۱۔ ایک شخص گورنمنٹ کی نوکری کر رہا ہے ڈیوٹی کا
دورانیہ آٹھ گھنٹے ہے اور اس کا کام کمپیوٹر پر AUTOCAD SOFTWARE کے ذریعے
مختلف پروجیکٹس کے ڈیزائن بنانا ہے۔اس شخص کو کام کے لیے ایک کمپیوٹر بھی
مہیا کیا گیا ہے۔ اب اس ڈٰیزائنر کا افسر یعنی BOSS اس کو کام کرنے کے
لیے دیتا ہے۔
بعض اوقات وہ ڈٰیزائنر فارغ ہوتا ہے۔ یعنی اس کو دیا گیا کام اس نے مکمل کر دیا ہے۔ اور مزید کام اس کو کرنے کے لیے نہیں دیا گیا۔
اب وہ ڈیوٹی پر حاضر بھی ہے اور کام بھی کرنے کے لیے نہیں ہے۔
اب کیا اس فارغ وقت کے دوران وہ آفس والے کمپیوٹر پر اپنا ذاتی کام کرسکتا ہے یعنی اگر وہ AUTOCAD کا کام نوکری کے علاوہ بھی کرتا ہے۔
یاد رہے کہ دفتر کا in time 08:15am ہے اور out time 03:50pm ہے۔ اور یہ کام کرنے والا شخص اکثر 15 منٹ جلدی یعنی 08:00am بجے دفتر آتا ہے اور اکثر پانچ یا سات منٹ لیٹ یعنی 03:55pm یا 03:57pm بجے دفتر سے چھٹی کرتا ہے۔
۲۔ اور اگر اجازت طلب کرنی ہو تو وہ ڈیزائنر کس سے طلب کرے۔ اپنے افسر سے جو اسے کام کرنے کے لیے دیتا ہے؟؟ یا کسی اور سے؟؟ کیونکہ کمپیوٹر اور بجلی گورنمنٹ کی ملکیت ہے۔
۳۔ اور دوسری بات یہ کہ کام پر کچھ منٹ جلدی آنا اور کچھ منٹ لیٹ جانا۔ کیا اس فالتو ٹائم کو پیسوں میں تبدیل کر کے اتنی بجلی اور کمپیوٹر استعمال کیا جا سکتا ہے؟؟؟؟؟ یا پھر اجازت شرط ہے؟؟؟؟؟
قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت درکار ہے۔
۱۔ اگر اسے یہ کام کرنے کی اجازت ہو تو وہ ایسا کر سکتا ہے ۔ وگرنہ نہیں ۔
اجازت خواہ لفظی ہو یا عرفی , بہر حال ضروری ہے ۔
۲۔ اجازت اس سے طلب کی جائے جسے سرکار نے اس ادارہ میں باختیار بنایا ہے ۔
۳۔ نہیں ہر گز نہیں !
بعض اوقات وہ ڈٰیزائنر فارغ ہوتا ہے۔ یعنی اس کو دیا گیا کام اس نے مکمل کر دیا ہے۔ اور مزید کام اس کو کرنے کے لیے نہیں دیا گیا۔
اب وہ ڈیوٹی پر حاضر بھی ہے اور کام بھی کرنے کے لیے نہیں ہے۔
اب کیا اس فارغ وقت کے دوران وہ آفس والے کمپیوٹر پر اپنا ذاتی کام کرسکتا ہے یعنی اگر وہ AUTOCAD کا کام نوکری کے علاوہ بھی کرتا ہے۔
یاد رہے کہ دفتر کا in time 08:15am ہے اور out time 03:50pm ہے۔ اور یہ کام کرنے والا شخص اکثر 15 منٹ جلدی یعنی 08:00am بجے دفتر آتا ہے اور اکثر پانچ یا سات منٹ لیٹ یعنی 03:55pm یا 03:57pm بجے دفتر سے چھٹی کرتا ہے۔
۲۔ اور اگر اجازت طلب کرنی ہو تو وہ ڈیزائنر کس سے طلب کرے۔ اپنے افسر سے جو اسے کام کرنے کے لیے دیتا ہے؟؟ یا کسی اور سے؟؟ کیونکہ کمپیوٹر اور بجلی گورنمنٹ کی ملکیت ہے۔
۳۔ اور دوسری بات یہ کہ کام پر کچھ منٹ جلدی آنا اور کچھ منٹ لیٹ جانا۔ کیا اس فالتو ٹائم کو پیسوں میں تبدیل کر کے اتنی بجلی اور کمپیوٹر استعمال کیا جا سکتا ہے؟؟؟؟؟ یا پھر اجازت شرط ہے؟؟؟؟؟
قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت درکار ہے۔
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
اجازت خواہ لفظی ہو یا عرفی , بہر حال ضروری ہے ۔
۲۔ اجازت اس سے طلب کی جائے جسے سرکار نے اس ادارہ میں باختیار بنایا ہے ۔
۳۔ نہیں ہر گز نہیں !
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق