• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأربعاء، أبريل 25

ساتواں سے متعلق سفیان ثوری کا قول ؟!

السلام علیکم،

ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے لیکچر میں سفیان الثوری رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے اسکی حقیقت درکار ہے۔


  کتاب کا نام ولیہ۔{حلیۃ الاولیاء جلد 4 صفحہ 11

  جب کوئ فوت ہوتا ہے 7 دن قبر میں اس کی بڑی آزماش ہوتی ہے، صاحبہ تابعین اس زمانے کہ پہلے لوگ مستحب سمجتے تھے 7 دن تک ان کے نام سے کھانے پکاکر ایصال ثواب کرتے تھے

اپکے علمی اور مدلل جواب کا انتظار رہیگا۔


الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اس روایت کو أبو نعيم أحمد بن عبد الله بن أحمد بن إسحاق بن موسى بن مهران الأصبهاني (المتوفى: 430هـ) نے اپنی کتاب حلية الأولياء وطبقات الأصفياء ج ۴ ص ۱۱ میں بایں طور ذکر کیا ہے :

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مَالِكٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ طَاوُسٌ: «إِنَّ الْمَوْتَى يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ سَبْعًا، فَكَانُوا يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يُطْعَمَ عَنْهُمْ تِلْكَ الْأَيَّامِ»


اولا :
اس روایت سے واضح ہو رہا ہے کہ یہ قول سفیان ثوری کا نہیں بلکہ طاؤس کا ہے ۔
ثانیا :
سند بھی ضعیف ہے ۔ کیونکہ سفیان ثوری مدلس راوی ہیں اور وہ "قال طاؤس" کہہ کر بیان کر رہے ہیں ۔ اور اصول ہے کہ مدلس راوی جب تک تحدیث وسماع کی صراحت نہ کرے اسکی روایت مردود ہوتی ہے ۔
ثالثا :
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال وافعال دین میں حجت نہیں تو تابعین وتبع تابعین کے اقوال بطریق اولى حجت نہیں ہیں ۔ لہذا انہیں دین میں دلیل نہیں بنایا جا سکتا ۔
 
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق