السلام علیکم
کیا، روزِ قیامت ہر ایک کو اس کی ماں کے نام سے پکارا جائے گا؟؟؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نہیں !
بلکہ باپ کے نام سے پکارا جائے گا ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
إِنَّ الْغَادِرَ يُرْفَعُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ
صحیح بخاری کتاب الأدب باب ما یدعى الناس بآبائہم ح 6177
غدر کرنیوالے کے لیے قیامت کے دن جھنڈا گاڑھ دیا جائے , کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کا غدر ہے ۔
اس حدیث میں لفظ " فلاں بن فلاں " استعمال ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دن باپ کے نام سے پکارا جائے گا ۔ کیونکہ اگر ماں کے نام سے پکارا جانا ہوتا تو لفظ یوں ہوتا " فلان بن فلانۃ "
خوب سمجھ لیں !
کیا، روزِ قیامت ہر ایک کو اس کی ماں کے نام سے پکارا جائے گا؟؟؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نہیں !
بلکہ باپ کے نام سے پکارا جائے گا ۔
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
إِنَّ الْغَادِرَ يُرْفَعُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ
صحیح بخاری کتاب الأدب باب ما یدعى الناس بآبائہم ح 6177
غدر کرنیوالے کے لیے قیامت کے دن جھنڈا گاڑھ دیا جائے , کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کا غدر ہے ۔
اس حدیث میں لفظ " فلاں بن فلاں " استعمال ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دن باپ کے نام سے پکارا جائے گا ۔ کیونکہ اگر ماں کے نام سے پکارا جانا ہوتا تو لفظ یوں ہوتا " فلان بن فلانۃ "
خوب سمجھ لیں !
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق