شیخ صاحب،
کیاقنوت وتر میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ثابت ہے؟
کیا روزانہ وتر میں دعا کرنا ثابت ہے؟
کیا قنوت نازلہ اور قنوت وتر دو الگ الگ چیزیں ہیں یا ایک ہی کے دو نام ہے؟
جزاک اللہ خیرا
< جواب >
۱۔ قنوت وتر میں ہاتھ اٹھا کر دعاء کرنا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں !
۲۔ جی ہاں ثابت ہے ( سنن أبی داود کتاب الصلاۃ باب القنوت فی الوتر ح ۱۴۲۵)
۳۔ دنوں الگ الگ ہیں , قنوت وتر نماز وتر کا حصہ ہے جبکہ قنوت نازلہ کسی بھی نماز کا حصہ نہیں بلکہ ایک اضافی چیز ہے جسے " نوازل " کے پیش نظر نماز میں شامل کیا جاتا ہے
قنوت نازلہ میں علت " نوازل" یعنی پیش آمدہ حالات ہیں اور قنوت وتر میں علت نوازل نہیں بلکہ وہ نماز کا حصہ ہے ۔
لہذا قنوت وتر کو قنوت نازلہ پر قیاس کرنا بھی جائز نہیں !
کیونکہ
قیاس صحیح کے لیے مقیس اور مقیس علیہ کے درمیان علت کا مشترک ہونا ضروری ہے جو کہ بدیہیہ یا منصوص علیہا ہو ۔
۲۔ جی ہاں ثابت ہے ( سنن أبی داود کتاب الصلاۃ باب القنوت فی الوتر ح ۱۴۲۵)
۳۔ دنوں الگ الگ ہیں , قنوت وتر نماز وتر کا حصہ ہے جبکہ قنوت نازلہ کسی بھی نماز کا حصہ نہیں بلکہ ایک اضافی چیز ہے جسے " نوازل " کے پیش نظر نماز میں شامل کیا جاتا ہے
قنوت نازلہ میں علت " نوازل" یعنی پیش آمدہ حالات ہیں اور قنوت وتر میں علت نوازل نہیں بلکہ وہ نماز کا حصہ ہے ۔
لہذا قنوت وتر کو قنوت نازلہ پر قیاس کرنا بھی جائز نہیں !
کیونکہ
قیاس صحیح کے لیے مقیس اور مقیس علیہ کے درمیان علت کا مشترک ہونا ضروری ہے جو کہ بدیہیہ یا منصوص علیہا ہو ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق