السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ:۔
میں نے کسی دوسرے فورم پر ایک تحریر شیئر کی "انسان بُرا ہوتا ہے زمانہ نہیں" اُس تحریر میں چند احادیث کو شیئر کیا میں نے ۔ ایک تحریر پر کسی بھائی نے سوال اُٹھایا کہ جو حدیث میں نے شیئر کی اُس حدیث کا ترجمہ عربی متن میں کہاں موجود ہے نیچے دی گئی احادیث کو دیکھیں اور جو ہائی لائٹ کیا ہے اُس کو بھی دیکھیں
قال النبی صلی اللہ علیھ وسلم قال اللہ تعالی یوذینی ابن آدم، یسب الدھر بیدی الامر اقلب اللیل والنھار۔
ترجمعہ: “ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، زمانے کو بُرا بھلا کہتا ہے۔ حالانکہ میں ہی زمانہ کا پیدا کرنے والا ہوں۔ میرے ہی ہاتھ میں تمام کام ہیں، میں جس طرح چاہتا ہوں رات اور دن کو پھیرتا رہتا ہوں۔“
(صحیح بخاری(مترجم) جلد 8 صفحہ 596 کتاب التوحید جلد نمبر 6 کتاب التفسیر باب وما یھلکنا الا الدھر۔ صفحہ نمبر 386)
بھائی کا سوال یہ تھا
"ہیڈ لائن کیے گئے الفاظ عربی متن میں کس لفظ کا ترجمہ ہیں؟ "
مجھے تھوڑی رہنمائی درکار ہے۔ کیا احادیث کا اردو میں ترجمہ کیا جائے تو کیا ورڈ ٹو ورڈ لکھتے ہیں یا صرف مفہوم بیان کر دیا جائے تو کافی ہوتا ہے۔
عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے یہ بھی ایک حدیث ہے لیکن یہ حدیث صرف اتنی نہیں بلکہ تھوڑی لمبی لیکن حدیث کا مفہوم بیاں کرنا کہ اس میں حدیث میں یہ کہا گیا ہے یعنی کہ شارٹ کٹ استعمال کرنا کیا ایسا کرنے میںکوئی قباحت تو نہیں؟
الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب
۱۔ " حالانکہ میں ہی زمانہ کا پیدا کرنے والا ہوں"
اس حدیث میں کہیں موجود نہیں ہے
ہاں البتہ بعض دیگر احادیث میں یہ الفاظ آتے ہیں " میں ہی زمانہ ہوں" (صحیح بخاری :4826)
"میں جس طرح چاہتا ہوں رات اور دن کو پھیرتا رہتا ہوں"
میں سے " میں جس طرح چاہتا ہوں" کے الفاظ اس حدیث میں مذکور نہیں ۔ البتہ بعض دیگر احادیث میں یہ الفاظ آتے ہیں " میں جب چاہوں گا اس (گردش لیل ونہار) کو روک لوں گا (صحیح مسلم :۲۲۴۶)
۲۔ طویل حدیث میں سے کچھ حصہ بیان کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اسکا مفہوم نہ بدلے ۔ لیکن کسی بھی حدیث میں اپنی طرف سے الفاظ داخل کرکے رسول اللہ صلى علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دینا شرعا ممنوع وحرام ہے ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق