۱۔ ۔ : عورت اپنے باپ ، بھائی
، خاوند ، بیٹے یا کسی محرم کی موجودگی میں جبکہ وہ گھر پر ہوں یا آفس میں
ہی کیوں نہ ہوں اور وہ سارے کام خود سے کر سکتے ہوں تو کیا عورت کا
ڈرائیونگ کر کے وہ سب کام کرنا درست ہے؟
۲۔۔ : (میرا خیال ہے کہ کوئی مرد گوارا نہیں کرے گا کہ اپنی موجودگی میں ماں ، بہن ، بیوی ، بیٹی کو ڈرائیونگ کی اجازت دے اورخود ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ، اللہ اعلم ۔ لیکن ایسے مردوں کی کمی نہیں- )
۱۔ : ہر وہ کام جو مرد خود کر سکتا ہو اور عورت کے لیے بھی اس کام میں شرعی ممانعت نہ ہو تو مرد کی موجودگی میں وہ کام عورت بھی سرانجام دے سکتی ہے ۔ اس میں کوئی حرج نہیں ۔
اسکی دلیل وہ تمام تر احادیث ہیں جن میں افضل کا مفضول کی اقتداء میں نماز وغیرہ ادا کرنا اور مفضول کا امامت کبرى و دیگر امارات پر فائز ہونا ہے۔
۲۔: مرد میں شفقت و رأفت ورحمت اور انس محبت اور صلاح وخیر خواہی کا جذبہ موجود ہو تو یہ کام ہو سکتا ہے ۔
بلکہ ہر صاحب ذوق سلیم راعی اپنی رعیت کو کوئی بھی جائز ودرست کام بخوبی سر انجام دیتا دیکھ کر خوش ہوتا ہے ۔
۲۔۔ : (میرا خیال ہے کہ کوئی مرد گوارا نہیں کرے گا کہ اپنی موجودگی میں ماں ، بہن ، بیوی ، بیٹی کو ڈرائیونگ کی اجازت دے اورخود ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ، اللہ اعلم ۔ لیکن ایسے مردوں کی کمی نہیں- )
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
۱۔ : ہر وہ کام جو مرد خود کر سکتا ہو اور عورت کے لیے بھی اس کام میں شرعی ممانعت نہ ہو تو مرد کی موجودگی میں وہ کام عورت بھی سرانجام دے سکتی ہے ۔ اس میں کوئی حرج نہیں ۔
اسکی دلیل وہ تمام تر احادیث ہیں جن میں افضل کا مفضول کی اقتداء میں نماز وغیرہ ادا کرنا اور مفضول کا امامت کبرى و دیگر امارات پر فائز ہونا ہے۔
۲۔: مرد میں شفقت و رأفت ورحمت اور انس محبت اور صلاح وخیر خواہی کا جذبہ موجود ہو تو یہ کام ہو سکتا ہے ۔
بلکہ ہر صاحب ذوق سلیم راعی اپنی رعیت کو کوئی بھی جائز ودرست کام بخوبی سر انجام دیتا دیکھ کر خوش ہوتا ہے ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق