السلام علیکم
صحیح بخاری ح:5213 کی روشنی میں لڑکی والوں کا اپنی بیٹی کورخصتی کےبعد سات دن سے پہلے اپنے گھر لیجانا کیسا ہے؟
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جب بھی خاوند اجازت دے وہ اپنے میکے جاسکتی ہے ۔ خواہ دوسرے دن چلی جائے یا تیسرے دن یا مہینوں بعد ‘ ہاں مکلاوے کی رسم درست نہیں ہے !
اس حدیث میں بیویوں کے مابین دن تقسیم کرنے کا طریقہ کار ذکر ہوا ہے ۔ کہ جب کوئی شخص دوسری یا تیسری یا چوتھی شادی کسی ثیبہ سے کرے تو اسکے پاس تین دن تک ٹھہرے اور اسکے بعد باریاں تقسیم کرے اور اگر باکرہ سے کرے تو سات دن اس بیوی کا حق ہے کہ اسکے پاس ٹھہرے پھر اسکے بعد دن تقسیم کیے جائیں ۔ یعنی جتنے دن ایک بیوی کے پاس لگائے اتنے ہی دوسری کے پاس ۔
خوب سمجھ لیں ۔
صحیح بخاری ح:5213 کی روشنی میں لڑکی والوں کا اپنی بیٹی کورخصتی کےبعد سات دن سے پہلے اپنے گھر لیجانا کیسا ہے؟
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جب بھی خاوند اجازت دے وہ اپنے میکے جاسکتی ہے ۔ خواہ دوسرے دن چلی جائے یا تیسرے دن یا مہینوں بعد ‘ ہاں مکلاوے کی رسم درست نہیں ہے !
اس حدیث میں بیویوں کے مابین دن تقسیم کرنے کا طریقہ کار ذکر ہوا ہے ۔ کہ جب کوئی شخص دوسری یا تیسری یا چوتھی شادی کسی ثیبہ سے کرے تو اسکے پاس تین دن تک ٹھہرے اور اسکے بعد باریاں تقسیم کرے اور اگر باکرہ سے کرے تو سات دن اس بیوی کا حق ہے کہ اسکے پاس ٹھہرے پھر اسکے بعد دن تقسیم کیے جائیں ۔ یعنی جتنے دن ایک بیوی کے پاس لگائے اتنے ہی دوسری کے پاس ۔
خوب سمجھ لیں ۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق