روایت کی تحقیق مطلوب ہے :
حدیث: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَاقَعَدَ قَوْمٌ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرُوا اَللَّهَ، وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى اَلنَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيه وسَلَّم إِلَّاكَانَ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً يَوْمَ اَلْقِيَامَةِ وَإِنْ دَخَلُوا الْجَنَّةَ لِلثَّوَاب
(البدورالسافرہ:۲۱۹۳۔ مسنداحمد:۲/۴۶۳)
ترجمہ:جوقوم کسی مجلس میں بیٹھتی ہے؛ لیکن اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتی اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پردرود شریف نہیں بھیجتی تویہ (مجلس) قیامت کے دن ان پرحسرت کا باعث ہوگی (کہ ہائے اگراس مجلس میں ذکر یادرود شریف پڑھتے توآج اس کا بھی انعام ملتا) اور اگروہ جنت میں داخل ہوجائیں گے تو (اس کے ثواب پانے کی حسرت کریں گے)۔
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
حدیث: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَاقَعَدَ قَوْمٌ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرُوا اَللَّهَ، وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى اَلنَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيه وسَلَّم إِلَّاكَانَ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً يَوْمَ اَلْقِيَامَةِ وَإِنْ دَخَلُوا الْجَنَّةَ لِلثَّوَاب
(البدورالسافرہ:۲۱۹۳۔ مسنداحمد:۲/۴۶۳)
ترجمہ:جوقوم کسی مجلس میں بیٹھتی ہے؛ لیکن اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتی اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پردرود شریف نہیں بھیجتی تویہ (مجلس) قیامت کے دن ان پرحسرت کا باعث ہوگی (کہ ہائے اگراس مجلس میں ذکر یادرود شریف پڑھتے توآج اس کا بھی انعام ملتا) اور اگروہ جنت میں داخل ہوجائیں گے تو (اس کے ثواب پانے کی حسرت کریں گے)۔
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
اس روایت کو امام أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ) نے اپنی کتاب المسند ج 16ص 43ح 9965(ط. الرسالۃ) میں بایں طور نقل فرمایا ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا قَعَدَ قَوْمٌ مَقْعَدًا لَا يَذْكُرُونَ فِيهِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَيُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنْ دَخَلُوا الْجَنَّةَ لِلثَّوَابِ» اسکی سند میں سلیمان بن مہران الأعمش مدلس ہے اور عن سے روایت کر رہا ہے لہذا یہ سند ضعیف ہے ۔ اسی طرح اس روایت کو محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي (المتوفى: 354هـ) نے اپنی کتاب صحيح ابن حبان بترتيب ابن بلبان ج ۲ ص ۳۵۲ (۵۹۱)[ط. باوزیر ۵۹۰] میں بایں طور نقل کیا ہے : أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ الْفَرْغَانِيُّ بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَا قَعَدَ قَوْمٌ مَقْعَدًا لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فِيهِ وَيُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنْ أُدْخِلُوا الْجَنَّةَ لِلثَّوَابِ». اور یہ سند بھی اعمش کی تدلیس کی بناء پر ضعیف ہی ہے ! تنبیہ بلیغ : یہ روایت آپنے آخری الفاظ "وَإِنْ دَخَلُوا الْجَنَّةَ لِلثَّوَابِ" یا "وَإِنْ أُدْخِلُوا الْجَنَّةَ لِلثَّوَابِ" کے بغیر بسند صحیح ثابت ہے |
|
|
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق