جو شخص فن حدیث میں مجتہد نہ ہو ، وہ کیا کرے ؟؟؟
ہر مؤمن شخص مجتہد ہی ہوتا ہے ۔ گوکہ دائرہ اجتہاد ہر کسی کا مختلف ہوتا ہے ۔
علمائے دین میں سے وہ لوگ جو فن حدیث میں متخصص ہیں انکا دائرہ اجتہاد کچھ اور ہوتا ہے اور جو علماء اس فن میں متخصص نہیں ہیں انکا دائرہ اجتہاد اور ہوتا ہے اسی طرح ایک عامی کا دائرہ اجتہاد قدرے مختلف ہوتا ہے ۔
عامی آدمی علماء سے صحت وضعف اور وجہ ضعف دریافت کرے گا اور پھر اسکے مطابق عمل کرے گا ۔ جبکہ عالم صحت وضعف کو پرکھنے کے لیے کتب فن کی طرف مراجعت کرے گا ۔
عامی کا عالم سے صحت وضعف اور وجہ ضعف کے بارہ میں دریافت کرنا اور پھر جس روایت کی صحت وضعف میں اختلاف ہے دونوں طرف سے دلائل پوچھ کر اپنے دل کو کسی ایک بات پر مطمئن کر لینا اسکا اجتہاد کہلائے گا
اور عالم کا کتب فن سے مراجعت کرکے صحت وسقم کو پرکھنا اسکا اجتہاد ہوگا ۔
یعنی عامی جب اجتہاد کرتا ہے تو علمائے کرام سے دلائل اخذ کرتا ہے اور جب عالم اجتہاد کرتا ہے تو وہ جہابذہ فن سے دلائل اخذ کرتا ہے ۔ بس اتنا سا فرق ہے عامی اور متخصص کے مابین ۔ اور جسطرح عامی کے اجتہاد کا نتیجہ محتمل الخطأ ہوگا اسی طرح متخصص کے اجتہاد کا نتیجہ بھی محتمل الخطأ ہی ہوگا ۔ گوکہ متخصص کا اجتہاد عامی کے اجتہاد کی نسبت زیادہ وزنی اور معتبر ہوگا ۔
پھر اسی طرح ایک عامی شخص کسی متخصص کے فیصلہ کو حرف آخر تسلیم کرنا شروع کر دے تو یہ بھی اجتہاد کے بعد ہی ممکن ہے ۔ کہ اس عامی نے بہت سے متخصصین کے اسلوب تحقیق واجتہاد کو پایا اور ان میں سے ایک شخص کے اسلوب تحقیق و اجتہاد کو اپنے ذہن پر زور دے کر اجتہاد کرتے ہوئے بہتر اور زیادہ مضبوط قرار دیا ۔ یعنی اس ایک ماہر فن کو دیگر علماء پر ترجیح دینا بھی بدون اجتہاد ممکن نہیں ہے ۔
خوب سمجھ لیں !
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
ہر مؤمن شخص مجتہد ہی ہوتا ہے ۔ گوکہ دائرہ اجتہاد ہر کسی کا مختلف ہوتا ہے ۔
علمائے دین میں سے وہ لوگ جو فن حدیث میں متخصص ہیں انکا دائرہ اجتہاد کچھ اور ہوتا ہے اور جو علماء اس فن میں متخصص نہیں ہیں انکا دائرہ اجتہاد اور ہوتا ہے اسی طرح ایک عامی کا دائرہ اجتہاد قدرے مختلف ہوتا ہے ۔
عامی آدمی علماء سے صحت وضعف اور وجہ ضعف دریافت کرے گا اور پھر اسکے مطابق عمل کرے گا ۔ جبکہ عالم صحت وضعف کو پرکھنے کے لیے کتب فن کی طرف مراجعت کرے گا ۔
عامی کا عالم سے صحت وضعف اور وجہ ضعف کے بارہ میں دریافت کرنا اور پھر جس روایت کی صحت وضعف میں اختلاف ہے دونوں طرف سے دلائل پوچھ کر اپنے دل کو کسی ایک بات پر مطمئن کر لینا اسکا اجتہاد کہلائے گا
اور عالم کا کتب فن سے مراجعت کرکے صحت وسقم کو پرکھنا اسکا اجتہاد ہوگا ۔
یعنی عامی جب اجتہاد کرتا ہے تو علمائے کرام سے دلائل اخذ کرتا ہے اور جب عالم اجتہاد کرتا ہے تو وہ جہابذہ فن سے دلائل اخذ کرتا ہے ۔ بس اتنا سا فرق ہے عامی اور متخصص کے مابین ۔ اور جسطرح عامی کے اجتہاد کا نتیجہ محتمل الخطأ ہوگا اسی طرح متخصص کے اجتہاد کا نتیجہ بھی محتمل الخطأ ہی ہوگا ۔ گوکہ متخصص کا اجتہاد عامی کے اجتہاد کی نسبت زیادہ وزنی اور معتبر ہوگا ۔
پھر اسی طرح ایک عامی شخص کسی متخصص کے فیصلہ کو حرف آخر تسلیم کرنا شروع کر دے تو یہ بھی اجتہاد کے بعد ہی ممکن ہے ۔ کہ اس عامی نے بہت سے متخصصین کے اسلوب تحقیق واجتہاد کو پایا اور ان میں سے ایک شخص کے اسلوب تحقیق و اجتہاد کو اپنے ذہن پر زور دے کر اجتہاد کرتے ہوئے بہتر اور زیادہ مضبوط قرار دیا ۔ یعنی اس ایک ماہر فن کو دیگر علماء پر ترجیح دینا بھی بدون اجتہاد ممکن نہیں ہے ۔
خوب سمجھ لیں !
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق