• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الجمعة، أبريل 13

قضا نماز کب ادا کي جا سکتي ہے

1۔قضا نماز کب ادا کي جا سکتي ہے 2۔کيا فجر اور عصر کے بعد بھي. 




< جواب >

بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله أما بعد !
1۔جب ياد آئے يا بيدار ہو
رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کا فرمان ہے :
إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا
نيند ميں کوئي کوتاہي نہيں ہے کوتاہي بيداري ميں ہے (يعني حالت نيند ميں اگر نماز کا وقت گزر جائے تو کوئي گناہ نہيں ليکن اگر جاگتے ہوئے نماز کو قضاء کر ديتا ہے تو اس ميں گناہ ہے ) لہذا جب تم ميں سے کوئي شخص نماز پڑھنا بھول جائے يا سويا رہ جائے تو جب اسے ياد آئے وہ نماز ادا کرے ۔
جامع الترمذي ابواب الصلاۃ باب ماجاء في النوم عن الصلاۃ ح 177
2۔ جي ہاں فجر اور عصر کے بعد بھي نمازوں کي قضاء دي جاسکتي ہے ۔
اس موضوع پر تفصيلات کو جاننے کے ليے يہ درس ضرور سماعت فرمائيں :

author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق