حیح بخاری کی جس حدیث میں ( گیارہ رکعت ) قیامُ لیل کا ذکر ہے وہ تراویح کی ہی نماز ہے ، اس کی کیا دلیل ہے ؟
نیز قیامُ لیل ، تراویح ، اور وتر کو حدیث کی رو سے الگ الگ کیسے شناخت یا بیان کرینگے وضاحت کریں ؟
< جواب >
قیام اللیل , قیام رمضان , صلاۃ الوتر , صلاۃ التراویح , صلاۃ التہجد ایک ہی نماز کے مختلف نام ہیں مختلف اعتبارات سے ۔
رات کے ساتھ خاص ہونے کی بناء پر اسکا نام قیام اللیل ہے
رمضان میں اسکا اہتمام وہ لوگ بھی کرتے ہیں جو سال بھر نہیں کرتے اس لیے اسے قیام رمضان بھی کہا جاتا ہے
یہ نماز رکعت وتر پر مشتمل ہوتی ہے لہذا اسے صلاۃ وتر بھی کہا جاتا ہے
اس نماز میں قیام طویل ہوتا ہے اور نماز طویل قیام میں پاؤں تھکنے کی بناء پر کبھی ایک پاؤں پر وزن ڈال کر دوسرے کو راحت دیتے ہیں تو کبھی پہلے کو راحت دینے کے لیے دوسرے پر وزن ڈالتے ہیں اس " تراوح بین القدمین " کی نسبت سے اسے نماز تراویح بھی کہا جاتا ہے ۔
اللہ تعالى نے قرآن میں اسکا نام تہجد بھی رکھا ہے " ومن اللیل فتہجد بہ "
اس مقدمہ کو سمجھنے کے بعد آپکے دونوں سوال حل ہو جاتے ہیں ۔
رات کے ساتھ خاص ہونے کی بناء پر اسکا نام قیام اللیل ہے
رمضان میں اسکا اہتمام وہ لوگ بھی کرتے ہیں جو سال بھر نہیں کرتے اس لیے اسے قیام رمضان بھی کہا جاتا ہے
یہ نماز رکعت وتر پر مشتمل ہوتی ہے لہذا اسے صلاۃ وتر بھی کہا جاتا ہے
اس نماز میں قیام طویل ہوتا ہے اور نماز طویل قیام میں پاؤں تھکنے کی بناء پر کبھی ایک پاؤں پر وزن ڈال کر دوسرے کو راحت دیتے ہیں تو کبھی پہلے کو راحت دینے کے لیے دوسرے پر وزن ڈالتے ہیں اس " تراوح بین القدمین " کی نسبت سے اسے نماز تراویح بھی کہا جاتا ہے ۔
اللہ تعالى نے قرآن میں اسکا نام تہجد بھی رکھا ہے " ومن اللیل فتہجد بہ "
اس مقدمہ کو سمجھنے کے بعد آپکے دونوں سوال حل ہو جاتے ہیں ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق