• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأربعاء، مايو 16

کیا انسان دوسرے انسان کو اپنا خون دے سکتا ہے ؟

کیا انسان دوسرے انسان کو اپنا خون دے سکتا ہے ؟ 
 
 الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
بہنے والے خون کو اللہ تعالى نے حرام قرار دیا ہے ۔ البتہ حالت اضطرار میں اسے مباح رکھا ہے ۔
قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (145 الأنعام)
اور اضطرار کا معنى ہے کہ اسکے بغیر موت یقینی ہو اور اسکے علاوہ اور کوئی راستہ بھی نہ ہو ۔
لہذا انسانی خون سے کسی بھی قسم کا فائدہ حاصل کرنا حرام ہے ۔
ہاں اگر کوئی انسان مضطر ہو جائے اور انسانی خون کے استعمال کے سوا کوئی اور چارہ نہ ہو اور امانت دار مؤمن طبیب اس بات کا فیصلہ کریں کہ اگر اس مریض کو خون لگا دیا جائے تو اسکی جان بچ سکتی اور اگر اسے خون نہ لگایا گیا تو اسکی موت یقینی ہے تو اس صورت میں صرف اسقدر خون لگانا یا دینا جائز ہوگا جس سے اسکی جان بچ جائے اس سے زائد بہر حال حرام ہی ہوگا ۔
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق