرماتے ھیں۔
< جواب >
ابو الفضل العباس بن الفرج الریاشی البصری النحوی کو
ابو حاتم بن حبان البستی نے ثقات میں ذکر کرکے مستقیم الحدیث کہا ہے۔
ابو سعید السمعانی , ابن حجر , خطیب بغدادی اور ذہبی نے ثقہ کہا ہے۔
لیکن انکے علاوہ تمام تر محدثین ناقدین اسے سخت ضعیف قرار دیتے ہیں۔
ابو حاتم بن حبان البستی نے ثقات میں ذکر کرکے مستقیم الحدیث کہا ہے۔
ابو سعید السمعانی , ابن حجر , خطیب بغدادی اور ذہبی نے ثقہ کہا ہے۔
لیکن انکے علاوہ تمام تر محدثین ناقدین اسے سخت ضعیف قرار دیتے ہیں۔
مثلا :
۱۔ ابو داود
السجستانی فرماتے ہیں : لیس بشیء
۲۔ أبو زرعہ الرازی فرماتے ہیں : منکر الحدیث اور ایک جگہ فرماتے ہیں : لا یصدق
۳۔ احمد بن شعیب النسائی فرماتے ہیں : متروک الحدیث
۴۔ امام بخاری رحمہ اللہ الباری فرماتے ہیں : منکر الحدیث
۵۔ امام دارقطنی نے اس کا ذکر الضعفاء والمتروکین میں کیا ہے ۔
۶۔ مسلم بن الحجاج النیسابوری فرماتے ہیں : منکر الحدیث
تفصیلی ترجمہ کے لیے ان کتب کو ملاحظہ فرمائیں :
أخبار النحويين البصريين للسيرافي 89- 93، وإشارة التعيين الورقة 23، والأنساب 264 ب، وبغية الوعاة 275- 276، وتاريخ ابن الأثير 5: 364، وتاريخ بغداد 12: 138- 140، وتاريخ أبى الفدا 2: 48، وتاريخ ابن كثير 11: 29- 30، وتلخيص ابن مكتوم 178، وابن خلكان 1: 246، وشذرات الذهب 2: 136، وطبقات الزبيدىّ 67- 69، وطبقات ابن قاضى شهبة 2: 14- 15، والفلاكة والمفلوكين 116، والفهرست 58، واللباب فى الأنساب 1: 484، ومعجم الأدباء 12: 44- 46، والمنتظم (وفيات سنة 257) ، والنجوم الزاهرة 3: 27- 28، ونزهة الألباء 262- 264.
اور یہ بات مسلمہ ہے کہ جمہور کا قول ہمیشہ معتبر ہوتا ہے۔ بالخصوص جب وہ اسکے ہم عصر یا قریب العصر ہوں۔
اور جس طرح ثقہ راوی روایت بیان کرنے میں اوثق یا ثقات کی مخالفت کرے تو اسکی روایت شاذ قرار دے کر رد کر دی جاتی ہے بعینہ جرح وتعدیل کے معاملہ میں بھی یہ اصول کار فرما ہے۔
رہا یہ سوال کہ اسے ثقہ قرار دینے والوں نے ثقہ کیوں قرار دیا ہے تو اسکا صحیح جواب تو وہ خود ہی دے سکتے ہیں۔
ہمارا اندازہ ہی ہوسکتاہے اور وہ غلط بھی ہوسکتا ہے اور درست بھی ۔ لہذا اسکا کوئی فائدہ نہیں۔
۲۔ أبو زرعہ الرازی فرماتے ہیں : منکر الحدیث اور ایک جگہ فرماتے ہیں : لا یصدق
۳۔ احمد بن شعیب النسائی فرماتے ہیں : متروک الحدیث
۴۔ امام بخاری رحمہ اللہ الباری فرماتے ہیں : منکر الحدیث
۵۔ امام دارقطنی نے اس کا ذکر الضعفاء والمتروکین میں کیا ہے ۔
۶۔ مسلم بن الحجاج النیسابوری فرماتے ہیں : منکر الحدیث
تفصیلی ترجمہ کے لیے ان کتب کو ملاحظہ فرمائیں :
أخبار النحويين البصريين للسيرافي 89- 93، وإشارة التعيين الورقة 23، والأنساب 264 ب، وبغية الوعاة 275- 276، وتاريخ ابن الأثير 5: 364، وتاريخ بغداد 12: 138- 140، وتاريخ أبى الفدا 2: 48، وتاريخ ابن كثير 11: 29- 30، وتلخيص ابن مكتوم 178، وابن خلكان 1: 246، وشذرات الذهب 2: 136، وطبقات الزبيدىّ 67- 69، وطبقات ابن قاضى شهبة 2: 14- 15، والفلاكة والمفلوكين 116، والفهرست 58، واللباب فى الأنساب 1: 484، ومعجم الأدباء 12: 44- 46، والمنتظم (وفيات سنة 257) ، والنجوم الزاهرة 3: 27- 28، ونزهة الألباء 262- 264.
اور یہ بات مسلمہ ہے کہ جمہور کا قول ہمیشہ معتبر ہوتا ہے۔ بالخصوص جب وہ اسکے ہم عصر یا قریب العصر ہوں۔
اور جس طرح ثقہ راوی روایت بیان کرنے میں اوثق یا ثقات کی مخالفت کرے تو اسکی روایت شاذ قرار دے کر رد کر دی جاتی ہے بعینہ جرح وتعدیل کے معاملہ میں بھی یہ اصول کار فرما ہے۔
رہا یہ سوال کہ اسے ثقہ قرار دینے والوں نے ثقہ کیوں قرار دیا ہے تو اسکا صحیح جواب تو وہ خود ہی دے سکتے ہیں۔
ہمارا اندازہ ہی ہوسکتاہے اور وہ غلط بھی ہوسکتا ہے اور درست بھی ۔ لہذا اسکا کوئی فائدہ نہیں۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق