• فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

    فتاوی طاہریہ پر خوش آمدید

  •  اہل الحدیث فارم

    ملتقی اہل الحدیث

  • موقع أهل الحديث

    موقع أهل الحديث

  • اہل الحدیث ڈاٹ کام

    اہل الحدیث ڈاٹ کام

  • دین خالص

    دین خالص

الثلاثاء، مايو 22

دو جگہ پر ڈیوٹی کرنا جائز ہے جبکہ ایک جگہ پر یہ پابندی بھی ہو کہ کسی دوسری جگہ ملازمت نہیں کرنی ؟؟؟


سوال : میں گورنمنٹ کے ایک ذیلی ادارہ میں میڈیکل آفیسر کی نوکری کرتا ہوں اور وہاں سے تنخواہ لیتا ہوں , میری ڈیوٹی کے اوقات شام 9 بجے سے لیکر صبح 8 بجے تک ہیں ۔ اس ہسپتال کے سربراہ کو کہیں بھی کسی بھی ہسپتال میں میرے اعلى تعلیم کے لیے ٹریننگ کرنے پر اعتراض نہ ہے۔
اسی طرح میں گورنمنٹ کے ایک ہسپتال میں اعلى تعلیم کے لیے ٹریننگ کرتا تھا , جہاں سے میں وظیفہ حاصل کرتا تھا , وہاں میرے ڈیوٹی صبح 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک تھے ۔ اس ہسپتال کے سربراہ کی طرف سے تمام اعلى تعلیم کے لیے ٹریننگ حاصل کرنے والوں پر کسی بھی دوسری جگہ پر نوکری کرنا منع ہے ۔
سوال یہ ہے کہ میرا دونوں ہسپتالوں میں مختلف اوقات میں ان کی مقرر کردہ مکمل ڈیوٹی دینا شرعا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ [ سنن أبي داود كتاب الأقضية باب في الصلح (3594)]
مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں ۔
اور مؤخر الذکر ہسپتال جس میں آپ اعلى تعلیم کے لیے ٹریننگ کرتے ہیں انہوں نے آپکا وظیفہ مقرر کر رکھا ہے اور یہ شرط بھی لگائی ہے کہ آپ دوسری جگہ نوکری نہ کریں ۔ 
یعنی وہ وظیفہ ملتا ہی اس شرط پر ہے کہ آپ کہیں ملازمت نہ کریں ۔ اگر آپ انکی اس شرط پر پورا نہ اتریں اور انکو علم ہو جائے تو وہ یا تو آپکو خارج کر دیں یا کم از کم وظیفہ مقررہ بند کر دیں گے ۔
لہذا صورت مذکورہ میں دونوں جگہ پر نوکری کرنا آپکے لیے شرعا درست نہیں ہے ۔
ھذا واللہ تعالى اعلم , وعلمہ أکمل وأتم ورد العلم الیہ أسلم والشکر والدعاء لمن نبہ وأرشد وقوم
author

بقلم

ابو عبدالرحمٰن محمد رفیق الطاہر

نئے فتاوی جات سے باخبر رہیں

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق