سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارہ میں
ایک ایک بچی کا والد اسکا نکاح ایسے شخص سے کرنا چاہتا ہے جسکا عقیدہ درست نہیں ہے
اور اسکا ذریعہ آمدن حجامت ہے ۔ اور یہ نکاح بھی وٹہ سٹہ کی صورت میں ہوگا ۔ جبکہ
وہ بچی اس نکاح کو ناپسند کر رہی ہے ۔ کیا ایسی صورت میں یہ شادی جائز ودرست ہوگی
؟
الجواب
بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
اللہ رب العالمین قرآن مجید فرقان حمید میں زوجین کو ایک
دوسرے کے لیے باعث سکون قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے :
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ
مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا (الأعراف :189)
لیکن اگر زوجین میں باہمی الفت ومحبت ختم ہو جائے اور
نفرتوں اور کدورتوں فصل پکنے لگے تو اللہ تعالى نے مرد کو طلاق کا اختیار دیا ہے
اور بیوی کو خلع کا حق دیا ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی شرعی طریقہ کار کو
اختیار کرتے ہوئے اپنی زندگی کو اجیرن بننے سے بچانے کے لیے اس بے مزہ نکاح کے
بندھن سے آزاد ہو جائے اور کوئی دوسرا مناسب رفیق زندگی تلاش کرے ۔ تاکہ نکاح کے
مقاصد میں اسے ایک اہم مقصد " لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا" پورا ہو جائے ۔
اور جب نکاح سے قبل ہی فریقین دونوں یا ان میں سے کوئی ایک
دوسرے کو نہ چاہتا ہو یا دوسرے کی نفرت دل میں گھر کر چکی ہو تو شریعت اسلامیہ اس
نکاح کا منعقد ہونا ہی حرام ٹھہراتی ہے ۔ اسی بناء پر اسلام نے نکاح کی صحت کے لیے
فریقین یعنی مرد وعورت کی رضامندی کو شرط لازم قرار دیا ہے ۔ رسول اللہ صلى اللہ
علیہ وسلم اس سلسلہ میں فرماتے ہیں : لَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ وَلَا
الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ کنواری لڑکی سے اجازت لیے بغیر اور شوہر دیدہ
عورت سے مشورہ کیے بغیر انکا نکاح نہ کیا
جائے ۔ [صحیح
بخاری کتاب الحیل باب فی النکاح (6968)]
یعنی جسطرح عورت کے نکاح کے لیے رب العالمین نے ولی کی
رضامندی کو لازم قرار دیا ہے کہ کوئی عورت اپنی مرضی سے اپنا نکاح نہیں کرسکتی اسی
طرح اولیاء کو بھی پابند کیا ہے کہ وہ عورت کی خواہشات وجذبات واحساسات کا بھی
لحاظ رکھیں اور اس کی رضامندی کے بغیر اسکا نکاح نہ کریں , کیونکہ اس عورت نے ہی
اپنی ساری زندگی اس شخص کے ساتھ گزارنی ہے جسکے حبالہ عقد میں اسے دیا جارہا ہے ۔
بلکہ شریعت نے تو یہاں تک عورت کو رخصت واجازت دی ہے کہ اگر اسکے اولیاء اسکی مرضی
کے بغیر کہیں اسکی شادی کر بھی دیں تو بھی وہ اس نکاح کو رد کر سکتی ہے ۔ سیدنا
عبد الرحمن بن یزید بن جاریہ اور مجمع بن یزید بن جاریہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں
: فَإِنَّ خَنْسَاءَ بِنْتَ خِذَامٍ أَنْكَحَهَا أَبُوهَا
وَهِيَ كَارِهَةٌ فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ یعنی خنساء بنت خذام انصاریہ رضی عنہا کا نکاح انکے والد نے کر دیا تھا جبکہ وہ
اسے ناپسند کرتی تھی تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو رد فرما دیا
تھا [صحیح بخاری کتاب الحیل باب النکاح (6969)]
صورت مسؤلہ میں بھی چونکہ بچی اس نکاح پر راضی نہیں ہے لہذا
اس بناء پر اس بچی کے اولیاء کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اسکا نکاح ایسے شخص سے
کریں جسے وہ ناپسند کرتی ہے اور جب ناپسند کرنی وجہ بھی عقیدہ کی خرابی اور عمل
میں کوتاہی اور داڑھی مونڈنے و کاٹنے کی حرام کمائی ہے , تو یہ سبب اور زیادہ قوی
ہو جاتا ہے ۔
اسی طرح وٹہ سٹہ کی شادی کو بھی شریعت اسلامیہ نے اسلام سے
خارج قرار دیا ہے ۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ذی شان ہے : لَا
شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ یعنی اسلام میں وٹہ سٹہ جائز نہیں
[صحیح مسلم کتاب
النکاح باب تحریم نکاح الشغار وبطلانہ (1415)]
مذکورہ بالا دلائل کی رو سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ صورت
مسؤلہ میں لڑکے کے اولیاء کے لیے یہ نکاح کرنا درست نہیں ہے ۔ وہ اس سے رک جائیں
اور شریعت اسلامیہ کی حدود کو نہ پھلانگیں , کتاب وسنت سے راہنمائی لیتے ہوئے اپنے
تمام تر معاملات کو حل کریں اور بچی کے نکاح کے لیے بھی شریعت اسلامیہ سے ہی
رہنمائی لیں ۔ اور یاد رکھیں کہ اللہ تعالى اپنی حدود توڑنے والوں کو سخت ترین سزا
دیتا ہے اور ان حدود کی حفاظت کرنیوالوں کا حامی وناصر ہوتا ہے ۔
ہذا واللہ
تعالى أعلم وعلمہ اکمل واتم ورد العلم الیہ اسلم والشکر والدعاء لمن نبہ وارشد
وقوم
وکتبہ
ابو عبد الرحمن محمد رفیق
طاہر
مدرس جامعہ دار الحدیث
المحمدیہ
عام خاص باغ ملتان
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق