• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الأربعاء، مايو 23

ملازم کا ٹپ وصول کرنا جائزہے یا نہیں ؟؟؟

میں جہاں کام کرتا ہوں وہاں میرے پاس بہت سے کسٹمر آتے ہیں-
جنکے چھوٹے چھوٹے تعدیلات ہوتے ہیں۔جب میں انکا کام کردیتا ہوں تو وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ اسکے کتنے پیسے۔
لیکن میرا انجینئر جس سے پیسے لینا ہے اسکا ذکر میرے سے کر دیتا ہے۔اور جس سے نہیں لینا ہے اسکے بارے میں مجھ سے کچھ نہیں کہتا۔
جب کسٹمر آتے ہیں اور مجھ سے اسکے پیسے پوچھتے ہیں۔تو میں کہتا ہوں کہ یہ فری ہے ایسے ہی اور جب وہ اسرار کرتے ہیں تو میں کہتا ہوں اب آپکی مرضی تو وہ اپنی طرف سے کچھ پیسے دیتے ہیں۔تو سوال یہ ہے کہ کیا ایسا پیسا میرے لئے لینا حلال رہیگا یا حرام؟برائے مہربانی اسکا جواب دیں تاکہ میرے پیٹ میں حرام لقمہ نہ جائے۔

 الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
یہ ٹپ  ہو یا اجرت کچھ بھی ہو لینا درست نہیں
مالک کی بھی نافرمانی ہے اور اللہ کی بھی 
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا ایک عامل جب زکاۃ کا مال جمع کرکے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع کروانے آیا تو کہنے لگا کہ یہ زکاۃ کا مال ہے جولوگوں نے دیا ہے اور کچھ تحائف ہیں جو لوگوں نے مجھے دیے ہیں تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اپنی ماں کے گھر بیٹھا رہتا تو پھر ہم دیکھتے کہ کون اسے تحائف دیتا ہے ۔" نیز فرمایا عاملین کے تحائف خیانت ہیں !
 صحیح بخاری کتاب الہبۃ وفضلہا والتحریض علیہا باب من لم یقبل الہدیۃ لعلۃ ح ۲۵۹۷ صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب تحریم ہدایا العمال ح ۱۸۳۲

author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق