• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأحد، أبريل 22

کیا بیٹے کی موجودگی میں پوتا وراث ہوگا؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
گزارش ہے کہ اگرایک آدمی فوت ہوجاتاہے۔اوروہ اپنے پیچھے ایک بیٹا اورپوتاچھوڑجاتا ہے۔جبکہ دوسرے بیٹے کی وفات اسکی زندگی میں ہی ہوگئی تھی کیااب وہ پوتااپنے داداکی جائیداد کی وارث بن سکتاہے ؟
قرآن وحدیث کے مطابق وضاحت فرمائیں۔


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  
نہیں! میت کے بیٹے کی موجودگی میں پوتا وارث نہیں بن سکتا ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ
جن لوگوں کے حصص کتاب اللہ میں مقرر ہیں انہیں انکے حصے دینے کے بعد جو مال باقی بچے وہ قریب ترین مرد رشتہ دار کے لیے ہے ۔
صحیح بخاری کتاب الفرائض باب میراث الولد من أبیہ وأمہ ح ۶۷۳۲
اور میت کا بیٹا میت کے پوتے کی نسبت میت کے زیادہ قریب ہے ۔
ہاں اس صورت میں پوتے کے لیے وصیت کی جاسکتی ہے ۔
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق