آپ نے بتایا کہ:۔ عقیقہ کرنا فرض ہے ۔ کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ
وسلم نے ہر بچہ کو عقیقہ کے عوض گروی قرار دیا ہے (صحیح بخاری ح ۵۴۷۲) اور
آپ صلى اللہ علیہ
جب کہ شیخ زبیر علی زئی کی کتاب فتاوی علمیہ میں درج ہے کہ فرض نہیں سنت ہے؟
محدث وقت حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ ومتعنا بطول حیاتہ کا اجتہادی سہو ہے ۔ کیونکہ ہمارے علم کے مطابق کلمہ " مرتہن" بھی وجوب پر دلالت کرتا ہے اور " أھریقوا عنہ الدم " بھی وجوب پر دلالت کرتا ہے ۔ اور قرینہ صارفہ ہمارے علم میں نہیں جو اسکے وجوب کو استحباب میں بدل دے ۔
جب کہ شیخ زبیر علی زئی کی کتاب فتاوی علمیہ میں درج ہے کہ فرض نہیں سنت ہے؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
محدث وقت حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ ومتعنا بطول حیاتہ کا اجتہادی سہو ہے ۔ کیونکہ ہمارے علم کے مطابق کلمہ " مرتہن" بھی وجوب پر دلالت کرتا ہے اور " أھریقوا عنہ الدم " بھی وجوب پر دلالت کرتا ہے ۔ اور قرینہ صارفہ ہمارے علم میں نہیں جو اسکے وجوب کو استحباب میں بدل دے ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق