کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جس مسلمان شخص کا رمضان میں انتقال ہوجائے اس پر قیامت تک عذاب قبر نہیں ہوتا
چنانچہ ایک جگہ کچھ اس طرح کی عبارت دیکھی :
"کافر سے صرف رمضان تک عذاب قبر مرتفع ہوتا ہے اور مسلمان عاصی کوقیامت تک امن ہوجاتا ہے، غیررمضان میں مرنے والوں کا بھی یہی حکم ہے کہ کافر کوجمعہ کے دن اور رمضان میں عذاب نہیں ہوتا اور عاصی مؤمن پرجب روز جمعہ یارمضان آتا ہے تواس سے قیامت تک عذاب مرتفع ہوجاتا ہے۔"
جبکہ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا مقتولین بدر کو خطاب اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ رمضان بھی عذاب قبر ہوتا ہے ۔
چنانچہ ایک جگہ کچھ اس طرح کی عبارت دیکھی :
"کافر سے صرف رمضان تک عذاب قبر مرتفع ہوتا ہے اور مسلمان عاصی کوقیامت تک امن ہوجاتا ہے، غیررمضان میں مرنے والوں کا بھی یہی حکم ہے کہ کافر کوجمعہ کے دن اور رمضان میں عذاب نہیں ہوتا اور عاصی مؤمن پرجب روز جمعہ یارمضان آتا ہے تواس سے قیامت تک عذاب مرتفع ہوجاتا ہے۔"
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
اس قسم کی کوئی صحیح روایت ہمارے علم میں نہیں !جبکہ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا مقتولین بدر کو خطاب اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ رمضان بھی عذاب قبر ہوتا ہے ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق