عورت سر کا مسح کیسے اور کہاں تک کرے؟
مرد وعورت کا وضوء کرنیکا اور نماز پڑھنے کا ایک ہی طریقہ ہے ۔ اس میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
اور مسح کے بارہ میں اللہ تعالى نے قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرمایا ہے "وامسحوا برؤوسکم " اور اپنے سروں کا مسح کرو۔ المائدہ :۶
یعنی جسم کے جس حصہ پر لفظ رأس صادق آتا ہے اسکا مسح کیا جائے ۔ اور سر کا آغاز ماتھے کے اختتام سے ہوتا ہے اور سرکے پچھلی جانب گدی تک کا حصہ سر کہلاتا ہے ۔ اسی لیے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم اس تمام تر حصہ پر مسح فرماتے تھے اور اسی کی تعلیم دیتے تھے ۔ اور کان بھی سر ہی میں شامل ہیں لہذا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ان کا بھی مسح فرماتے تھے ۔
طریقہ کار یہ تھا کہ سرکے اگلے حصہ پر ہاتھ رکھتے اور انہیں پیچھے کی جانب کو گھوماتے حتى کہ گدی تک پہنچ جاتے اور پھر وہاں سے ہاتھوں کو اسی انداز میں سر پر پھیرتے ہوئے واپس لے آتے (صحیح بخاری 185) اور پھر شہادت والی انگلی کے ساتھ کان کے اندرونی اور انگوٹھے کے ساتھ بیرونی حصہ کا مسح فرماتے ۔(سنن نسائی :۱۰۲)
الجواب بعون الوهاب ومنه الصدق والصواب وإليه المرجع والمآب
مرد وعورت کا وضوء کرنیکا اور نماز پڑھنے کا ایک ہی طریقہ ہے ۔ اس میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
اور مسح کے بارہ میں اللہ تعالى نے قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرمایا ہے "وامسحوا برؤوسکم " اور اپنے سروں کا مسح کرو۔ المائدہ :۶
یعنی جسم کے جس حصہ پر لفظ رأس صادق آتا ہے اسکا مسح کیا جائے ۔ اور سر کا آغاز ماتھے کے اختتام سے ہوتا ہے اور سرکے پچھلی جانب گدی تک کا حصہ سر کہلاتا ہے ۔ اسی لیے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم اس تمام تر حصہ پر مسح فرماتے تھے اور اسی کی تعلیم دیتے تھے ۔ اور کان بھی سر ہی میں شامل ہیں لہذا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ان کا بھی مسح فرماتے تھے ۔
طریقہ کار یہ تھا کہ سرکے اگلے حصہ پر ہاتھ رکھتے اور انہیں پیچھے کی جانب کو گھوماتے حتى کہ گدی تک پہنچ جاتے اور پھر وہاں سے ہاتھوں کو اسی انداز میں سر پر پھیرتے ہوئے واپس لے آتے (صحیح بخاری 185) اور پھر شہادت والی انگلی کے ساتھ کان کے اندرونی اور انگوٹھے کے ساتھ بیرونی حصہ کا مسح فرماتے ۔(سنن نسائی :۱۰۲)
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق