• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الخميس، أبريل 12

جو شخص نہ اجتہاد کر سکتا ہو نہ تقليد کرے، وہ دين پر عمل کيسے کرے

جو شخص نہ اجتہاد کر سکتا ہو نہ تقليد کرے، وہ دين پر عمل کيسے کرے؟ اگر کسي عالم سے بلا دليل پوچھے گا تو تقليد کي تعريف کے مطابق يہ بھي تو مقلد ہي کہلائے گا۔ کتاب و سنت کي روشني ميں مدلل جواب عنايت فرمائيں 


< جواب >

تقليد کي تعريف ہے قبول قول ينافي الکتاب والسنۃ

کتاب وسنت کے خلاف کسي کي بات کو ماننا
اور اجتہاد کتاب وسنت سے احکامات کي بحث وتلاش کو کہتے ہيں
تو جب ايک شخص کسي بھي عالم دين سے کوئي مسئلہ کتاب وسنت کي روشني ميں پوچھے تو وہ عالم دين کتاب وسنت کي دليل ذکر کيے بغير مسئلہ بتا دے تو سائل اس صورت ميں بھي مجتہد ہي ہو گا کيونکہ اس نے کتاب وسنت سے مسئلہ کو تلاش کيا ہے 
جبکہ مقلد تو کتاب وسنت سے مسئلہ نہيں دريافت کرتا بلکہ وہ تو امام کے قول کو مانتا ہے جو کتاب وسنت کے خلاف ہو
اسکي مثال يہاں ملاحظہ فرمائيں ۔
اور ياد رہے کہ ہر ذي شعور انسان مجتہد ہي ہوتا ہے إلا کہ وہ تقليد کا پٹہ خود اپنے گلے ميں ڈال لے 
اور علماء سے سوال کرنے کا حکم تو اللہ نے ديا ہے :
فاسئلوا اہل الذکر إن کنتم لا تعلمون
اگر تم نہيں جانتے تو جاننے والوں سے پوچھ لو ۔

author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق