کیا غیر مسلم کو صدقہ دیا جاسکتا ہے
الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب وإلیہ المرجع والمآب
نہیں !
صدقات خواہ فرضی ہوں یا نفلی صرف اور صرف اہل ایمان میں سے آٹھ قسم کے افراد کے لیے ہی ہیں جنکا ذکر اللہ تعالى نے سورۃ التوبہ کی آیت نمبر ساٹھ میں فرمایا ہے ۔
کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو صدقات کے بارہ میں فرمایا تھا کہ یہ اہل ایمان کے اغنیاء سے وصول کرکے اہل ایمان کے فقراء وغیرہ کو ہی دیا جائے۔ صحیح بخاری کتاب الزکاۃ
ہاں غیر مسلم کو تحفہ دیا جاسکتا ہے ۔ غنائم و خراج وفیء وجزیہ کا مال بھی غیر مسلموں پر خرچ کیا جاسکتا ہے
صدقات خواہ فرضی ہوں یا نفلی صرف اور صرف اہل ایمان میں سے آٹھ قسم کے افراد کے لیے ہی ہیں جنکا ذکر اللہ تعالى نے سورۃ التوبہ کی آیت نمبر ساٹھ میں فرمایا ہے ۔
کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو صدقات کے بارہ میں فرمایا تھا کہ یہ اہل ایمان کے اغنیاء سے وصول کرکے اہل ایمان کے فقراء وغیرہ کو ہی دیا جائے۔ صحیح بخاری کتاب الزکاۃ
ہاں غیر مسلم کو تحفہ دیا جاسکتا ہے ۔ غنائم و خراج وفیء وجزیہ کا مال بھی غیر مسلموں پر خرچ کیا جاسکتا ہے
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق